یاد ِ ماضی
ممتاز جہاں
کتا ہنسل بھی میرے تصور میں آیا۔پاپا کے جیل جانے کے بعد ہمیشہ اُداس بیٹھا ہوا کرتا تھا ،کئی دن کھانا پینا چھوڑدیا۔ہمارے بہلانے کے باوجود اپنے مالک کی کمی کو بھُلا نہیں پارہا تھا ۔پاپا کے آنے کے وقت اُن کی خوشبو دور سے ہی محسوس کرتا تھا ،اُن کے اِرد گرد پھر کے اپنی خواہش کا اظہار کرتا ۔پاپا بھی اُس کے کھانے اورنہلانے کا خاص خیال رکھتے تھے۔اُسے ٹریننگ دی جاتی تھی ،جانور تو انسان کے وفادار ہوتے ہیں ،خاص کر کتّا۔پاپا کی غیر حاضری کو برداشت نہ کرسکا ،کچھ دنوں کے بعد ہی مرگیا۔
وکالت کے زمانے میں پاپا اپنی خالہ سے ملنے لامر گھوڑے پر جارہے تھے ۔اُن دنوں اُس کے لئے کوئی ٹرانسپورٹ نہیں تھا ۔راستے میں مکئی کا کھیت پڑتا تھا ۔انہوں نے دیکھا ایک آدمی دس بارہ سالہ لڑکے کو پیٹ رہا ہے،بچہ بے چارہ رو رہا تھا ،پاپا کے پوچھے جانے پر آدمی نے بتایا ،یہ میرا بیٹا ہے ،مجھ سے چھلی مانگ رہا ہے۔جبکہ کاشت کار ہوں ،میرا مالک مجھے نکال دے گا اور میری روٹی روزی اسی سے بندھی ہوئی ہے۔پاپا کا کہنا ہے ،میرے دل میں خواہش ہوئی ،اگر اللہ نے چاہا مجھے اقتدار ملا تو انشاء اللہ میں اس جاگیرداری ،چکداری نظام کو بدل دوں گا۔تاریخ گواہ ہے کہ پاپا جب ریونیو منسٹر تھے تو انہوں نے جاگیردارانہ نظام کو بدل کر زمین کاشت کاروں کے حق میں قانون بنایا۔
جیساکہ میں نے بتایا ،جیل میں پاپا بحیثیت وکیل سازش کیس کے خلاف لڑ رہے تھے۔سازش کیس میں ہیومن رائٹس کی طرف سے لندن کا ایک وکیل ڈنگل فٹ جیل میں ان کی مدد کے لئے آیا ،مگر بیگ صاحب کی کارکردگی کو دیکھ کر وکیل کہنے لگا ،اس میں تو ایک کاما(،)لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہے،بیگ بہت اچھا جارہا ہے،اپنا کام خوب نبھا رہے ہیں،وکیل واپس چلا گیا۔وفاق کیس ہار گئی ،نیشنل کانفرنس جیت گئی۔وفاق کے جو حزب مخالف وکیل تھے G.S Pathak،جوبعدمیں ملک کے نائب صدر بنے،جاتے جاتے بیگ صاحب کو خراج تحسین یہ کہتے ہوئے ادا کرگئے کہ بیگ صاحب اگر آپ سیاست میں نہ آتے تو آپ یقیناً ملک کے مایہ ناز وکیلوں میں ہوتے۔
مجھے یاد ہے پاپا اکثر کہتے تھے،کشمیریوں کے لئے دیوار کھڑی کرنا چاہتا ہوں تاکہ دشمن کی آگ سے محفوظ رہیں۔افسوس اب تو لیڈر گرمیوں میں سائیکلوں پر بلیوارڈ سائیڈ پر صبح صبح واک کے لئے نکلتے ہیں،بادام واری میں وقت گذاری کرتے ہیں،برف میں سکیٹنگ کے لئےہِل سٹیشن پر جاتے ہیں،جبکہ میں نے پاپا کو رات دو تین بجے تک کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔صبح نماز فجر کے بعد اپنا قلم،جوکہ قرآن پاک پر رکھا کرتے تھے،اُٹھاکر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتےتھے ،یاربّ کریم،دو جہاں کے مالک ،مجھے راہ دِکھا اور ہمت و حوصلہ دے،کشمیریوں کے حق میں صحیح فیصلہ کرسکوں۔بیگ صاحب نے قانونی صلاحیتوں کے باعث 370قانون رائج کیا،جو کشمیرکو ایک دیوار کا کام دیتا تھا،جسے سات سال پہلے گرادیا گیا۔اُن دنوں بھی عوام کو احتجاج کے باعث مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
