ہم نوجوانو ں کو یہ دنیا بہت پیاری لگتی ہے ۔دنیا والے ہمیں بہت عزیز ہیں ،دنیا کے دھندے ، رنگینیاں ،رونقیں ،رشتے ناتے سب بہت دل لبھانے والے ہیں مگر یہ دنیا اپنی تمام تر خوب صورتی کے باوجود قابلِ محبت نہیں ہے ۔یہ نہایت فریب کے ساتھ عروج وزوال کے کھیل کھیلتی ہے ۔یہ بے وفا کبھی کسی ایک کی نہ ہو سکی ،دنیا کی حقیقیت قرآن کے نزدیک فقط اتنی ہے ،’’یہ دنیا کی زندگی چند روزہ فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘ ۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ زندگی کھیل تماشے کی جگہ نہیں ہے ،یہ وقت جو بغیر کسی وقفے کے گزرتا ہے ،یہ لمحے جو پل پل میں ختم ہو رہے ہیں ،یہ سانسیں جو لمحہ بہ لمحہ کم ہو رہی ہیں ،اگر ان کی حیثیت کو نظر میں رکھیں تو یہ تسلیم کرنے میں عار نہ ہو گی کہ زندگی کی قدر کرنی چاہیے ۔
اس زندگی کا وقت بھی انتہائی مختصر ہے ، یہ تو ایک مسافر کے سفر کی طرح ہے ،جس کو بزرگوں نے اس مثال سے سمجھایا ہے کہ اگر کوئی آدمی ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کا ارادہ کرکے گاڑی میں بیٹھے ،گاڑی کچھ دیر چلنے کے بعد ایک جگہ پر محض کچھ دیر کے لیے ٹھہرتی ہے تاکہ مسافر کچھ دیر آرام کریں اور اپنے مختصر تقاضے پورے کر سکیں ،یعنی اگر کسی کو قضائے حاجت ہے تو کر سکے یا کسی نے اگر پانی وغیرہ پینا ہے تو پی سکے تاکہ آگے کا سفر آسان ہو سکے ۔مگر انہی مسافروں میں سے کوئی مسافر یہ سوچے کہ میں اس جگہ پر جہاں گاڑی کچھ دیر کے لیے رُکی ہے ،مکان کی تعمیرات کے منصوبے بنالوں یا اپنے لیے مستقل قیام کے بارے میں سوچوںتو ہر آدمی اس کو بے وقوف کہے گا ۔کیوں کہ اس کی منزل یہ نہیں ہے جہاں پر گاڑی کچھ دیر کے لیے رکی ہےبلکہ اس کی منزل تو وہ ہے جہاں پر اس نے اپنے کام کی غر ض سے جانا ہے ۔بعینہ اسی طرح زندگی کی مثال بھی ہے کہ یہ ایک گاڑی ہے جو چلتے ہوئے اگلے سفر کی تیاری کے لیے ایک جگہ پر کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئی ہے ۔اب یہاں پر صرف اور صرف اگلے سفر کی تیاری کرنی ہے تاکہ اچھی طرح اپنی منزل پر پہنچاجائے ۔اس لیے ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ ہماری اصل منزل آخرت کی منزل ہے جس کی ہم نے اس زندگی میں تیاری کرنی ہے ۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے
ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر لمحے کی قدر کریں ،گناہوں سے بچتے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کریں ،ذکرِ الٰہی ،نیک لوگوں کی صحبت ،نماز کی پابندی ،یہ چند ایسے افعال ہیں جو گناہوں سے بچنے میں معاون ثابت ہو تے ہیں۔اسی طرح گناہوں سے بچنے کا ایک آزمودہ نسخہ ذکرِ آخرت ،موت کی سختی اور قبر کے عذاب کو یاد کرنا ہے ۔پتھر سے پتھر دل بھی اس ذکر سے موم ہو جاتے ہیں ،نہ کوئی خوشی پائیدار ہے نہ کوئی غمِ دائمی ہے ،ہر موقع پر موت کو سامنے رکھیں ۔کیوں کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے ،یہ زندگی کا سچا اہم سفر ہے ،زندگی کے ہر قدم کے ساتھ اٹھنے والا دوسرا قدم موت کا ہے ۔جس دن موت کا قدم زندگی سے پہلے اٹھا، وہ دن ،وہ لمحہ ،وہ قدم زندگی کا آخری قدم ہو گا ۔ربّ ِتعالیٰ کاارشاد ہے ،’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری طرف لوٹ کر آؤگے۔‘‘ یہ خدائے جبار وقہار کا فیصلہ ہے ،اس کے ساتھ ہی ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے مختلف قسم کی پریشانیوں اور تکالیف کو صبر وحوصلے کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے ۔کیوں کہ کوئی تکلیف ،موت کی تکلیف سے بڑ ھ کر نہیں ہے ۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں
