سلیم یوسف راتھر
سرکاری تعلیمی نظام کئی ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ اس کی شروعات بجٹ کی فراہمی سے ہوتی ہے، جس کے بعد بنیادی ڈھانچہ جیسے کلاس روم، لائبریریاں اور تجربہ گاہیں آتی ہیں۔ لیکن بچوں کی تعلیم اور تربیت میں سب سے اہم کردار ایک استاد کا ہوتا ہے۔ استاد نہ صرف طلبہ کو علم دیتا ہے اور انہیں بہتر زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ اسے تدریس کے علاوہ بھی کئی سرکاری ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں، جن میں بوتھ لیول آفیسر، مردم شماری کے اہلکار اور دیگر انتظامی فرائض شامل ہیں۔
حقِ تعلیم قانون (RTE) 2010 کا مقصد بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ اس قانون کی دفعہ 23 کے تحت مرکزی حکومت کو اس بات کا اختیار دیا گیا کہ وہ اساتذہ کے لیے کم از کم تعلیمی و پیشہ ورانہ اہلیت مقرر کرے۔ اسی بنیاد پر نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) نے ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ (TET) کو ابتدائی اسکولوں کے اساتذہ کی تقرری کے لیے لازمی شرط قرار دیا۔اس کا مقصد تدریسی معیار کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم 2025 تک کئی ریاستی حکومتیں اس قانون پر مکمل عمل درآمد نہ کرا سکیں۔ اس صورتحال میں سپریم کورٹ نے انجمن اشاعتِ تعلیم ٹرسٹ بنام ریاست مہاراشٹر مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے نہ صرف نئی تقرریوں بلکہ پہلے سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے بھی ٹی ای ٹی کو لازمی قرار دے دیا۔ یوں ایک ایسا امتحان جو تقرری کی شرط تھا، ہزاروں حاضر سروس اساتذہ کے لیے پریشانی اور بے چینی کا سبب بن گیا۔ اس فیصلے کے خلاف ملک بھر کی اساتذہ تنظیموں نے شدید احتجاج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کئی برسوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ پر ٹی ای ٹی نافذ کرنا ملازمت کی شرائط میں ماضی سے مؤثر تبدیلی کے مترادف ہے، جس سے لاکھوں اساتذہ کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔
مختلف ریاستی حکومتوں نے بھی سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کیں۔ تاہم 29مئی 2026کو سپریم کورٹ نے 65 درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے صرف اتنی رعایت دی کہ حاضر سروس اساتذہ کو ٹی ای ٹی پاس کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کے تعلیمی مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
جموں و کشمیر میں حقِ تعلیم قانون 31اکتوبر 2019سے نافذ ہوا۔ اس کے باوجود حکومت ٹی ای ٹی کے مکمل نفاذ میں کامیاب نہ ہو سکی۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ 2015کے بعد ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اساتذہ کی کوئی بڑی بھرتی نہیں ہوئی۔موجودہ حکومت اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر چکی ہے، لیکن ابتدائی جائزے سے یہی لگتا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک قانون پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے حق میں فیصلہ آنا مشکل ہے۔دوسرا پہلو۔ ہر ادارے کی کامیابی کا دارومدار اہل، باصلاحیت اور باحوصلہ افراد پر ہوتا ہے۔ ملازمت کے بعد بھی ملازمین کو نئی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ یہی اصول تدریسی شعبے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
آج تدریسی طریقوں، بچوں کی نفسیات اور مصنوعی ذہانت (AI) میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، اس لیے اساتذہ کی مسلسل تربیت ضروری ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹی ای ٹی کے ذریعے پہلے سے منتخب اور برسوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی صلاحیت کو نہیں ناپا جا سکتا۔ ایسے اساتذہ کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی حد سے تجاوز محسوس ہو سکتا ہے، کیونکہ حقِ تعلیم قانون میں حاضر سروس اساتذہ پر ٹی ای ٹی کے اطلاق کا واضح ذکر موجود نہیں ہے۔ لیکن جب انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔اگر عدالت نے ٹی ای ٹی کو ماضی سے مؤثر انداز میں نافذ کیا ہے تو اس کی بنیادی وجہ مختلف ریاستی حکومتوں کی جانب سے قانون پر بروقت عمل درآمد نہ کرنا ہے۔ اس لیے اصل ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ اب اس پیچیدہ صورتحال کا مستقل حل صرف پارلیمنٹ ہی قانون سازی کے ذریعے نکال سکتی ہے۔المختصر مسئلے کا حل ٹی ای ٹی کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ جانچ اور تربیت کے ایسے نظام میں ہے جس کا مقصد ’’اساتذہ کو بہتر استاد بنانا‘‘ ہو، نہ کہ انہیں ملازمت سے محروم کرنا۔ انتظامیہ کی غفلت کی سزا اساتذہ کو نہیں ملنی چاہیے۔
(مضمون نگار گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول زچھلدارہ میں مدرس ہیں)