جموں // پاکستا ن کے حق میں نعرہ بازی کے معاملہ پرقانون سازیہ کے اندر اور باہر سوموار کے روز بھی سیاسی گرما گرمی جاری رہی ۔ بی جے پی اراکین نے ممبر اسمبلی سونہ واری محمد اکبر لون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، دوسری طرف نیشنل کانفرنس کا کہنا تھا کہ انہیں کسی کے سرٹفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔ اس بیچ کونسل میں بی جے پی ممبران نے ایوان سے واک آئوٹ بھی کیا ۔قانون ساز اسمبلی کی کارروائی سوموار کو جیسے ہی شروع ہوئی تو اس دوران بی جے پی ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ممبر اسمبلی سوانہ واری محمد اکبر لون کی طرف سے گذشتہ روز ایوان میں دئے پاکستان کے حق میں نعرے پر اعتراض جتلاتے ہوئے اُن سے صفائی پیش کرنے کا مطالبہ کیا ۔اُس پر این سی کے علی محمد ساگر، میاں الطاف ، محمد شفیع اوڑی اور الطاف کلو نے محمد اکبر لون کے دفاع میں اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ ایوان کے ہر ایک ممبر نے آئین اور ملک کی سالمیت اور وقار کی سربلندی کا حلف لیا ہے اور اُن میں کوئی دورائے نہیں ہے ۔علی محمد ساگر نے کہا کہ اسپیکر نے بھی ایسے الفاظ کہے جبکہ مرکز میں آپ کے کچھ ایک لیڈران بھی ایسے بیان دیتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجرو ح ہوتے ہیں اُن کو کیوں کسی نے کچھ نہیں کہا، اس پر دوبارہ بی جے پی ممبران احتجاج کرتے رہے، ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی نے بیچ بچائو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں ایوان میں کوئی بات ہوئی اور پھر اُس بات کو ایوان سے حذف کیا گیا ۔اب کوئی مقصد نہیں ہے کہ اس بات کو دوبارہ سے ہوا دی جائے ،تاہم بی جے پی ممبران مسلسل احتجاج کرتے رہے ۔اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمن ویر ی نے اگرچہ ممبران کو چپ کرانے کی کوشش کی تاہم وہ دوبارہ محمد اکبر لون کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ۔ ویری نے مداخلت کرتے ہوئے سنجوہ حملہ کی مکمل تفصیلات ایوان میں پیش کی اور ممبر ان سے اپیل کی کہ ایوان کو آخری دن احسن طریقے سے چلنے دیں ۔اس دوران ممبر اسمبلی سونہ واڑی اپنی نشست پر بیٹھ کر اپنے خلاف ہو رہے احتجاج کو دیکھتے رہے تاہم اُنہوں نے اس کے رد عمل میں ایک لفظ بھی نہیں بولا، تاہم بی جے پی کے احتجاج پر ممبر اسمبلی پہلگام الطاف کلو نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ لاشوں پر سیاست کر رہے ہو ۔ ممبر اسمبلی اوڑی محمد شفیع اوڑی نے کہا کہ اُس پر پارٹی کا کیا رد عمل تھا اُس کو پارٹی نے پہلے ہی سامنے رکھا ہے اور اپنا موقف ظاہر کیا ہے ۔پارٹی نے کہا کہ یہ بیان ممبر کا زاتی ہو سکتا ہے لیکن پارٹی اس کے ساتھ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ اُس کو ہوا دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ممبر اسمبلی خانیار نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ ریاست اُس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے اس لئے ایوان میں گروہ بندی کو ہوا نہیں دی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ممبران اُس بات کو بہ خوب سمجھتے ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے کہ اُس جماعت نے اُس ایوان کی سربلندی کیلئے اپنی کئی ایک بزرگ ساتھوں کی قربانی دی ہے ۔ممبر اسمبلی خانصاب حکیم محمد یاسین نے کہا کہ ایوان میں جو بھی باتیں ایسی ہوئی ہیں اُن کو ایوان سے اُس وقت حذف کیا گیا ہے اور اب اس سے کچھ حل نہیں نکلے گا کہ ہم اُس کو دوبارہ ایوان میں لائیں۔آخر پر اسمبلی کے اسپیکر اور پارلمانی امور کے وزیر عبدارحمن ویری کی مداخلت سے بی جے پی ممبران کو خاموش کرایاگیا۔اسپیکر نے ممبران سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ آئندہ ہم سے اُس طرح کی غلطی دوبارہ نہ ہو جس کے بعد ایوان میں احتجاج ختم ہوا ۔ادھر ایوان بالا میں بھی بی جے پی ممبران نے محمد اکبر لون کی طرف سے گذشتہ روز دئے گے نعرے پر احتجاج کرتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ۔ممبران کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کو اپنا موقف ظاہر کرنا چاہئے اس پر اگرچہ کونسل کے چیئرمین حاجی عنایت اللہ نے ممبران سے پر امن طور پر بیٹھنے کو کہا تاہم ممبران احتجاج کرتے رہے ۔اُن کا کہنا تھا اکبر لون کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور آخر پر ممبران نے ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔اس سے قبل بی جے پی ممبران نے اسمبلی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی ایوان کے باہر بھی احتجاج کیا اور اکبر لون کے خلاف نعرہ بازی کی ۔