محتشم احتشام
پونچھ //جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی پنچایت کلر موڑا، وارڈ نمبر 7 کے رہائشی ان دنوں شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جہاں زیرِ تعمیر نیشنل ہائی ویز اتھورٹیز اف انڈیا (نیشنل ہائی وے) منصوبے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سڑک کی تعمیر کے دوران نہ صرف ان کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے بلکہ زرعی زمینیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد گھروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ کئی مقامات پر زمین کھسکنے اور کٹاؤ کے باعث کھیت ناقابلِ استعمال ہوتے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال نے دیہاتیوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا، تاہم کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر اب انہوں نے ضلعی انتظامیہ، بالخصوص ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ سڑک کے ساتھ ایک مضبوط ڈرین وال (حفاظتی نکاسی آب دیوار) تعمیر کی جائے تاکہ بارش کے دوران پانی جمع ہونے اور مٹی کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق نکاسی آب کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔واضح رہے کہ اس نیشنل ہائی وے منصوبے کو شروع ہوئے تقریباً تین سال گزر چکے ہیں، لیکن تاحال یہ مکمل نہیں ہو سکا، جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف اس منصوبے کو جلد از جلد پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے بلکہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنا کر ان کے گھروں اور زمینوں کو مزید نقصان سے بچایا جائے۔مقامی حلقوں کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ ایک بڑے انسانی و معاشی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے علاقے پر مرتب ہوں گے۔