پونچھ//پونچھ کے آثار قدیمہ کی عمارتوں میں سے ایک ٹائون ہال پونچھ ہے جس میں بڑی بڑی تقریبات منعقد ہوا کرتی تھی لیکن اب عمارت کی حالت انتہائی غیر معیاری ہو چکی ہے ۔ٹائون ہال کی عمارت 2005تک ٹھیک تھی لیکن مذکورہ برس آئے زلزلے کی وجہ سے ان کی حالت غیر معیاری ہوگئی جس کے بعد گزرتے وقت کیساتھ اس کی حالت مزید خستہ ہوتی گئی ۔اس دوران عمارت میں میونسپلٹی کا دفتر بھی قائم تھا لیکن اس کے بعد کافی عرصہ تک میونسپل کونسل کا دفتر پرانی پونچھ کے کمیونٹی ہال میں چلتا رہا۔ عوام کے پرزو مطالبہ کے بعد اس عمارت کی مرمت کا کام شروع کیاگیا ۔اس دوران ٹائون ہال کی دوسری منزل کا ہی کام کروایاگیا اور میونسپل کونسل کا دفتر دوبارہ وہاں منتقل کیاگیا،اصل ٹائون ہال کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی جس کی وجہ سے وہ ہال روز بروز خستہ حالی کا شکار ہورہا ہے۔سماجی کارکن شفیق حسین بابا اور مشہور شاعر سابق وارڈن گوجر بکر وال ہوسٹل شیخ سجاد پونچھی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس مقصد کے لئے یہ ٹائون ہال تھا وہ ختم ہی ہو گیاہے ۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہال کی ابھی تک مرمتی نہیں کی جا رہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے وہ میونسپل کمیٹی پونچھ کے چیئر مین ایڈوکیٹ سنیل کمار شرما سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ اس ہال کی مرمتی کے لئے سرکار نے ایک کروڑ 60لاکھ روپئے واگزار کئے ہیں جلد ہی مرمتی کا کام شروع کیا جائے گا۔شفیق بابا نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اب یہ رقومات زمینی سطح پر خرچ کر کے اس کو اسی مقصد کے لئے استعمال کیاجائے گا جس کے لئے یہ رقومات واگزار ہوئیں ہیں۔انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے بھی اپیل کی کہ وہ تاریخی ٹائون ہال کی طرف توجہ مبذول کر کے فوری طور اس کی مرمت کروائیں تاکہ جس طرح پہلے اس ہال میں رنگارنگ ثقافتی وتمندنی پروگرام منعقد ہوتے تھے اسی طرح دوبارہ تقریبات منعقد ہو سکیں۔انھوں نے انتباہ دیا کہ اگر فوری طورپر مرمتی کاکام شروع نہ کیاگیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوجائے گی۔