عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//مرکزی حکومت ملک بھر کی قیمتی وقف جائیدادوں کے تجارتی از سر نو استعمال کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی ایک بڑی اسکیم بنا رہی ہے۔ یہ اسکیم جنوری میں ای ایف سی کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اقلیتی امور کی یہ منصوبہ بندی ممبئی دہلی اتر پردیش حیدرآباد بنگلورو جیسے شہروں میں موجود ان وقف پلاٹس کی تعمیر نو کے لیے ہے جن کی قیمت ہزاروں کروڑ ہے لیکن برسوں سے قبضوں تنازعات اور کمزور انتظام کی وجہ سے استعمال نہیں ہو پا رہے۔مجوزہ ماڈل میں ریاستی وقف بورڈ ناوادکو اور نجی کمپنیاں مل کر اسپتال تجارتی ٹاور تعلیمی ادارے اور رہائشی کمپلیکس جیسے منصوبے تیار کریں گے۔ ان کے لیے طویل مدتی آمدنی کی شراکت یا لیز کا نظام رکھا جائے گا۔آئی آئی ٹی دہلی اس پورے ڈھانچے اور معاہداتی طریقے پر وزارت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ناوادکو کا کام منصوبہ بندی سرمایہ کاروں کو جوڑنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ وقف زمین کی مذہبی حیثیت برقرار رہے۔ یہ کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مرکز کے امید پورٹل پر وقف جائیدادوں کی لازمی ڈیجیٹل رجسٹریشن چھ دسمبر کو ختم ہو چکی ہے اور اندازاً آٹھ لاکھ جائیدادوں میں سے صرف دو لاکھ سولہ ہزار کا اندراج مکمل ہو سکا ہے۔تقریباً تین لاکھ درخواستیں زیر التوا ہیں جس کی وجہ سے دو ہزار چھبیس کے آغاز میں وقف ٹربیونلز پر بڑا قانونی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ وزیر کیرن رجیجو نے بغیر جرمانے کے تین ماہ کی مہلت تو دے دی ہے لیکن اپ لوڈ کی آخری تاریخ بڑھانے سے انکار کیا ہے۔ریاستوں کے اعداد و شمار میں بڑا فرق ہے۔ کرناٹک پنجاب جموں و کشمیر اور گجرات نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور ملک کے نصف سے زیادہ مکمل اندراج انہی ریاستوں سے ہوا ہے۔ جبکہ مغربی بنگال دہلی کیرالہ اور اتر پردیش میں رجسٹریشن بہت کم ہے۔اتر پردیش میں سب سے زیادہ وقف جائیدادیں ہیں لیکن سنی اور شیعہ بورڈ صرف گیارہ فیصد اور پانچ فیصد اندراج کر سکے۔ مہاراشٹر نے اٹھالیس فیصد کی اچھی پیش رفت دکھائی۔ ان اعداد سے واضح ہے کہ نئے وقف ترمیمی قانون دو ہزار پچیس کے باوجود کئی ریاستیں ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار نہ پکڑ سکیں۔مرکز کی یہ منصوبہ بندی اب صرف ڈیجیٹل نظام تک محدود نہیں رہی بلکہ وقف جائیدادوں کو قومی سطح پر معاشی طور پر کار آمد بنانے کی سمت فیصلہ کن قدم ہے۔ ای ایف سی میں منظوری ملتے ہی ملک بھر میں وقف زمین پر بڑے تجارتی منصوبے شروع ہو سکیں گے۔ اس سے وقف اداروں کی مالی حالت بہتر ہوگی اور شہروں میں جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو نئی سمت ملے گی۔ مرکز کی چھ ماہ کی قومی مہم وقف جائیدادوں کے ڈیجیٹل اندراج کے ساتھ اس ہفتے مکمل ہو گئی۔ ملک میں موجود اندازاً 8 لاکھ وقف جائیدادوں میں سے صرف ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ جائیدادوں کا اندراج امید پورٹل پر ہو سکا۔ اس دوران اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی وقف جائیداد رکھنے والی ریاست کے طور پر سامنے آیا۔