جموں//جموں کشمیر میں جاری خون خرابہ کے خاتمہ کے لئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات بحالی کی وکالت کئے جانے کے دوسرے ہی دن ان کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے کیوں کہ پڑوسی ملک ابھی بھی جنگجوئوں کی مدد کر رہا ہے ۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان سنیل سیٹھی نے یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گولیوں کی گونج اور بہتے ہوئے خون کے بیچ ’کچھ طبقے ‘ ہندوستان اور پاکستان کے مابین بات چیت کا سلسلہ بحال کئے جانے کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن ایسے میں جب کہ پاکستان کھلم کھلا ملی ٹینٹوں کی اعانت کر رہا ہو بات چیت کیوں کر ممکن ہو سکتی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ پاکستا ن کے ساتھ بات چیت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مرکزی سرکار کو کرنا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف تبھی ممکن ہو سکتے ہیں جب پاکستان تخریب کاری سے باز آجائے اور حالات موافق ہو جائیں۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کل اسمبلی میں کہا تھا کہ ’اگر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے کہیں تو انہیں اینٹی نیشنل قرار دیا جاتا ہے لیکن بات چیت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ، اگر ہم بات چیت کے بارے میں بات نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ کوئی بہاری پا پنجابی تو نہیں کرے گا۔