عبدالقیوم شاہ
جموں کشمیر مسلم وقف بورڈ ، جو ماضی میں ’’مسلم اوقاف ٹرسٹ‘‘ کہلاتا تھا، دہائیوں سے سیاست کی لونڈی بنا ہوا تھا۔ سیاسی ٹھیکیدار بقعہ جات، آستانوں، عیدگاہوں اور سکولوں سمیت دیگر وقف اثاثوں کو عوامی بہبود کی بجائے اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کررہے تھے۔ سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سید نے اپنے دورِ حکومت میں اوقاف میں اصلاح کی غرض سے قانون میں ترمیم کی اور اس کا نام بدل کر مسلم وقف بورڈ تو کردیا، لیکن وہ اْن سیاسی جونکوں کا کْچھ نہ بگاڑ سکے جو عقیدتمندوں کے عطیات سے موٹی ہوتی جارہی تھیں۔
مسلم وقف بورڈ کی نئی سربراہ ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے مجاورین کی چرب زبانی کے باوجود بورڈ کی تطہیر کی ایک جرأتمندانہ مہم چھیڑ کر سادہ لوح عقیدتمندوں کے استحصال کا سدباب کیا ہے۔ یہ واقعی ایک قابل تعریف کام ہے اور حساس عوامی حلقوں میں اس کی سراہنا ہورہی ہے۔
مقبروں کا قحط : ۔حیرت ہے کہ پیدائش اور موت کا اندراج سرکاری طور پر کرنا اب لازم ہے۔ اکثر اوقات کسی کے فوت پرہونے پر مقبرے کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے گزشتہ تین دہائیوں میں سرینگر اور دوسرے قصبوں کا جغرافیہ بڑے پیمانے پر تغیروتبدل کا شکار ہوا ہے۔ نئی بستیاں بس گئی ہیں اور لوگ اپنے آبائی محلوں سے دْور جا کر بس چکے ہیں۔ حالات کا ستم ہو یا سیلاب یا کوئی اور ناگہانی آفت، ایسے میں دیرسویر معیت کو آبائی قبرستان پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن مجال ہے کہ مقامی مقبرہ کمیٹی لاش کو دفن کرنے کی اجازت دے دے، بھلے ہی معیت کئی دن تک کیوں نہ پڑی رہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران نئی کالونیوں میں لوگوں نے پیسہ اکھٹا کرکے چھوٹی چھوٹی زمینیں خرید کر مقامی قبرستان بنائے ہیں، لیکن یہ بھی مخصوص ان کے لئے ہوتا ہے جنہوں نے شروع میں پیسہ دیا ہوتا ہے۔
گزشتہ تیس سال کی شورش کے دوران یہاں لاکھوں لوگ مارے گئے، اور ہلاکتوں کی تعداد بہت ہونے کے سبب قبرستانوں میں جگہ تک نہ بچی۔ کئی علاقوں میں پارکوں کے ایک حصے میں لوگ دفنائے گئے۔ کشمیر میں زمینوں کے دام متوسط طبقے کی آمدن سے بھی دْور ہیں، لہٰذا مقبروں کا قحط ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرلینا چاہئے۔
ملہ کھاہ : ۔یہ کشمیر کا قدیم ترین قبرستان ہے۔ مورخ کہتے ہیں کہ سینکڑوں سال قبل میرم بزاز نامی ایک تاجر ترکستان سے کشمیر ٓای اور یہیں بس گیا۔ اْس نے کئی زمینیں حاصل کرلی اور بعد میں اْس کے مرشد نے خواب میں اْسے مشورہ دیا کہ کاٹھی دروازہ اور جامع مسجد کے درمیان اور اردگرد جو وسیع قطعہ ارضی ہے اسے قبرستانوں کے لئے وقف کیا جائے۔ لیکن بعد میں اس قبرستان پر مٹھی بھر خاندانوں کا قبضہ ہوگیا اور اس طرح قبرستان بھی وراثت کا حصہ قرار پایا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شورش کے دوران مارے جانے والے افراد یہاں دفن نہیں ہیں، لیکن اس وسیع و عریض قبرستان کے حصے بکھرے کرکے گویاں اپنی جائیداد کی طرح آپس میں ہی بانٹ لیا ہے۔ ملہ کھاہ کے علاوہ سینکڑوں قبرستانوں کے باہر ’’مقبوضہ اہل اسلام‘‘ کی تختی لگی رہتی ہے، لیکن کسی دوسرے علاقے سے آنے والا ’’اہل اسلام‘‘ فوت ہوجائے تو اس کو دفن کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ اگر قبصہ اسلام کے نام پر ہوا ہے، تو تجہیز و تکفین و تدفین تو اسلامی شعائر کا لازمہ ہے؟
اس ہٹ دھری اور کچی مذہبی سوچ اور قبائلی طرز عمل سے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگ مجبوراً دریائی کناروں، بے کار پڑے دلدلی قطعوں یا جھیلوں کے عارضی جزیروں میں مردے دفن کرنے لگے ہیں۔ اکثر اوقات کْتّے مْردوں کو کھاتے دیکھے گئے۔ افسوس، صد افسوس!
وقف بورڈ کیا کرسکتا ہے؟ :۔آستانوں ، خانقاہوں اور دوسرے اداروں کو ریگولیٹ کرکے وقف بورڈ سربراہ ڈاکڑ درخشاں اندرابی نے قابل تعریف کام کیا ہے۔ لیکن اب ضرورت ہے کہ قبرستانوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کیا جائے۔ ظاہر ہے موجودہ حکومت تعمیر و ترقی کے لئے نہایت سنجیدہ ہے، ظاہر ہے جب تعمیر و ترقی ہوگی تو شہرکاری ہوگی، اور جب شہرکاری ہوگی تو لوگ اپنے آباء و اجداد کی جگہوں سے نکل کر جدید طرز کی کالونیوں میں رہیں گے۔ کیا ہوتا ہے کہ چند مْنہ زور اور حوصلہ مند افراد اْٹھ کر قبرستانوں پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ اس داداگری کو ختم کرنا ہوگا۔ وقف کے پاس تعمیرات کے علاوہ زمینوں کے کافی اثاثے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ سے گزارش ہے کہ وقف بورڈ ایک لینڈ بینک قائم کرے۔ سرینگر اور دوسرے قبصوں کو مختلف زونوں میں تقسیم کرکے آبادی کے تناسب سے قبرستانوں کی فہرست مرتب کی جائے۔ اول تو عوام کے لئے وقف قبرستان ہوں ، جس کے لئے باشندوں سے مناسب اور ہمدردانہ بنیادوں پر فیس وصول کی جائے اور باقاعدہ رجسٹریشن کا انتظام ہو۔ دوسرے مرحلے پر سبھی قبرستانوں کی وقف میں رجسٹریشن لازمی بنا دی جائے اور مقبرہ کمیٹیوں کو اس بات کے لئے جوابدہ بنایا جائے کہ وہ کسی مسلمان کو دفن کرنے سے انکار نہیں کرسکتی۔ یہ انکار غیرشرعی تو ہے ہی، اس سے غیرقانونی بھی قرار دیاجائے۔
یہ ایک نہایت حساس اور اہم کام ہے، جو وقف بورڈ کو کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں دلِ دردمند رکھنے والے اور موت کو حقیقت سمجھنے والے مخلص افسران کی کمیٹی بنا کر باقاعدہ منصوبہ بندی ہوسکتی ہے۔
(رابطہ۔9469679449، 7780882411 )
[email protected]