یواین آئی
یروشلم/نئی دہلی// وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نتن یاہو کے ہمراہ یروشلم میں منعقدہ خصوصی اختراعاتی نمائش کا دورہ کیا، جہاں مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں اسرائیل کی جدید اور انقلابی ٹیکنالوجی کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا اس موقع پر ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تکنیکی تعاون کو اجاگر کیا گیا نمائش میں کوانٹم ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ہیلتھ ٹیک، اسمارٹ موبلٹی، سائبر سکیورٹی، آبی نظم، زراعت، کلائمٹ ٹیک، توانائی اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں جدید اختراعات پیش کیے گئے۔اس نمائش سے اسرائیل کے مضبوط اختراعی نظام اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجی میں اس کی قیادت کی عکاسی ہوتی ہے۔ دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی نے اختراعی ماہرین اور صنعت کاروں سے ملاقات کی اور اہم عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کردہ جدید تکنیکی حل کا عملی مشاہدہ کیا۔
ان میں درست زراعتی نظام، پائیدار آبی وسائل کا نظم، جدید سائبر سکیورٹی کا نظام اور کوانٹم تحقیقاتی پلیٹ فارم شامل تھے۔وزیرِ اعظم نے ان تکنیکیوں کو ہندوستان کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے نہایت موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اختراعات ہندستان میں بڑے پیمانے پر اپنانے اور وسعت دینے کے لیے مناسب ہیں۔انہوں نے کہا، ‘یہ ایجادات زراعتی پیداوار میں اضافے، دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی توسیع، سائبر سکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوانٹم تحقیق کو فروغ دینے اور پائیدار آبی و ماحولیاتی حل کو ممکن بنانے میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ہندستان کے تیزی سے پھیلتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت اور بڑے بازار کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اسرائیلی کمپنیوں کو ہندستانی شراکت داروں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی اداروں اور صنعتی قائدین کے ساتھ تال میل بڑھانے کی دعوت دی۔انہوں نے اختراعات پر مبنی ترقی کے ذریعے ہندستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، ‘میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ترقی یافتہ ہندستان (وکست بھارت) کے سفر میں فعال کردار ادا کریں۔’ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی تکمیلی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور یقین ظاہر کیا کہ ہائی ٹیک کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی شراکت سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