اِکز اِقبال
شام اُس دن بھی ویسی ہی تھی جیسے عام شامیں ہوا کرتی ہیں۔ ہلکی سی ٹھنڈ، دور کہیں اذان کی آواز، گھروں سے اٹھتا دھواں، اور ماؤں کی وہی مانوس صدائیں جن میں محبت بھی ہوتی ہے اور انتظار بھی۔ کسی گھر میں چائے رکھی جا رہی تھی، کہیں بچے ہوم ورک سے بھاگ رہے تھے، کہیں کوئی ماں اپنے بچے کو آواز دے رہی تھی: “جلدی گھر آ جانا
مگر ایک گھر میں اُس دن جو آواز بلند ہوئی، وہ جواب کے بغیر رہ گئی۔ وہ بارہ سالہ معصوم بچی کبھی گھر واپس نہ پہنچی۔
، یہ سانحہ پورے معاشرے کے ماتھے پر لکھی ہوئی ایسی سیاہ سطر ہے جسے وقت بھی آسانی سے مٹا نہیں پائے گا۔ ایک بچی، جس کی عمر ابھی گڑیوں، ربنوں، اسکول بیگ اور ادھورے خوابوں کی تھی، اُسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ دنیا میں درندے انسانوں کے چہروں میں بھی گھومتے ہیں۔
مجھے ہمیشہ اپنی ماں کی ایک بات یاد آتی ہے۔ وہ کہا کرتی ہیں کہ ’’معاشرہ اُس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اُس کی گلیوں میں بچے محفوظ ہوں۔‘‘
آج سوچتا ہوں، اگر بچے ہی محفوظ نہ رہیں تو پھر گلیاں صرف راستے رہ جاتی ہیں، بستیاں قبرستان بننے لگتی ہیں، اور لوگ انسان کم، سایے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں۔ یہ ہر اُس ماں کا دکھ ہے جو شام ڈھلتے ہی دروازے کی طرف دیکھتی ہے۔ یہ ہر اُس باپ کا خوف ہے جو اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے اسکول بھیجتا ہے۔ یہ ہر اُس بھائی کی خاموش گھبراہٹ ہے جو اپنی چھوٹی بہن کے ہنسنے پر خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے۔
لیکن اب خوف ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ ہم ایک عجیب دور میں زندہ ہیں۔ جہاں موبائل فون ہاتھوں میں ہیں مگر احساس دلوں سے نکلتے جا رہے ہیں۔ جہاں مذہبی نعرے بلند ہیں مگر اخلاقی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ جہاں لوگ سوشل میڈیا پر انصاف مانگتے ہیں مگر اپنے اردگرد بکھرتی ہوئی انسانیت پر خاموش رہتے ہیں۔
کبھی کشمیر کی بستیوں میں ہر بزرگ پورے محلے کے بچوں کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ دروازے کم بند ہوتے تھے اور دل زیادہ کھلے ہوا کرتے تھے۔ آج دروازے مضبوط ہیں مگر انسان اندر سے کمزور ہو گئے ہیں۔
اس معصوم بچی کی موت نے صرف ایک جان نہیں لی، اس نے معاشرے کے ضمیر کو زخمی کیا ہے۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایسے سانحات کے بعد بھی ہم چند دن شور مچاتے ہیں، چند پوسٹیں لکھتے ہیں، چند نعرے لگاتے ہیں، پھر معمولات کی گرد سب کچھ ڈھانپ لیتی ہے۔ مگر ایک ماں کی گود ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ ایک باپ کی آنکھ ہمیشہ دروازے پر ٹکی رہتی ہے۔ اور ایک گھر ہمیشہ ادھورا رہ جاتا ہے۔
ایسے واقعات میں انصاف صرف عدالتوں کی ذمہ داری نہیں ہوتا، یہ پورے معاشرے کا امتحان ہوتا ہے۔ مجرم کو سخت ترین سزا ضرور ملنی چاہیے، مگر سوال یہ بھی ہے کہ آخر ہم اپنے معاشرے کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ ہم اپنی نئی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ علم؟ تہذیب؟ خوف؟ یا بے حسی؟
ہمیں اپنے بچوں کو صرف نصاب نہیں، انسانیت بھی سکھانی ہوگی۔ صرف کامیابی نہیں، کردار بھی دینا ہوگا۔ صرف ڈگریاں نہیں، احساس بھی دینا ہوگا۔
کیونکہ معاشرے صرف سڑکوں، عمارتوں اور نعروں سے نہیں بنتے۔ معاشرے اُس وقت بنتے ہیں جب ایک بچی شام کو گھر سے نکلے اور اُس کی ماں مطمئن رہے کہ وہ واپس ضرور آئے گی۔مگر اس بار۔۔۔۔۔۔ وہ بارہ سالہ معصوم بچی کبھی گھر واپس نہ پہنچی۔بچے اسکول جائیں اور پھر کبھی واپس نہ آئیں ۔ یا اللہ والدین کو ایسا دن نہ دکھانا ۔
آخری بات:
کچھ سانحات صرف خبریں نہیں ہوتے، وہ زمانے کے چہرے پر لکھے ہوئے سوال بن جاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک سوال ہے، جو عدالتوں سے پہلے ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ہم مجرم کو سزا دلوا سکتے ہیں، قانون حرکت میں لا سکتے ہیں، احتجاج کر سکتے ہیں، مگر اگر ہم اپنی اجتماعی بے حسی، اخلاقی زوال اور سماجی ذمہ داریوں سے منہ موڑتے رہے تو شاید ہم صرف ایک مجرم کو سزا دیں گے اور کئی نئے سانحات کے دروازے کھلے چھوڑ دیں گے۔
ضرورت صرف آنسو بہانے کی نہیں، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہے۔ اپنے گھروں، اپنے تعلیمی اداروں، اپنی مسجدوں، اپنی بستیوں اور اپنی گفتگوؤں کو دوبارہ انسانیت، رحم، احترام اور کردار کی روشنی سے آباد کرنے کی ہے۔ کیونکہ معاشرے اُس وقت نہیں مرتے جب اُن کی عمارتیں گر جائیں؛ معاشرے اُس وقت مرنے لگتے ہیں جب اُن کے بچے غیر محفوظ ہو جائیںاور جب بھی اس معصوم بچی کا ذکر آئے گا، شاید ہمارے دلوں میں ایک ہی جملہ گونجے گا:’’وہ بارہ سالہ بچی تو چلی گئی، مگر اپنے پیچھے ہمارے ضمیر کے لیے ایک ایسا سوال چھوڑ گئی جس کا جواب آنے والی نسلوں کو دینا ہوگا۔‘‘
کہ تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے
جو گر گئی تو یوں ہی نیم جان چھوڑ گیا
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور
تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ۔ 7006857283
[email protected]