1975کو بیگ صاحب ،شیخ صاحب اور باقی قیدیوں کو جیل سے رہا کردیا گیا ۔الیکشن لڑے ،جس میں نیشنل کانفرنس کی جیت ہوئی ۔نئی حکومت شیخ صاحب کی قیادت میں بنائی گئی جس میں پاپا نے ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالا۔پاپا کے لئے ایک اور آزمائش منتظر تھی۔میری چھوٹی بہن ،جس کی شادی کو صرف تین سال ہوگئے تھے،بچے کی پیدائش پر فوت ہوگئی۔پاپا کہیں سرکاری کام میں مصروف تھے،اُنہیں وائرلیس پر اطلاع کردی گئی۔اُس وقت یہ مرادِ آہن عوام کے سچے پرستار، میت پر پھوٹ پھوٹ کر آنسوبہا رہے تھے،ماتم ہی ماتم تھاجو بیان نہیں کیا جاسکتا۔بیٹی دو ننھے بچوں کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوچکی تھی ،یہ دُکھ باپ ہی سمجھ سکتا ہے۔یہاں میں ایک غزل لکھ رہی ہوں جو کسی شاعر نے(نام مجھے یاد نہیں آرہا ہے)اپنے قائد کے لئے لکھی تھی ،جب وہ جیل میں تھے۔
نگاہ نرگس بیمار سوگوار آئی
اُداس اُداس سی اب کے یہ کیوں بہار آئی
چمن سے نگہت گل کس نے یہ چرائی ہے
سدائے بُلبُل آشفتہ دلفگار آئی
ہوئی غم سے بغلگیر عشق پیچاں بھی
کسی کے واسطے شبنم بھی اشکبار آئی
قبائیں چاک نظر آئی لالہ و گُل کی
نگاہ گلچیں بھی آئی تو شرمسار آئی
قفس کی تیلیاں آخر کو ٹوٹ جائیں گی
اے عندلیب چمن مژدہ بہار آئی (1967،تیس مارچ)
وقت گزرتا رہا ۔بیگ صاحب کاموں میں جُٹے رہے،اپنی ذمہ داریوں کو صداقت سے چلا رہے تھے ،دل میں کشمیریوں کا درد لئے ہوئے ایک جذبے کے تحت ۔بیگ صاحب کو دہلی بات چیت کرنے کے لئے بھیج دیا گیا ۔یہاں سے اُنہیں کیبنٹ سے نکال دیا گیا ،بیگ صاحب کو ماحول کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہوا،مگر اُن کو یقین نہیںآرہا تھا کہ شیخ صاحب اُن کے خلاف کوئی غلط قدم اٹھائیں گے۔دونوں نے وقت کے سرد و گرم دن ایک ساتھ گزارے تھے۔بیگ صاحب ہر کام میں آگے آگے تھے،اس کا گواہ کشمیر کا ہر مردو زَن ہے۔عوام نے بیگ صاحب کی قربانیوں کو دیکھ کر ایک کہانی بنائی تھی،شیخ صاحب ،بیگ صاحب ،اندار گاندھی کے مہمان تھے۔اندرا جی اُن کو پرکھنا چاہتی تھی۔پلیٹ میں ایک چھری، ایک سیب شیخ صاحب کے آگے رکھا ۔شیخ صاحب نے کاٹ کے آدھا کھایا ،آدھا رکھا۔بیگ صاحب کے سامنے بھی پلیٹ میں ایک سیب اور چھری رکھی گئی ۔بیگ صاحب نے اٹھا کے پورا ہی کھا یا،یعنی بیگ صاحب کشمیرکا بٹوارا نہیں کرجائیں گے۔اس حد تک کشمیری بیگ صاحب پر بھروسہ کرتے تھے۔
کیبنٹ سے نکال کر پاپا کی صحت بگڑ گئی ،اُنہیں ذہنی شاک لگا کہ جس کاز کے لئے ہم عمر بھر لڑتے رہے ،اپنے ہی ہاتھوں اس کا گلہ گھونٹ دیا۔پاپا شیخ صاحب کی محبت میں گرفتار نہیں تھے،وہ تو کشمیر کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ایک مضبوط اور آزاد ریاست بنانا چاہتے تھے،جو کشمیریوں کا دیرینہ خواب ہےجس کا وعدہ پاٹیشن کے وقت محمد علی جناح نے کیا تھا۔انہوں نے شیخ صاحب میں ایک قائد کی صلاحیتیں دیکھی تھیں۔جیسے پنڈت جواہر لعل نہرو نے شیخ صاحب کو شیر کشمیر اور بیگ صاحب کو فخر کشمیر کا لقب دیا تھا۔بیگ صاحب علالت کی وجہ سے ہسپتال میں ایڈمِٹ تھے،شیخ صاحب مزاج پُرسی کے لئے آئے۔بیگ صاحب آپ مجھے پہچانتے ہیں۔بیگ صاحب مُسکراکر بولے،پچاس سال آپ کو نہیں پہچان پایا ،اب کیا پہچانوں۔
