یواین آئی
جنیوا// امریکہ اور ایران کے درمیان طویل انتظار کے بعد بالواسطہ بات چیت کا دوسرا دور منگل کے روز جنیوا میں شروع ہوا۔یہ اجلاس ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق ہے۔ ایران کی تجویز ہے کہ اگر امریکہ اس پر عائد تمام پابندیاں ہٹا دے اور اس کے منجمد اثاثوں کے استعمال کی منظوری دے، تو وہ اپنے افزودہ یورینیم کے معیار میں کمی لانے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ اس بات چیت میں ایران کے میزائل پروگرام پر بھی بحث کرنا چاہتا ہے، لیکن ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس میں ’بالواسطہ‘ طور پر شریک ہوں گے۔ اجلاس میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عراقچی شامل ہوں گے، جبکہ امریکہ کی نمائندگی ٹرمپ کے خصوصی سفیر اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔بات چیت کا پہلا دور مغربی ایشیا کے کئی ممالک کی ثالثی کے بعد عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا تھا۔ امریکہ اور ایران دونوں نے اسے ایک ’اچھی شروعات‘ قرار دیا تھا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔امریکہ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار ایران کے میزائل پروگرام سمیت دیگر غیر جوہری معاملات تک بھی بڑھایا جائے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر بات کرے گا اور یورینیم کی صفر افزودگی (زیرو انریچمنٹ) قبول نہیں کرے گا۔مذاکرات سے ایک روز قبل عباس عراقچی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ملاقات کی، جس میں جوہری ماہرین کے ساتھ تکنیکی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں عسکری تیاریوں میں اضافہ اور ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس سے ان بات چیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