سمت بھارگو +عشرت حسین بٹ
پونچھ //نئی قائم شدہ شری ماتا ویشنودیوی یونیورسٹی کٹرہ کے سرکاری میڈیکل کالج میں داخلوں کے سلسلے میں جاری تنازعہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ تعلیم کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔پونچھ میں جامعہ ضیاء العلوم گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ تعلیمی ادارے قوموں کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور جامعہ ضیاء العلوم جیسے ادارے ایک عظیم ورثہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس ادارے کے انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے پورے خطے کے لئے باعثِ فخر ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کٹرہ میڈیکل کالج کے داخلہ تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے اب تعلیم کو بھی مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور میڈیکل کالج میں داخلوں سے متعلق معاملہ ہمارے سامنے ہے‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جن لوگوں نے اس مسئلے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے، وہی ہمیں آئین کا درس دیتے نظر آتے ہیں، جو خود ایک تضاد ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہب، نسل، ذات یا زبان سے بالاتر ہو کر برابری کے حقوق دیتا ہے اور تعلیمی اداروں میں داخلے بھی انہی آئینی اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا مقصد معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی ہے، نہ کہ انتشار پیدا کرنا یا مذہبی بنیادوں پر تقسیم کو فروغ دینا۔عمر عبداللہ نے طلباء پر زور دیا کہ وہ محنت، دیانت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں اور علم حاصل کرنے کے مقصد کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی ادارے جو پچاس برسوں پر محیط خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں مذہبی تنازعات یا بے بنیاد الزامات کے بیچ کھڑا کرنا سراسر غلط ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور متعلقہ حکام اس مسئلے کو آئینی ضوابط اور انصاف کے اصولوں کے مطابق حل کریں گے تاکہ تعلیم کے شعبے کو غیر ضروری تنازعات سے محفوظ رکھا جا سکے۔