ہم لوگ دکھ،صدمے یا تکلیف میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں ،اس حالت میں صبر کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ہمیں ان لوگوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے جو بسترِ مَرگ پر کئی سالوں سے پڑے ہیں ۔ہمیں تکلیفوں سے گزرتے ہوئے سامانِ راحت کو مدِّ نظر رکھنا چاہیے ،مثلا اگر سردی سے تکلیف ہو رہی ہے تو ہم گرمائش کا سامان کر سکتے ہیں اور اسی طرح اگر گرمی سے تنگ ہو رہے ہیں تو ٹھنڈک کا انتظام کر سکتے ہیں ۔آب وہوا تبدیل کر سکتے ہیں ،اپنے اردگرد کا ماحول بدل سکتے ہیں ،اپنے پیاروں سے مل کر اس احساس کو کم کر سکتے ہیں ،معصوم بچوں کے ساتھ کچھ وقت کاٹ سکتے ہیں مگر عالمِ برزخ کا تصور کیجیے ،جہاں ہمارے اپنے ہی اعمال کے طفیل کبھی نہ بدلنے والے حالات ہوں گے ۔انسان چاہے کتنی غذائیں کھالیں ،کتنی ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرلے ،وقتِ مقررہ سے ایک لمحہ بھی زیادہ نہیں جی سکتا اور کتنی ہی کوشش کر لے ،کتنا ہی زور لگا لے ،اپنے وقت سے ایک منٹ بھی پہلے نہیں مر سکتا ۔زندگی اور موت بلا شرکتِ غیرے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں مکتوب ہے ۔
اس لیے ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ زندگی کی رنگینیوں میں کھو کر اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور مہلتوں میں گم ہو کر خدا کے حکم سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ۔
ہمیں قیامت کی علامات کو یاد رکھنا ہوگا جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ کو باہر نکال پھینکے گی،جب زمین ہموار کر دی جائے گی ،جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے جھڑپڑیں گے اور جب دریا بہہ کر ایک دوسرے میں مل جائیں گے اور جب قبر اُکھیڑ دی جائیں گی ،جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں تو خود سوچیے اس وقت کا عالم کیا ہو گا؟اللہ ہم سب کو آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
کوئی بھی انسان جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو یہ وقت اس کی سعادت وشقاوت کو رقم کرنے کا ہوتا ہے اگر ایک جوان سنجیدگی کے ساتھ اس دور کے شروع ہی میں اپنا مقصدِ حیات اور اچھی طرح جوانی کو سمجھ لے تو نہ صرف کامیابی کے مرحلے بڑی آسانی کےساتھ طے کر سکتا ہے بلکہ فضل وکمال کے اعلی درجے تک پہنچ سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جوانی کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ،اس نعمتِ خداوندی کو سمجھتے ہوئے یہ قیمتی دور گزارے ۔ہم نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی فقط کھانے پینے کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی ایک بلند اور اعلی مقصد ہے اور اسی مقصد کے لیے جوانوں کو سرگرم رہنا چاہیے اور ہر موڑ پر عقل وشعور کا استعمال کرنا چاہیے ۔جوانوں کو چاہیے کہ وہ زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھیں اور اپنی زندگی قرآن وسنت کے مطابق گزاریں ۔یہ مسلّم حقیقت ہے کہ مذہب اسلام نوجوانوں کو داعی‘ مصلح ’غازی‘ صادق ’پاکباز‘ زاہد و متقی جیسی صفات سے آراستہ کرتے ہوئے باکردار نوجوان کے طور پر تیار کرتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا سماج جس قدر اسلامی اقدار سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے نوجوانانِ ملت کا گرم خون سرد پڑتا جا رہا ہے۔
بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ ہماری ملت کا نوجوان مغرب کے نت نئے فتنوں کے سمندر میں ڈوبا ہواہے ،دنیا کا مقصد اس نے محض یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ زندگی رنگ رلیاں منانے کے لیے دی گئی ہے ،ہر وقت نشہ خوری ،مستی اور اپنی قیمتی جوانی کو دیوانی بنانے میں غلط ماحول کا رُخ اختیار کر رہے ہیں ،ہم نوجوانوں کی وجہ سے معاشرے میں اس قدر بگاڑ آچکا ہے کہ ہماری ا وچھی حرکتوں کی وجہ سے برائیوں کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔
