میر شوکت
ڈل جھیل کے کنارے صبح کی دھند پانی پر ایسی چادر تانے بیٹھی تھی جیسے کوئی مفلس شاعر اپنی واحد شال کو سرد ہوا سے بچانے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔ چناروں کی شاخوں پر شبنم کے قطرے پرانے نواب کے صندوق میں پڑے آخری جواہرات کی طرح جھلملاتے تھے اور شکارے والے چپوؤں کے سہارے روزگار کی امید کو پانی میں دھکیل رہے تھے۔ چائے کے کھوکھے سے اٹھتی بھاپ آسمان کی طرف جا رہی تھی، گویا کشمیر کی پوری سیاسی تاریخ ایک بار پھر دھوئیں کی شکل میں تحلیل ہو رہی ہو۔ اسی لمحے ذہن میں ایک پرانا سوال انگڑائی لے کر اٹھا۔آخر کیا کیا خضر نے سکندر سے؟
غالبؔ کا شکوہ یہ ہے کہ جب خضر جیسا راہنما بھی سکندر جیسے عظیم مسافر کو منزل تک نہ پہنچا سکا تو اب کس پر بھروسہ کیا جائےاور کشمیر کی گزشتہ چار دہائیوں کی داستان بھی کچھ ایسی ہی معلوم ہوتی ہے، یہاں سکندر کو دکھاتے دکھاتے یہاں کے خضر خود کسی اور پگڈنڈی پر نکل گئے۔
نوّے کی دہائی کا کشمیر یاد آتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی اور سیارے کی بات ہو۔ وادی کے چپے چپے پر ایک وجدانی کیفیت طاری تھی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر تھے۔ ہر چوک میں نعرے تھے، ہر دیوار پر خواب لکھے تھے، ہر گلی میں ایک انقلاب گھوم رہا تھا۔ نوجوانوں کی آنکھوں میں ایسا یقین تھا جو صرف جوانی یا پھر غلط فہمی میں پیدا ہوتا ہے۔ اس زمانے میں اگر کوئی کشمیری خود کو دنیا کا سب سے بڑا مظلوم سمجھتا تھا تو اسے اس پر پورا یقین بھی تھا،اور اگر کوئی خود کو حق کا آخری علمبردار سمجھتا تھا تو اس میں بھی کوئی شک نہیں تھا۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ ظلم اگر کہیں ہے تو صرف کشمیر میں ہے، حق اگر کہیں ہے تو صرف کشمیر میں ہے، اور اگر فرشتے کہیں اترنے والے ہیں تو ان کا ایئرپورٹ بھی شاید یہی ہے۔
ہر شخص کے پاس نظریہ تھا۔ بعض کے پاس ایک، بعض کے پاس دو، اور بعض اتنے خوش نصیب تھے کہ ان کے پاس تین تین نظریے تھے۔ ایک جلسے کے لیے، ایک مسجد کے لیے اور ایک اس وقت کے لیے جب حالات اچانک کروٹ بدل لیں۔ اس دور میں نظریات اتنے سستے اور فراوان تھے کہ اگر انہیں تول کر بیچا جاتا تو شاید سیب کی فصل کو بھی نقصان پہنچ جاتا۔
پھر وہی ہوا جو تاریخ میں ہمیشہ ہوتا ہے۔نعرے آہستہ آہستہ قبروں میں اترنے لگے۔مائیں بوڑھی ہو گئیں۔باپ خاموش ہو گئے۔ہزاروں نوجوان یا تو مٹی تلے سو گئے یا تصویروں میں مسکراتے رہ گئے۔جہلم نے بہت کچھ دیکھا، پہاڑوں نے بہت کچھ سنا، اور قبرستانوں نے بہت کچھ اپنے اندر چھپا لیا۔مگر وقت ایک عجیب سوداگر ہے۔ وہ جذبات نہیں خریدتا، صرف حقیقت بیچتا ہے۔
چنانچہ آج جب برسوں بعد اسی کشمیر میں کھڑا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وادی نے جیسے کوئی نیا لباس پہن لیا ہے۔ بازار روشن ہیں، کیفے آباد ہیں، ہوٹل بھرے ہوئے ہیں، سیاح تصویریں بنا رہے ہیں، نوجوان سرکاری ملازمتوں، آئی ٹی کورسوں، بیرونِ ملک تعلیم اور کاروبار کے خواب دیکھ رہے ہیں۔یہ سب فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔زندگی آخر کب تک قبرستانوں کے سائے میں بیٹھی رہتی؟
