ایجنسیز
پشاور// شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش کار بم دھماکے میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ 13 دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ یہ حملہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل میں پیش آیا، جہاں خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن کی پچھلی جانب دے ماری، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔دھماکے کی شدت کئی میل دور تک محسوس کی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کے فوراً بعد فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔پولیس کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ سے پانچ لاشیں نکال لی ہیں، جن میں میاں، بیوی، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔ زخمیوں میں کم از کم چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔دھماکے سے قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس اسٹیشن حملے کا بنیادی ہدف تھا، تاہم تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ اسے ریاستی اداروں کی کارروائی قرار دیا۔