اُن دنوں عوام میں ایک ہی بات گردش کررہی تھی ،بیگم عبداللہ نے شیخ صاحب کو مجبور کیا کہ آپ کی گر رہی ہے ،فاروق کو جو باہر پڑھ رہا تھا ،اپنا جانشین مقرر کردیں،بیگ صاحب پر لوگ بہت زیادہ اعتماد کرنے لگے ہیں ،لوگوں میں ایک اور خیال تھا کہ شیخ صاحب اندرا گاندھی کے بہت قریب ہیں۔شیخ صاحب پھسل جائیں گے،اس طرح ذاتی خواہش کے لئے بہت بڑ ے مشن کو پامال کیا۔
پاپا کے گزرنے پر پورا کشمیر ماتم میں تھا ۔رات بھر لوگ آخری بار اپنے قائد کو دیکھنے کے لئے آرہے تھے ،میت کو برف میں رکھا گیا تھا ۔فاروق عبداللہ بھی رات بھر تولیہ لئے پانی خشک کررہے تھے۔صبح بیگ صاحب کو اپنے آبائی قبرستان اننت ناگ لے گئے۔فاروق عبداللہ بھی گاڑی میں سوار ہوگئے مگر اُس وقت عوام اشتعال میں تھی،اس لئے اُن کو سرینگر میں رہنے کو کہا گیا۔
لوگ اب بھی اپنے مخلص لیڈر کو یاد کررہے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے میں ٹی وی دیکھ رہی تھی ،ایک وُڈ کاروِنگ والا اپنے ورک شاپ پر بیٹھا ہوا ایک جذبے کے تحت زور و شور سے کہہ رہا تھا ،آج کل کے خود غرض زمانہ پرست لیڈر ہمیں کیا دیں گے،انہوں نے ہمارے کشمیر کو بیچا ہے،ہاں اگر کوئی لیڈر تھا تو بیگ صاحب تھے،ایماندار ،عوام کا درد رکھنے والا،انہوں نے وُڈ کاروِنگ کے کام کو محفوظ کرکے ہمارے نام کردیا،ہمارے روزگار کو ہمیشہ کے لئے کردیا۔ہاتھ اُاٹھااُٹھاکر بیگ صاحب کو دعائوں کے ساتھ یاد کررہا تھا۔
بیگ صاحب بہت مذہب پرست تھے۔منسٹری کے دوران وہ ملک کے کسی شہر کے دورے پر گئے تھے ،وہاں قحط سالی ہوئی تھی ،وہ لوگ بسکٹوں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھوک کو مٹانے کی کوشش کررہے تھے،اُن کی بھوک دیکھ کر اُنہیں اس قدر دکھ محسوس ہوا کہ گھر آکر پاپا نے ہم بچوں سے کہا ،اپنے کھانے سے تھوڑا تھوڑا کم کرکے باقی چاول بچائو تاکہ قحط زدہ لوگوں کو بھیج سکوں۔پاپا اس طریقے سے ہماری پرورش کررہے تھے تاکہ ہم میں بھی انسانی ہمدردی کا جذبہ بچپن سے ہی پیدا ہو،الحمداللہ۔روزوں میں ہر افطاری پر بَبرِ بیول اور فرینی مسجد میں اور اپنے ملازموں کو بھجواتے تھے اور یہ کام اپنی نگرانی میں کرواتے تھے۔ہمارا صفائی کرنے والا،جسے ہم شیخ (واتل) کہہ کر پُکارتے تھے ،ہمیں سختی سے منع کرتے تھے اور کہتے کہ اس کا پورا نام غلام محمد کہہ کے آواز دیا کرو۔یہ اُن کا جذبہ ٔ ایمان ،خوف ِ خدا اورانسانیت تھی۔اللہ کا کرم ہے یہ جذبہ ہم بچوں میں بھی موجود ہے۔
مہاراجہ کی حکومت میں پاپا پہلے مسلمان کشمیری منسٹر تھے،جنہوں نے مہاراجہ کی حکومت سے استعفیٰ دے کر آزادی کی تحریک میں کود پڑے۔عوام نے لبیک کہا اور اس عظیم قربانی پر اُنہیں جلسے کو خطاب کرتے وقت عوام کی طرف سے پونڈوں کی مالاپہنائی گئی جو بیگ صاحب نے اخبار خدمت کو امداد کے طور پر دی۔وہ ذاتی جائیداد بنانے کے حق میں تھے ہی نہیں۔اُ ن کا قول تھا ،اُتنا ہی رکھو جتنا تمہیں ضرورت ہے،خدا پر توکل رکھو ، وہی ہر پل کا مالک ہے ،رزاق ہے ،روزی ہر جاندار کو پہنچانا ربّ کا کام ہے۔(ختم شد)
(ممتاز جہاں مرحوم مرزا محمدافضل بیگ کی صاحبزادی ہیں۔)