فکر انگیز
رئیس یاسین
ریاضی، جسے کبھی’’تمام علوم کی ملکہ‘‘ کہا جاتا تھا، آہستہ آہستہ ہمارے تعلیمی نظام میں اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہے۔ جو مضمون کبھی تجسس، اعتماد اور ذہنی وقار کو فروغ دیتا تھا، آج اکثر طلبہ کے لیے ہچکچاہٹ اور خوف کا سبب بن گیا ہے۔ یہ خاموش زوال صرف ایک مضمون تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم سیکھنے، سوچنے اور تنقیدی فکر کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔
اپنی اصل میں، ریاضی منطق، درستگی اور سچائی کی زبان ہے۔ یہ ہمیں واضح طور پر سوچنے، مسائل کو منظم انداز میں حل کرنے اور اپنے اردگرد کی دنیا کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہر ترقی اسی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ اس کے باوجود آج کے بہت سے طلبہ اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں،کیونکہ اسے سمجھنے کے بجائے اکثر محض یاد کرنے کا مضمون بنا دیا گیا ہے۔
کشمیر میں ایک وقت تھا جب ریاضی کو عزت اور دلچسپی دونوں حاصل تھیں۔ طلبہ اسے شوق سے سیکھتے تھے اور خاندان بھی اسے کامیابی کا ذریعہ سمجھ کر اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ جذبہ کمزور پڑ گیا ہے۔ مؤثر تدریسی طریقوں کی کمی، تربیت یافتہ اساتذہ کی قلت اور پیچیدہ نصاب اس زوال کی بڑی وجوہات ہیں۔اس رجحان کو بدلنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل اقدامات ضروری ہیں۔’’رہبرِ ریاضی‘‘ جیسی ایک مخصوص اسکیم اس سمت میں اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جو خطے میں ریاضی کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کرے۔ ہر اسکول میں قابل اور تربیت یافتہ ریاضی اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنانا لازمی ہے، کیونکہ مضبوط بنیاد ابتدائی مراحل ہی میں رکھی جاتی ہے۔
اسی طرح نصاب پر بھی نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اسے آسان، دلچسپ اور قابلِ فہم بنایا جائے، جہاں زور رٹنے کے بجائے تصوراتی سمجھ اور عملی سرگرمیوں پر ہو۔ ریاضی کو ایک بوجھ نہیں بلکہ دریافت کا ایک خوشگوار عمل بنایا جانا چاہیے۔
نجی اسکولوں کو بھی ایک واضح نظام کے تحت لایا جائے تاکہ وہ ہر سطح پر ماہر ریاضی اساتذہ کی تقرری یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی، سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے اساتذہ کے لیے DIET سطح پر باقاعدہ اور مؤثر تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ ان کی تدریسی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔
ریاضی نے اپنی اہمیت نہیں کھوئی ہم نے اس پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔ اگر ہم سنجیدگی، بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہم اس مضمون کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلا سکتے ہیں۔ اس کا تاج گر ضرور گیا ہے، مگر اسے دوبارہ سر پر سجانا اب بھی ہمارے اختیار میں ہے۔