مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہا ئے سادگی سے کھاگیا مزدور مات
(اقبال)
گزشتہ دو تین ماہ سرزمین ہند لٹیرے حکمران طبقوں کے ترجمان شاطر، بازیگر اور مداری ، سیاست دانوں کا تماشہ دیکھتی رہی ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لئے انتخابی دنگل میں ان انتخابی پہلوانوں نے مختلف پانسے پلٹ کر، مختلف تماشے اور ڈرامے دکھا کر ہندوستانی جنتا کادل لبھانے کی کوشش کی ہے،جنت ارضی کے نقشے کھینچے ہیں، سنہری سپنے دکھائے ہیں، ملک کو سونے کی چڑیا بنانے کی ڈگڈگی بجائی ہے، غربت، بھوک، افلاس، مہنگائی، بے کاری، رشوت، بھرشٹاچار، کنبہ پروری ختم کرنے کے اعلانات اور دعوے کئے ہیں اور ہندوستانی عوام کو ووٹوں کے ذریعہ اپنی تقدیر سنوارنے کا وشواس دلایاہے۔ اس قسم کا شاطرانہ سیاسی کھیل تماشہ یاڈرامہ پہلی بار نہیںہوا۔ ہر پانچ سال کے عرصہ کے بعد 1947سے لے کر ہندوستانی عوام ہرپانچ سال کے بعد 17ویں بار یہ منظر دیکھ رہے ہیںلیکن جب کھیل ختم اور پیسہ ہضم ہوجاتاہے توپھر اس ڈرامہ کے کردار اور کارندے عوام کو نظراندا ز کرکے خود اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور عوام کو یکسر بھلادیتے ہیں۔ عوام ہربار اُن کو سبق سکھانے کا ذہن بناتے ہیں لیکن وقت آنے پر عوام پھر ان ڈرامہ بازوں اور مداریوں کی فریب کاری کا شکار ہوجاتے ہیں اور انتخابی ابہامات کا شکار انتخابی وعدوں پر اعتبار کرنے لگتے ہیں۔ گزشتہ 72سال سے مرگِ ترشنا اور آب از سراب‘‘ کا یہ سلسلہ جاری ہے اور عوام ریگستانی ہرن کی طرح ریت کے نظروں کوپانی سمجھ کر دوڑ لگاتے ہیں، لیکن وہاں اُنہیں پانی کی جگہ چمکتی ہوئی ریت دستیاب ہوتی ہے۔ اب کی بار پھر یہی آزمودہ عمل دوہرایا گیاہے ۔ اس کو شومئی قسمت سمجھئے کہ گزشتہ سولہ بار کے تجربے سے سبق نہ سیکھ کر عوام لٹیرے طبقوں کے شاطر سیاست دانوں کی فریب کاری کا شکار ہوکر انتخابی ابہامات میں اُلجھ کر اُن کے جال میں پھنس گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے بعدا ُن کی خوش قسمتی کے دروازے کھل جائیںگے، لیکن ہمیںمعلوم ہے کہ اُن کے لئے حالیہ تجربہ بھی وہی گل کھلائے گاجو گزشتہ سولہ مرتبہ ہم سب دیکھ چکے ہیں۔عوام کی مشکلات، مصائب اور تکلیفات بدستوار قائم رہیںگی۔ مہنگائی، بے کاری، رشوت، بھرشٹاچار، کنبہ پروی، اقرباء نوازی کا دور جاری رہے گا اور پانچ سال تک عوام پھر اپنا سرپیٹتے رہیںگے۔ ہم نے بارہا عوام کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی ہے کہ انتخابات کے ذریعہ اُن کی زندگی میں کوئی بہتر تبدیلی نہیںآسکتی۔ کیونکہ لوٹ کھسوٹ کے نظام میں لٹیرے حکمران طبقے انتخابات کا ڈرامہ محض عوام کو عوامی اورانقلابی جدوجہدوں سے توجہ ہٹانے اور گمراہ کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ انتخابی سیاسی پارٹیاں ان لٹیرے حکمران طبقوں کی ہی نمائندہ ہیں جوکہ ایک دوسرے کے ساتھ مصنوعی جنگ کرکے اقتدار حاصل کرتی ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کرتیں اور عوام اِسی چکر میں پھنستے رہتے ہیں۔ اب کی بار بھی ایسا ہی گھناؤنا منظردیکھنے میںآیاہے۔
