ذرّے ذرّے میں خدا دیکھو
زمین و آسمان دیکھو، یہ کوہستان دیکھو
ہر سمت کہتی ہے قدرت کی داستان دیکھو
یہ برف پوش چوٹیاں، یہ چاندی جیسی وادیاں
خالق کے کمال کا ہے یہ بھی اک بیان دیکھو
بلندی کی یہ پروازیں، یہ بادلوں کے جھرمٹ
سراپا معجزہ ہے سارا یہ سماں، دیکھو
برستی آبشاروں میں، بہتی ندیا کی دھاروں میں
سنائی دیتی ہے خاموشی کی اذان، دیکھو
ہوائے تند و تیز جب ان پتھروں سے ٹکرائے
ہر اک چٹان میں چھپا اک رازِ نہاں دیکھو
خزاں کی زرد چادر ہو یا بہاروں کا تبسم
بدلتے موسموں میں رب کا عیاں نشاں دیکھو
جو کل تھے سنگِ بے جاں، آج گلزارِ رعنا ہیں
مٹی کی کوکھ سے اُگتا اک گلستاں دیکھو
مسافر! رک ذرا، سمجھ اس کارخانے کو
ذرّے ذرّے میں بسا حق کا نشان دیکھو
عجب اعجاز ہے اس کا، عجب یہ شانِ رب ہے
زمیں پہ بچھا دیا کیسا یہ سائباں دیکھو
ایوبؔ! کیا خبر تھی کہ ان کوہساروں میں
چھپا ہے زندگی کا کیسا یہ امتحان دیکھو
محمد ایوبؔ
ترال بالا پلوامہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛9596359446
زندگی ایک تضاد ہے
زندگی ایک سربستہ راز ہے
اسے سمجھنا دشوار ہے
اب میں بے قرار ذہن کے ساتھ یہاں بیٹھا ہوں
بیمار لوگ دھکے دھکا میں الجھے ہوئے ہیں
وہ زندگی کی امید میں مر رہے ہیں۔
سڑکیں، گلیاں اور کوچے گاڑیوں سے بھرے ہیں
گاڑیوں میں بیٹھے لوگ اپنی موت سے بے خبر ہیں۔
وہ ہنستے ہیں، خوشیوں کا جشن مناتے ہیں
مگر موت ان کا سب سے قریبی ساتھی ہے۔
میرے نزدیک زندگی ایک میلا کچیلا تحفہ ہے
ایمبولینس دیکھ کر میرا دل بے چین ہو جاتا ہے۔
پھر بھی موت اپنا کام خاموشی سے جاری رکھتی ہے
ایمبولینس شفا کا استعارہ بھی ہے
اور مایوسی کا نشان بھی۔
سچ تو یہ ہے کہ ہسپتال کی ہر شے میں اُداسی سمائی ہے
مگر زندگی کے اصل سبق بھی ہسپتال ہی میں سیکھے جاتے ہیں
زندگی کی امید میں ہم ہر روز مرتے ہیں
زندگی بس جینے اور مرنے کا نام ہے۔
بلال احمد صوفی
خوشی پورہ، ایچ، ایم، ٹی، سرینگر
موبائل نمبر؛6006012310
قطعات
رنگ ہو سرخ اس کا یا پیلا
ڈنک سب کا مہین ہوتا ہے
کاٹ کھاتا ہے یہ بنا مطلب
ہر تتیا کمین ہوتا ہے
یہ محلہ ہے کتنے ننگوں کا
اس کا شاید تجھے پتا ہی نہیں
چھت پہ ڈالا تھا میں نے جو کچا
وہ مجھے آج تک ملا ہی نہیں
بیوی کے آج سانچے میں وہ اتنا ڈھل گیا
گھر میں ذرا سا خرچ بھی اب اس کو کُھل گیا
اَبا نے بیڑیاں جو منگائیں تو کہہ دیا
کل رات اس کی جیب سے بٹوا نکل گیا
کہیں سے پٹ کر وہ آرہا ہے
تو عقل تھوڑی سی پا رہا ہے
ہر ایک لڑکی کو آج سے وہ
بہن جی کہہ کر بلا رہا ہے
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
ہے دعائے خیر کا حقدار فاروقؔ کوٹوی
کوہستانِ ’’ڈوڈہ‘‘ کا ہے کامگار فاروقؔ کوٹوی
مُفلس و نادار ہے لیکن ہے یار فاروق کوٹوی
کھیت اور کھلیان سے رشتہ تھا اس کا پیشتر
کررہا ہے شہر میں اب کاروبار فاروقؔ کوٹوی
گائوں میں معقول ذرائعے ہوتے نہیں ہیں کام کے
ہوگیا ہے اس سبب اب گائوں بدر فاروق کوٹوی
پہنچتے ہی شہر میں اس کو ملا اِک فردِ نیک
جس پایا بعدِ تعارف ہے بیکار فاروقؔ کوٹوی
اُس نے اس کو دی صلاح بیچو میان اخبار تُم
یہ کارِ خیر اِس شہر میں اب تم کرو فاروق ؔکوٹوی
اس سبب معروف یہ پیکر ہوا کیا خاص و عام
اب سب کی نظروں میں رونقِ بازار ہے فاروق کوٹوی
ساتھ میرے اور بھی اب ہوتے ہیں اس کے منتظر
جستہ جستہ کھٹکھٹاتا ہے سب کے در فاروقؔ کوٹوی
آئینہ دار صداقت کو یہ دِکھا دیتا ہے روز
پابندِ اوقات کی اِک دیوار ہے فاروقؔ کوٹوی
اب بدولت اس کے ہی ملتا ہے ’’عظمیٰ‘‘ وقت پر
کیا مجسم اِک پیکرِ اطوار ہے فاروقـؔ کوٹوی
پھوٹتی ہے صحن میں جب سحر کی پہلی کرن
بانٹتا رہتا ہے تب اخبار فاروق کوٹوی
جن کو اخبارات کی دُنیا سے کچھ رقبت نہیں
اُن کی نظروں میں فرد اک بیکار فاروق کوٹوی
وہ جگا دیتا ہے گاہک کو سلام شوق سے
اِک پیکر شیریں طبع گفتار ہے فاروقؔ کوٹوی
فابلِ توصیف اِس کی خندہ پیشانی ہے عام
سازِ فطرت سے جڑی اِک تار ہے فاروق کوٹوی
ہو عطا عمرِ دراز اِس فردِ کامل کو عُشا
ہے دُعائے خیر کا حقدار فاروقؔ کوٹوی
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469