انسان دنیا کی مشکل ترین مشین ہے ۔اس مشین کی مرمت اور اس کی نوک پلک سنوارنے کے لئے انسان کو قدرت ہی نے وہ علم عطا کیا ہے ،جس کی بدولت وہ اس مشین کے کُل پرزے ٹھیک بھی کرتا ہے اور قدرت ہی کی پیدا کردہ اقسام کی ادویات سے اس کی دیکھ بھال کرکے اُسے گوناگوں پریشانیوں سے نجات بھی دلاتا ہے۔معمولی سَر درد انسان کا دھیان اپنی اولاد اور اپنے مال و دولت سے بھی ہٹا دیتا ہے ،پھر وہ اگر کسی بڑے مرض میں مبتلا ہو تو پوری دنیا اس کے لئے بے وقعت بن کے رہ جاتی ہے۔’’جان ہے تو جہاں ہے ‘‘والی بات انسان اپنے ذہن میں رکھے تو غیر ضروری اور نقصان دہ عادات اور بے شمار نفسیاتی خواہشات اُسے مغلوب ہی نہیں کرسکتی ہیں۔
انسان زمین پر اپنی اور پوری انسانیت کی بقا کے لئے جتنے بھی ہُنر اور پیشے اختیار کئے ہوئے ہے اُن میں ڈاکٹر ی کا پیشہ سب سے مقدس بھی ہے اور سب سے زیادہ قابل ِ قدر بھی ہے۔مقدس اس لئے کہ ڈاکٹر اور بیمار دونوں اپنے خالق کے دربار میں خلوصِ نیت کے ساتھ دست بدعا رہتے ہیں ،جہاں بیمار کو اپنی صحت یابی کی آس لگی رہتی ہے وہیں ڈاکٹر بھی اپنی کامیابی کے لئے کوشاں رہتا ہے ۔
ہماری اس بستی میں ایسے بھی ڈاکٹر صاحبان گذرے ہیں جو یقیناً بے شمار دلوں کی دھڑکن بن کر آج بھی عزت و احترام سے یاد کئے جاتے ہیںکیونکہ وہ قابل ہونے کے ساتھ ساتھ انسان دوست ،غریب پرور ،نرم مزاج اور سب سے بڑھ کر خدا ترس بھی ہوا کرتے تھے۔اپنے زیر علاج بیمار کا وہ ایسے خیال رکھتے تھے جیسے ایک ماں اپنے دودھ پیتے بچے کا خیال رکھتی ہے اور بیمار بھی اُن کی تجویز کردہ دوا سے زیادہ اُن کے حُسن ِ سلوک اور بھر پور تسلی و تشفی سے کافی حد تک اچھا محسوس کرتے ،ایسے فرشتہ صفت معالجوں کا آج کے تُند خو ،متکبر اور زر پرست ڈاکٹروں سے کیا موازنہ؟اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے سبھی افراد کو اگرچہ ایک ہی لکڑی سے ہانکا نہیں جاسکتا ہے لیکن اُن کی ایک کثیر تعداد زَر پرستی اور خود پسندی میں اب اس قدر ڈوب چکے ہے کہ اس پیشے کا تقدس خود اُن سے پامال ہوتا جارہا ہے۔حصول ِ زَر کے لئے اپنی اس کراہتی اور سسکتی بستی کو بے یار و مددگار چھوڑ کر سمندر پار ملکوں میں جانا ہمارے ڈاکٹر صاحبان کا اپنے پیشے سے جہاں سراسر نا انصافی ہے وہیں اس بستی میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق بھی ہے۔صحیح معنوں میں دیکھیں تو یہاں کے ہسپتالوں کی موجودہ ناگفتہ بہ حالت بھی ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور من مانی کا نتیجہ ہے۔صفائی کا فقدان ،بازاروں جیسا شور شرابہ اور تیمار داروں کے ساتھ ڈاکٹروں کی بچوں جیسی تُو تُو میں میں دیکھ کر لگتا ہے جیسے انسان ہسپتال میں نہیں بلکہ کسی لمبے چوڑے پولٹری فارم میں داخل ہوا ہو ،جہاں ہفتوں سے بھوکے پیاسے ہزاروں مُرغ مرغیاں دانہ پانی کے لئے ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہوں۔