حالیہ انتخابات میں سب سے بڑی صف آرائی کانگریس پارٹی اور اُس کے اتحادیوں (جنہیں پروگریسو ڈیموکریٹک الائینس کا نام دیاگیاہے )اور بھارتیہ جنتاپارٹی کے درمیان تھی (جسے نیشنل ڈیموکریٹک الائینس کا نام دیاگیاہے) کے درمیان تھی مگر بعض علاقائی پارٹیوں نے بھی مورچے بناکر اس صف آرائی میں شمولیت کی تھی۔ اس صف آرائی میں نریندرمودی کی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائینس کو کامیابی نصیب ہوئی ہے اور اُن کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائینس نے اقتدار حاصل کرلیاہے۔ کانگرس کی زیرِ قیادت یونائٹیڈ پروگریسو الائینس ناکام رہاہے۔ نام نہاد کمیونسٹوں کوبھی بری طرح شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
ہندوستانی عوام نے گزشتہ عرصہ میں دونوں الائینسوں کی سرکاروں کااچھی طرح تجربہ کیاہے۔ سبھی کومعلوم ہے کہ دونوں الائینسوں کی بنیادی پالیسیوں میںکوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں سامراجیوں ، گماشتہ سرمایہ داروں اور لینڈلارڈوں کے مفادات کی ترجمان اور نگہبان ہیں۔ دونوں کے عہد میں سامراجیوں، گماشتہ سرمایہ داروں اور لینڈلارڈوں کی تجوریاں بھری گئی ہیں اورمحنت کش مزدور، کسان، درمیانہ طبقہ اور کم تنخواہ ملازمین استحصال کا مسلسل شکار ہو تے رہے ہیں ۔ دونوں کے عہد میں بدستور مہنگائی، بے کاری، بے روزگاری، رشوت، بھرشٹاچار، اور کنبہ پروری میں اضافہ ہوتارہاہے۔ شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کو پائمال کیاجاتا رہاہے۔ اس لئے ان دونوں میں سے کوئی بھی برسر اقتدار آئے ہندوستانی عوام کی حالت زارمیں کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔ گزشتہ تجربات کا یہی ماحصل ہے۔
حالیہ انتخابات میں نریندرمودی کی قیادت میں بھاجپا اور اُس کی رہنمائی میںقائم نیشنل ڈیموکریٹک الائینس نے دوسری بار عددی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے پیشتر 2014میں بھی اُس نے کانگریس اور اتحادیوں کی سرکار کی کوتاہیوں ، ناکامیوں، بدعنوانیوں، برکرداریوں، رشوت ،بھرشٹاچار ،گھپلے گھوٹالوں کو نشانہ بنا کر اور معیشت کو دُرست کرنے، رشوت ،بھرشٹاچار کو ختم کرنے، مہنگائی کاانسداد کرنے، بے کاری پر روک لگانے کے لئے دوکروڑ نوکریاں وضع کر نے، ہڑپ کئے گئے قومی سرمایہ کو غیرملکی بنکوں سے واپس لاکر ہر ہندوستانی کے بنک اکاؤنٹ میں فی کس پندرہ لاکھ ازخود جمع کر نے ،عوام کا معیار زندگی بلند کرنے ، اچھے دن آنے کاخواب دکھلانے، سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن گزشتہ پانچ سال کے عرصہ میں اس سلسلہ میں مودی سرکاران وعدوں کو عملانے میں کوئی مثبت سراسر ناکام رہی ہے اور اس سلسلہ میں کوئی لیکھا جوکھا پیش کرنے کی بجائے اور اس سلسلہ میں ا ٓئندہ کوئی مثبت قدم اُٹھانے کی نشاندہی کرنے کی بجائے اپنی