آئے دن اخبارات میں یہ خبریں چھپ رہی ہیں کہ فلاں نوجوان غلط حرکات کا مرتکب ہوتے ہوئے گرفتار کر لیاگیا ،چرس ،گانجا،شراب اور دیگر منشیات کے کاروبار میں بھی ہمارا نوجوان سر پھرے نوجوانوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے ۔پڑوسی ریاست پنجاب میں تو معاذ اللہ پانی سے زیادہ شراب دکھائی دیتی ہے ،ہر جگہ شراب کے ٹھیکے کھلے ہوئے ہیں ،شراب کو 7upاور pepsiسمجھ کر مشروب کی طرح پیا جارہا ہے ، مگر افسوس تو اس بات پر ہے کہ جموں وکشمیر میں جموں کے دس اضلاع میں تو انتہائی تیزی کے ساتھ جگہ جگہ شراب کے ٹھیکے کھولے جارہے ہیںجو نوجوانوں کی جوانیوں کو تباہ کرنے کے بھیانک اور زہریلے مراکز ہیں۔
سیرت النبی ﷺ کے نام پر ہماری ریاست میں مجالس وجلسے تو روز ہو رہے ہیں، اصلاحِ معاشرہ کے نام پر بھی کانفرنسیں ہورہی ہیں مگر ہم صحبت صالح ترا صالح کند کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے قطعاً تیار نظر نہیں آرہے ہیں ،مساجد کے ائمۂ عظام ،مدارس کے علماء کرام ،شہروں کے قاضیوں ،علاقہ جات کے سرپنچوں اور صوبائی اسمبلی میں پہنچنے والے ایم ایل اے وایم ایل سی حضرات نیز تمام مکاتبِ فکر کے دعوت وتبلیغ سے منسلک مبلغین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف کے ساتھ معاشرے کو نہی عن المنکر کی بھی تلقین کریں ،انھیں برائیوں سے بچنے کے لیے اجتماعات کا انعقاد کریں – جس طرح ہم میں سے ہر ایک داعی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف کے لیے کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ نکلے ،اسی طرح نہی عن المنکر کے لیے بھی ہمیں ماحول بناناپڑے گا ورنہ ہمارا معاشرہ اس قدر بگڑتا جارہاہے کہ الامان والحفیظ۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
سریا نے زمیں پر آسماں سے ہم کو دے مارا
آج اکیسویں صدی میں جموں وکشمیر میں ہماری نوجوان نسل ایک ایسے جمہوری نظام میں سانس لے رہی ہے، جس نے اسے مقصدیت اور منزل سے دور کرتے ہوئے بے روزگاری کی گرہ سے باندھ دیا۔ جس کے باعث نوجوان نسل بے راہ روی ’منشیات اور جرائم کی دنیا کی جانب راغب ہوتی جا رہی ہے۔ ریاست میں روزگار کے مواقع اس قدر مفقود ہیں کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی درجہ چہارم کی نوکری کے لیے در بدر ہے۔چند ماہ قبل پونچھ سے لے کر گاندربل تک بیس اضلاع میں جب درجۂ چہارم کے تحریری امتحان منعقد ہوئے تو عینی شاہد کے طور جب میں نے پونچھ کی سڑکوں پر بے روزگار نوجوانوں کا سمندر دیکھا تو کفِ افسوس ملتا رہ گیا کہ اتنی بڑی تعداد صرف ہمارے ضلع میں بے روزگاری سے جوجھ رہی ہے تو دوسرے اضلاع کا عالم کیا ہوگا-جموں و کشمیر میں لاکھوں ایسے نوجوان ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں اور اعلیٰ ڈگری کے حامل ہیں مگر سفارش نہ ہونے کے باعث دفاتروں کے چکر لگا کر گھروں کو مایوس و نامراد لوٹ جاتے ہیں۔ جب نوجوان پڑھ لکھ کر ڈگری ہاتھ میں لیتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں کئی خواب ہوتے ہیں، پہلا خواب تو اچھی ملازمت کا حصول ہوتا ہے، جس کے لیے وہ جگہ جگہ انٹرویو ددیتے ہیں مگر جس کے پاس سفارش اور رشوت دینے کے لیے رقم نہ ہو تو وہ ناکام ہو جاتے ہیں، جس کے باعث وہ فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں،ان کے اندر انتقام اور نفرت کا جذبہ جنم لیتا ہے اور وہ اپنے معاشرتی نظام سے باغی ہو جاتے ہیں۔
ہم نوجوانوں کو اللہ پاک نے قوت ِ تخیل اور تصور اس لیے عطا کیا ہے کہ اس کے ذریعے ہم علم وہنر کو سیکھیں اور اس کو کام میں لاکر فلاح کے راستے پر گامزن ہوسکیں لیکن جب اس قوت کا غلط فائدہ اٹھایا جائے گا تو نتیجہ بھیانک ہوگا ،جوانوں کو حالاتِ حاضرہ پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے ،کہاں برائی پنپ رہی ہے اس کا فی الفور حکمتِ عملی کے ساتھ سدِّ باب کر نا چاہیے تاکہ ہم خود سدھر کر آنے والی نسلوں کے لیے سود مند ثابت ہو سکیں ،ہماری زندگی کا مقصد قرآن وسنت پر عمل کرتے ہوئے انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول ہونا چاہیے ،کیوں کہ ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی
(خادم جامعہ امام محمد انورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ شہر پونچھ)
رابطہ ۔ 9469715470