جموں//وزیر اعلیٰ کے مشیر پروفیسر امیتابھ مٹو نے یہاں تعلیم دانوں اور سول سوسائٹی کے سرکردہ ارکان کی ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری بھی نبھانی چاہئیے تا کہ سماج کے پچھڑے طبقے مستفید ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بڑے سکولو ں نے سکولوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے جو ملٹی نیشنل کارپوریشن کی طرز پر اپنی فرنچائیزی بیچ رہے ہیں جس کی وجہ سے معیاری تعلیم کا بنیادی تصور متاثر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کو محض ایک تجارت کے طور پر اختیار کرنے کو برداشت نہیں کرے گی اور اس عمل میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیم ایک تبدیلی کے مرحلے سے گذر رہی ہے اور ریاستِ جموں کشمیر کو بھی ترقی کے اس سفر کا حصہ بننا چاہئیے اور اس حوالے سے پرائیویٹ سکولوں کو ایک اہم رول ادا کرنا ہو گا ۔ پروفیسر مٹو نے کہا کہ یہ سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا خواب تھا کہ ریاست میں نجی سکولوں کو شامل کر کے معیاری تعلیم کو عام کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ طلاب اور والدین کو تجارت کے نام پر نہیں لوٹا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ نالج انشیٹو ریاست میں شعبہ تعلیم کی شانِ رفتہ کو بحال کرنے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبے پر کام کر رہی ہے ۔ میٹنگ میں ایم ایل سی ظفر منہاس ، وائس چیئرمین اردو کونسل پروفیسر اشوک ایمہ، وائس چانسلر سنٹرل یونیورسٹی جموں سنیت گپتا اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں ۔