مگر اصل قصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔کیونکہ وادی بدلی ہے، مگر بعض کرداروں کی لچک نے فطرت کے قوانین کو بھی حیران کر دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہر دور میں درست ثابت ہونے کا ہنر جانتے ہیں۔جب آزادی کا موسم تھا تو وہ آزادی کے سب سے بڑے ترجمان تھے۔جب مزاحمت کا موسم آیا تو مزاحمت کے علمبردار بن گئے۔جب خاموشی کا دور آیا تو خاموشی کے فلسفی بن گئے۔اور اب جب نئی سیاسی حقیقتیں دروازے پر دستک دے رہی ہیں تو وہ ان کے سب سے بڑے شارح ہیں۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اگر گرگٹ کشمیر میں پیدا ہوتا تو احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا۔کیونکہ رنگ بدلنے کی جو مہارت بعض انسانوں نے حاصل کی ہے، وہ فطرت نے گرگٹ کو بھی نہیں دی۔ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔نوّے کی دہائی میں ان کی تقریریں سن کر نوجوان روتے تھے۔آج کل وہ نئی سیاسی حکمتِ عملی کے داعی ہیں۔میں نے پوچھا۔
’’قبلہ، یہ تبدیلی کیسے آئی؟‘‘فرمانے لگے:’’دانشمند آدمی وقت کے ساتھ چلتا ہے۔‘‘میں نے عرض کیا۔’’یہ تو درست ہے، مگر آپ تو وقت کے ساتھ نہیں، وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔‘‘وہ مسکرائے۔میں بھی مسکرا دیا۔کشمیر میں بعض سوالوں کے جواب دلائل سے نہیں، مسکراہٹوں سے دیے جاتے ہیں۔آج کا منظر واقعی دلچسپ ہے۔صبح مسجد میں نمازیوں کی صفیں بھی ہیں۔شام کو سیاسی جلسے بھی ہیں۔کسی محفل میں دین پر گفتگو ہو رہی ہے۔کسی محفل میں ترقی پر۔کسی دفتر میں نئی سیاسی وابستگیوں کی فہرست تیار ہو رہی ہے۔
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر محفل میں موجود ہیں۔وہ نماز بھی نہیں چھوڑتے۔وہ اقتدار بھی نہیں چھوڑتے۔وہ اصولوں کی بات بھی کرتے ہیں۔اور حالات کے مطابق استثنا بھی نکال لیتے ہیں۔گویا انہوں نے خضر اور سکندر دونوں کے کردار ایک ہی وقت میں سنبھال رکھے ہیں۔
مجھے ان لوگوں پر غصہ کم اور حیرت زیادہ آتی ہے۔کیونکہ تبدیلی کوئی جرم نہیں۔رائے بدلنا بھی جرم نہیں۔حالات کے مطابق فیصلے کرنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں آدمی اپنا ماضی بھی بدلنے لگے۔جہاں کل کے نعرے آج کی مصلحت کے نیچے دفن کر دیے جائیں۔جہاں قربانیوں کو یاد رکھنے کے بجائے ان کی فائل بند کر دی جائے۔اور جہاں ہر نیا راستہ اختیار کرتے وقت یہ دعویٰ بھی کیا جائے کہ ہم تو ہمیشہ سے اسی راستے پر تھے۔
ڈل جھیل پر اب شام اتر رہی ہے۔پانی پر سورج کا سنہرا عکس تیر رہا ہے۔اذان کی آواز ہوا میں گھل رہی ہے۔سیاح تصویریں بنا رہے ہیں۔نوجوان مستقبل کے خواب سجا رہے ہیں۔اور چنار حسبِ معمول خاموش کھڑے ہیں۔شاید وہ جانتے ہیں کہ انسانوں کے نظریات موسموں سے زیادہ تیزی سے بدلتے ہیں۔ان کے پتے سال میں ایک بار رنگ بدلتے ہیں، مگر بعض انسان ایک ہی موسم میں کئی رنگ بدل لیتے ہیں اور ہر رنگ میں اتنے مطمئن نظر آتے ہیں جیسے پیدائش ہی اسی رنگ میں ہوئی ہو۔
وادی آج خوبصورت بھی ہے، ہری بھری بھی، نسبتاً پُرامن بھی۔مگر اس حسن کے نیچے تاریخ کی ایک مدھم سی آہ اب بھی سنائی دیتی ہے۔وہ ان ماؤں کی آہ ہے جنہوں نے بیٹے کھوئے۔ان باپوں کی خاموشی ہے جنہوں نے جوان جنازے اٹھائے۔اور ان خوابوں کی سرگوشی ہے جو کبھی آسمان چھونے نکلے تھے۔اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔مگر ڈل کے کنارے کھڑا میں بار بار اسی نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ کشمیر کا اصل مسئلہ کبھی راستوں کا نہیں تھا، راہنماؤں کا تھا۔کیونکہ راستے تو آج بھی موجود ہیں۔
سوال صرف یہ ہے کہ خضر کون ہے؟وہ جو کل ایک سمت لے جا رہا تھا؟یا وہ جو آج دوسری سمت لے جا رہا ہے؟یا پھر وہ ابھی تک آیا ہی نہیں؟اور شاید اسی لیے ڈل جھیل کی شام، چناروں کی خاموشی اور زبرون کی پہاڑیاں آج بھی سرگوشی کرتی محسوس ہوتی ہیں:’’اب کسے راہنما کرے کوئی؟‘‘اور اس سوال کا جواب ابھی تک وادی کی دھند میں کہیں گم ہے۔