ڈاکٹروں کی اپنے فرائض سے چشم پوشی اور مال و دولت کی بے انتہا ہوس ہی یہاں کے ہسپتالوں میں بد نظمی اور افراتفری کی بنیادی وجہ ہے۔ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں عدم دل چسپی اور اپنی پرائیویٹ دکانوں پر آنے کی تلقین اب بستی کے ڈاکٹروںکا وطیرہ بن چکا ہے ۔دینار و درہم کی کھنکار میں اُنہیں یہاں کے بے بس ،غریب ،لاچارومجبور بیماروں کی آہیں سُنائی ہی نہیں دیتی ہیں۔اپنی بستی چھوڑ کر ،بے شک باہر کے ملکوں میں پانچ دس سال گزار کر اور پھر اپنے ساتھ ڈھیروں ساری دولت لاکر یہاں عالیشان محل بنواکر وہ اپنے آپ کو سماج کے اونچے منصب پر فائز سمجھتے ہیں لیکن یہی سب کچھ عزت نہیں،عزت تو انہیں اپنے پیشے ہی کی بدولت مل سکتی ہے بشرطیکہ وہ خود کو یہاں کے محتاجوں ،مسکینوں اور بے سہارا مریضوں کی خدمت کے لئے وقف کریں اور اپنے پیشے کو داغدار ہونے سے بچائیں۔آج سے ستر سال پہلے یہاں موجود انگریزوں کے وہ ہسپتال یاد آتے ہیں جن میں داخل ہوتے ہی کوئی بھی ذی شعور انسان مرعوب ہوکر وہاں کے معالجوں اور انتظامیہ کی داد دیئے بغیر نہیں رہتا ۔پورے ہسپتال پر ایسی خاموشی چھائی رہتی تھی کہ سوئی گرنے تک کی آواز بھی انسان سُن سکتا تھا ،کیا مجال کسی کمرے یا کسی وارڈ سے کوئی اونچی آواز سُنائی دیتی،ہسپتال میں ایسا موحول اور ایسی فضا قائم رہتی کہ جو مریض آج مہینوں تک ٹھیک نہیں ہوتے وہ اُس وقت دنوں میں تندرست ہوکر باہر نکل آتے۔اُس وقت کے ڈاکٹروں کو بیماروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی فرشتہ معصوم بچے کو لوری سُنا رہا ہو۔دورِ حاضر کے ڈاکٹر صاحبان کو کسی مریض کی رو داد سُننے کی فرصت ہی کہاںہے ۔وہ تو باہر لگی بیماروں کی لمبی قطار جلدی جلدی نپٹانے کی ہی فکر میں ہوتا ہے اور اس پراگندہ فکری میں وہ کبھی بیمار کے سامنے بولتے کچھ اور ہیں لیکن نسخے پر لکھتے کچھ اور ۔۔۔!
بہر حال !غلاموں کی اس بستی میں بسنے والے موجودہ دور کے معالج یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لیں کہ جس مقدس پیشے سے وہ وابستہ ہیں ،وہ تب تک اُن کے لئے دونوں جہانوں میں باعث عزت و کامرانی رہے گا جب تک وہ دنیا طلبی سے اپنے آپ کو دور نہ رکھیں گے ،ورنہ اگر وہ دنیاوی لذتوں اور شیرینیوں میں ہی کھوئے رہیں گے تو اُن کی مثال اُن چوپایوں جیسی ہے جو سرسبز و شاداب وادیوں میں چرنے کے بعد بالآخر ذبح کئے جاتے ہیں۔
احمدنگر سرینگر
فون نمبر۔ 9697334305