محتشم احتشام
پونچھ//شری ویشنو دیوی میڈیکل کالج سنگھرش کمیٹی پونچھ کی جانب سے سنیچر کو کلا چوک پونچھ کے قریب ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ احتجاج ان مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف تھا جو شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کٹڑہ میں حالیہ ایم بی بی ایس داخلوں کے دوران سامنے آئی ہیں، جن میں 50 نشستوں میں سے 42 نشستیں ایک خصوصی طبقے کو، 7 نشستیں ہندو طلبہ کو اور صرف 1 نشست سکھ طبقے کو الاٹ کی گئی۔ مظاہرین نے اس عمل کو شدید جانبداری، شفافیت کی خلاف ورزی اور سناتنی طبقے کی حق تلفی قرار دیا۔احتجاجی پروگرام کی قیادت سنگھرش کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر دھرمیندر شاستری نے کی۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شری ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس داخلوں کا اصول نیٹ (این ای ای ٹی ) کے میرٹ پر مبنی ہے، مگر اس معاملے میں میرٹ کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس داخلہ عمل کو فی الفور منسوخ کر کے اعلیٰ سطحی اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ڈاکٹر شاستری نے مزید کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کی آمدنی مکمل طور پر سناتنی عقیدت مندوں کے نذرانوں سے حاصل ہوتی ہے، اسلئے داخلوں میں شفاف اور غیرجانبدار نظام ناگزیر ہے۔احتجاجی مظاہرے سے کئی دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جن میں کھیترپال صدر، سناتن دھرم سبھا پونچھ، نِشچنت گپتاوشو ہندو پریشد، شری نِشچل شرما اور امریش شامل تھے۔ مقررین نے الزام لگایا کہ داخلوں میں کھلی جانبداری برتی گئی ہے جو سناتنی طبقے کے حقوق اور جذبات کے منافی ہے۔ انہوں نے اس عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے اختتام پر سنگھرش کمیٹی نے صدرِ جمہوریہ ہند، مرکزی وزیرِ صحت اور لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر کے نام ایک تفصیلی یادداشت ڈپٹی کمشنر پونچھ کے توسط سے روانہ کی، جس میں منصفانہ داخلہ عمل اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر اس معاملے کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو احتجاجی مہم مزید شدت اختیار کرے گی۔