خامیوں، بدکار یوں، بدعنوانیوں کوچھپانے کے لئے کھلے عام جارحانہ ، وطن پرستی، ہندوشاؤنزم، مصنوعی خطرات ، مذہب ، دھرم اور ذات واد کے جذبات اُبھارے ہیںاور عوام کو حقیقی مسائل سمجھنے کی قوت کو مفلوج کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔ اُس نے کھلم کھلا پار کے ساتھ جنگ بازی، مصنوعی سیکورٹی مسائل اُبھار کر ، مالیگائوں بم کیسوں میںماخوذ پرگیہ ٹھاکر جیسی ملزمہ کو بھوپال سے اپنا اُمیدوار بناکر، ہندوستان پاکستان کے درمیان چلنے و الی سمجھوتہ ایکسپر یس پر جان لیوا حملہ کرنے میں ملوث ملزموں کو رہا کرکے عیاں طورپر واضح طورپر پارلیمانی انتخابات کی فضا فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار کر کے کامیابی حاصل کرنے کی جی جان سے کوششیں کیں اور کامیاب ر ہی۔ حالات کے ا س پس منظر میں خاص کر پلوامہ سانحہ کی آڑمیں قوم کے جذبات برانگیختہ کئے گئے اور یوں بھاجپاکی قیادت والی سرکار اپنی کوئی سابقہ ٹھوس کارکرد گی دکھانے کے بل پر دوبارہ منڈیٹ مانگنے کی بجائے انتخانی محاذ کو بڑی مہارت کے ساتھ جارحانہ وطن پرستی اور ہندو شاؤنزم کے جذبات کو اُبھارتی رہی۔
بھاجپا کی رہنمائی میں اور نریندرمودی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائینس کی کامیابی پر اس پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے جشن کے ڈنکے بجائے جارہے ہیں، چراغاں کئے جارہے ہیں، طرح طرح سے قصیدہ خوانی کی محفلیںسجائی جارہی ہیں، شادیانہ بجائے جارہے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اقلیتوں کے خلاف کئی جگہ طوفان بدتمیزی بپا کی جارہی ہے ۔ اس کے مقابلے میں کانگرس اور اُس کے اتحادیوں کے خیمہ میں مایوسی، بددلی او رپژمردگی چھائی ہوئی ہے اور وہ محض تماشائی کا کردار نبھا رہے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اگر نیشنل ڈیموکریٹک الائینس کی بجائے کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پر مشتمل حکومت قائم ہوجاتی ، تب بھی بنیادی پالیسیوں میںکوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی تھی اور نریندرمودی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائینس کی حکومت قائم ہونے سے بھی بنیادی پالیسیوں میںکوئی تبدیلی واقع نہیںہوگی۔ کہتے ہیں کہ کسی نے اونٹ سے پوچھا کہ چڑھائی اچھی ہے یااُترائی، توا ُس نے جواب دیا کہ ہردو لعنت ہیں۔ ہمارے لئے بھی اور ہندوستانی عوام کے لئے ہر دوالائینس کا اقتدار باعث شکست وریخت ہے۔
جب تک ہندوستان میں سامراج گماشتہ ، سرمایہ داری اور لینڈلارڈازم کے اتحاد ثلاثہ کا اقتدار ختم نہیںہو جاتا، جس کے یہ دونوں سیاسی دھارے گٹھ جوڑ ترجمان اور نگہبان ہیں، تب تک ہندوستانی عوام نجات حاصل نہیںکرسکتے اور نہ ہی ہندوستانی عوام کی مشکلات، مصائب اور تکالیف ختم ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری رائے مسلمہ اور مصدقہ ہے۔ سامراج، گماشتہ سرمایہ داری اور لینڈلارڈازم کا اقتدار میں جس کے طفیل موجودہ سب تکلیفات، مشکلات اور مصائب ہیں، انتخابی راستے سے ہرگز ختم نہیں ہوسکتا۔ دُنیا بھر کا تجربہ اس امر کا گواہ ہے ۔ اس لئے انتخابی راستہ کے متبادل انقلابی اور عوامی جدوجہدوں کا راشتہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ راستہ اختیار نہیںکیا جاتا تب تک لٹیرے طبقوں کا اقتدار ختم نہیںکیا جاسکتا اور تب تک عوام کی نجات بھی ممکن نہیں ہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ انتخابی ابہامات میںپھنس کر گمراہی و بے جہتی کا راستہ اختیار کر کے سولہ بار زیر ِکار لانے کے باوجود ہندوستانی عوام آج تک کوئی سبق نہیں سیکھ سکے ہیں۔ وہ انتخابات کے موقع پر طالع آزما سیاست دانوں کے انتخابی ڈھونگ کے زیر ِاثر آنے سے بچ نہیں جاتے ہیں۔ آئندہ ا س راستے سے اجتناب کرنے کا ذہن بناتے ہیں اور پانچ سال انتخابات سے کنارہ کشی کا اعلان کرتے رہتے ہیں لیکن عین انتخابات کے موقع پر انتخابی سیاست دان ایسا جادوکرتے ہیں کہ ووٹر سابقہ تلخیوں اور محرومیوں کو فراموش کرکے پھر سے خود غرض سیاسی سانپوں کی زہر ناکیوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ غالب نے ہلکائے ہوئے کتے کے ڈسے ہوئے شخص کے تجربہ کی بنیاد پر کہاتھا ؎
پانی سے سگ گزید، ڈرے ہے جس طرح کوّا
آئینہ سے ڈرتاہوں کہ آدم گزیدہ ہوں
لیکن بار بار سیاسی آدم گزیدوں کے تجربہ سے ہندوستانی عوام نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہندوستانی عوام اُلناس اس سادہ لوحی کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے سو فی صد سچ کہاتھا ؎
دائے ناکامی متاعِ کا رواں جاتارہا
کارواں کے دل سے احساس ِزیاں جاتارہا
انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے کے بعد اس ملک کا اقتدار اپنے اتحادی طبقوں ، گماشتہ سرمایہ داروںا ور لینڈلارڈوں کے سپرد کرکے جو مغربی انتخابی تو رائج کیا ہے، وہ محض ان استحصالی طبقوں کے اقتدار کومضبوط کرنے کے لئے منبع کیاگیاہے تاکہ عوام انتخابی ابہامات اور ہیراپھیریوں میںپھنسے رہیںا ور سامراج ، گماشتہ سرمایہ داری اور لینڈلارڈازم پر مشتمل اتحاد ثلاثہ انتخابی گمراہی پھیلا کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ۔ مجروح سلطانپوریؔ نے یہی ناقابل تردید حقیقت مند رجہ شعرمیں صحیح طورپر بیان کی ہے ؎
مجروحؔ قافلے کی میری داستاں یہ ہے
کہ رہبر نے مل کر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
انتخابی ابہامات اور گمراہی لٹیرے حکمران طبقوں کا موثر ہتھیار ہے جسے وہ ہمیشہ بروئے کار لاکر یہ طبقے لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں۔ حالیہ انتخابات کا حاصل بھی یہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام گزشتہ تجربات کی روشنی میںانتخابی گمراہی کا راستہ ترک کر متبادل عوامی و انقلابی جدوجہد کا راستہ اختیار کریں ؎
ہے وہی ساز ِکہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میںنہیں جواَز نوائے قیصری
(اقبال)