عظمیٰ نیوز سروس
سرنکوٹ // سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ، جو عرفِ عام میں خطہ پیر پنچال کے نام سے جانے جاتے ہیں، گزشتہ ایک ہفتے سے قدرت کے شدید امتحان سے گزر رہے ہیں۔ مسلسل موسلادھار بارشوں نے جہاں ندی نالوں کو بپھرے ہوئے سیلابی ریلوں میں تبدیل کر دیا، وہیں پہاڑوں سے گرنے والی چٹانوں، لینڈ سلائیڈنگ اور زمین کھسکنے کے واقعات نے زندگی کا پہیہ جام کر دیا ہے۔ درجنوں رابطہ سڑکیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، بے شمار مکانات اور دکانیں منہدم یا متاثر ہوئی ہیں، جبکہ تقریباً اڑھائی درجن قیمتی انسانی جانیں بھی اس قدرتی آفت کی نذر ہو چکی ہیں۔18 اور 19 جولائی کی درمیانی شب ہونے والی طوفانی بارش نے ضلع پونچھ کے دریائے سْرن کو ایک خوفناک سیلابی ریلے میں بدل دیا۔ اس قیامت خیز رات میں تحصیل صدر مقام سے تقریباً نو کلومیٹر دور جموں۔پونچھ شاہراہ پر واقع مدرسہ دارالعلوم فیضانِ بابا غلام شاہ بادشاہ، تکیہ شریف ڈھیریاں لسانہ بھی اس تباہ کن سیلاب کی زد میں آ گیا۔
یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں عظیم روحانی بزرگ حضرت بابا غلام شاہ بادشاہ نے شاہدرہ شریف راجوری تشریف لے جانے سے قبل برسوں عبادت و ریاضت کی تھی۔ اسی نسبت سے یہاں عظیم الشان جامع مسجد اور مدرسہ قائم ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں دریائے سْرن کئی مرتبہ طغیانی پر آیا، مگر اس مقدس مقام کو کبھی نقصان نہ پہنچا۔ لیکن اس بار قدرت کا منظر ہی کچھ اور تھا۔19 جولائی کی صبح تقریباً چار بجے، جب ہر طرف گہری خاموشی طاری تھی اور طلبہ و اساتذہ اپنی نیند میں تھے، اچانک دریائے سْرن کا ایک خوفناک سیلابی ریلا مدرسے کی نچلی منزل میں واقع کمروں میں داخل ہوگیا۔ چند لمحوں میں پانی گھٹنوں سے کمر تک پہنچ گیا۔ ہر طرف چیخ و پکار،صدائیں، دروازوں پر دستکیں اور ایک دوسرے کو جگانے کی بے چین کوششیں شروع ہوگئیں۔کمروں میں موجود تقریباً 50 طلبہ اور اساتذہ کرام نے اندھیرے، تیز بہاؤ اور پانی کے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان انتہائی مشکل حالات میں اپنی جانیں بچائیں۔ کئی طلبہ اپنے بستر، کپڑے اور ذاتی سامان چھوڑ کر صرف جان بچانے کی فکر میں باہر نکلے۔ چند ہی لمحوں میں کمروں میں رکھا ہر سامان پانی میں بہنے لگا۔ اگر چند منٹ کی بھی تاخیر ہوجاتی تو ایک ناقابلِ تصور سانحہ جنم لے سکتا تھا۔امام و خطیب جامع مسجد مولانا محمد اشرف نے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ سیلاب نے طلبہ و اساتذہ کے بستر، لباس، قیمتی قالین، دینی کتابیں، قرآنِ مجید کے نسخے، لائبریری کی نایاب کتب اور روزمرہ استعمال کا تقریباً تمام سامان تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام طلبہ اور اساتذہ کی جانیں محفوظ رکھیں، ورنہ نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مدرسہ وقف بورڈ کے زیرِ انتظام ہے۔ مقامی طلبہ کو گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے، تاہم دور دراز اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ راستے بند ہونے کے باعث تاحال مدرسے میں مقیم ہیں اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے رہنے، سونے اور ضروریاتِ زندگی کا مناسب انتظام کرنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔گذشتہ روز کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق ڈی ڈی سی ممبر شاہ نواز چوہدری نے مدرسے کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیا اور انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔مقامی بی جے پی رہنما اور سماجی کارکن بشیر خان نے کہا کہ مدرسے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب اس ادارے سے ہر ماہ لاکھوں روپے کی نذرانے اور چندے کی رقم وقف بورڈ کو موصول ہوتی ہے تو ایسے مشکل وقت میں وقف بورڈ کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر مدرسے کی تعمیرِ نو، طلبہ کی امداد اور نقصانات کے ازالے کے لیے خصوصی فنڈ جاری کرے۔یوتھ بی جے پی رہنما منان خان نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مدرسے سے تقریباً ایک کلومیٹر پیچھے، جہاں سے دریائے سْرن نے اپنا رخ تبدیل کیا، وہاں مضبوط حفاظتی بند، کریٹ وال اور فلڈ پروٹیکشن منصوبہ فوری طور پر تعمیر کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس مقدس ادارے اور آس پاس کی آبادی کو دوبارہ ایسی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں لوہر لسانہ کے کسانوں کی سینکڑوں کنال زرعی اراضی بھی سیلاب کی نذر ہوگئی، جہاں دھان اور مکئی کی تیار فصلیں بہہ گئیں۔متاثرہ علاقے کے عوام نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ خود متاثرہ مدرسے کا دورہ کریں، طلبہ و اساتذہ کی مشکلات کا قریب سے جائزہ لیں اور فوری امدادی پیکیج، تعمیرِ نو اور حفاظتی اقدامات کا اعلان کریں تاکہ اس عظیم دینی درسگاہ میں تعلیم کا سلسلہ دوبارہ بحال ہو سکے۔قدرتی آفات وقتی ہوتی ہیں، مگر ان کے چھوڑے ہوئے زخم برسوں تک دلوں پر نقش رہتے ہیں۔ لسانہ کے اس مدرسے میں وہ خوفناک رات آج بھی طلبہ و اساتذہ کی آنکھوں میں زندہ ہے، جب چند لمحوں کے لیے انہیں محسوس ہوا کہ شاید صبح کی روشنی دیکھنا ان کی تقدیر میں نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ محفوظ رہے، اور اب انہیں انتظار ہے کہ متعلقہ ادارے بھی ان کی امیدوں کا سہارا بنیں