شخصیات
انجینئر محمود اقبال
27دسمبر،1797کو ’چچا‘ غالب محبتوں کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔اور 71سال کی عمر پاکر دہلی میں 15فروری،1869کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا تھا۔ ممتاز طنز و مزاح نگار مرحوم مجتبیٰ حسین صاحب اور ان کے ساتھیوں نے کافی جد و جہد کے بعد دلی کی گلی قاسم جان میں واقع غالب کی دیوڑھی کو بازیافت کرانے اور اسے تاریخی ورثہ قرار دینے کی کوشش کی تھی اور کامیاب رہے تھے۔سرکاری تحویل میں آنے کے بعد اس کی ضروری مرمت و تزئین و آرائش کی گئی تھی اور چیدہ چیدہ چیزوں کو اس میں سجایا گیا تھا اور عوام کے دیدار کے لئے آج اس کے کواڑ کھلے ہوئے ہیں۔کافی سال ہوگئے ہیں۔ جب سے ہم نے یہ خبر سنی تھی ہمارے دل میں انگڑایٔیاں لے رہی تھیں کہ جب بھی موقع ملے دلی جانے کا تو گلی قاسم جان کی بھی گلی ناپیں گے اور غالب کی دیوڑھی کے دیدار بھی۔اب کیا بتائیں ہم ٹھہرے ٹھیٹ کنکریٹ اور اسٹیل کے انجینئراس لئے دیو ڑ ھی کی در و دیوار کو زیادہ تکتے رہ گئے اور شیشوں میں سجی کتابوں اور چیزوں پر صرف طائرانہ نظر۔البتہ ہمیں وہ ’کمر بند‘ کہیں نظر نہیں آیا جس میں غالب سونے سے پہلے پی کر گانٹھ لگاتے تھے اور صبح اٹھ کر صفحہ قرطاس پر’ نیند‘ میں ناز ل شدہ اشعار لکھتے تھے۔
رات پی زمزم پہ مَےاور صبح دم
دھوئے دھبے جامۂ اِحرام کے
زمزم کے لفظی معنی ہیں، بہاؤ کو روکنا۔ ہم وہ کنواں یا چشمہ دیوڑھی کے آنگن میں ڈھونڈتے ہی رہ گئے، جہاں شاید وہ ۔۔۔ کیا غضب کی یاد داشت پائی تھی؟ہم صرف مختصر عرض کرناچاہتے ہیں۔غالب نے پیشن گوئی کی تھی کہ:
میں عدم سے بھی پرے ہوں،ورنہ غافل !بارہا
میری آ ہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
یہ شعر غالب کی آفاقی سوچ اور لافانی تخیل کی ایک نادر مثال ہے جسے ہم ’حرفِ تابندہ‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس شعرکی غنائیت ، معنویت، آفاقیت اور ابدیت کو سمجھنے اور اس کی تشریح سے پہلے مختصر سی تمہیدکی ضرورت ہے۔غالب کے اس شعر میں ’’عدم‘‘ سے مراد کائنات درکائنات اور اس سے بھی پرے، موت سے بھی پرے مراد ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس وسیع و عریض کائنات کے حدود و رقبہ کا تصور کیا ہے؟ سب سے پہلے یہ جان لیجئے کہ خلاء میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ اس کائنات میں ایسے ستاروں کا وجود بھی ہے جن کی روشنی ازل سے لے کر اب تک زمین تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ اوہ مائی گاڈ! یقینا آپ کے ذہن میں اب کائنات کے حدود کا تصور ابھرچکا ہوگا۔ اب اسی بات کو ہم دوسرے پیرائے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنی زمین ونظام شمسی کے حدود ورقبہ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ کچھ دیر کے لئے اس پورے نظام شمسی کو ایک تنکا سمجھ لیجئے۔ ہماری نظام شمسی ملکی وے کہکشاں کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح کے اور نظام ۔ اور وہ بھی بے حساب۔ جدید سائنس کی ریسرچ وتحقیقات کے مطابق اس پوری کائنات میں اربوں کھربوں کے حساب سے اور بھی کہکشائوں کا وجود ہے۔ اب ان تمام کہکشائوں کو ذرات سمجھ لیجئے اس کائنات کے۔اس کائنات میں نہ صرف کہکشائوں کا وجود ہے بلکہ ’’بلیک ہولس‘‘ بھی ہیں۔ اب ذراٹھہرئیے! جدید فلکیائی سائنس کے مطابق یونیورس ایک نہیں ہے بلکہ ملٹی ورس ہے یعنی کائنات درکائنات ہیں۔ ان تمام کائنات در کائنات سے پرے اور موت سے بھی پرے ’’عدم‘‘ کا تصور ہے اور انسان کی سوچ و عقل جواب دے جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہے؟ انسانی دماغ کی سوچ وفکر کی اڑان اتنی ہی ہے جتنی کہ اس کے خالق نے اسے عطاکی ہے۔ ’’عدم کے بعد ہم ’’عنقا‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں’ عنقا ‘سے مراد ایک خیالی فرضی پرندہ ہے جس کی اڑان آسمانی حدوں کو چھوتی ہو۔ ایسے ہی جیسے کہ علامہ اقبالؒ کے کلام میں جابجا حقیقی پرندہ شاہین کا ذکر ملتا ہے۔’ عنقا ‘کو ایک مثال کے ذریعہ یوں بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ’کیا شرافت دنیا سے عنقا ہوگئی ہے؟‘شعر میں ’غافل‘ سے مراد زمین پر بسنے والے غافل انسان ہیں۔
اس مختصر سی تمہید اور پس منظر کے بعد یہ عرض ہے کہ اس مضمون کا مقدنہ ہی سائنسی و فلکی ہے اور نہ ہی غالب شناسی۔ اب ہم اصل موضوع پر آتے ہیں۔ شعر کا پہلا لفظ ہے ’میں‘ یہاں ’میں‘ سے مراد نیک و صالح مومن بندہ! یہ مومن بندہ ’’عدم‘‘ سے زمین پر بسنے والے غافل بندوں کو دہائی دیتا ہے کہ میری آہِ آتشیں یعنی میری آہ و فغاں و شعلہ ریزی وپکار زمین کے آسمان کی حدوں کو چھونے والے ’’عنقا‘‘ خیالی پرندہ کے بال و پر کو جلاسکتی تو تمہاری آہوں، سسکیوں، سجدوں، عبادتوں، نمازوں اور دعائوں میں کیا کمی رہ گئی ہے کہ وہ عرش الٰہی تک نہیں پہنچ پارہی ہیں؟ یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جہاں غالب نے ’’میں‘‘ کے ذریعے اپنے آپ کو نیک و صالح بندہ کے طوپر پیش کیا ہے تو وہ وہیں یہ غلط فہمی بھی دور کی ہے کہ ؎
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیاں غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
کیا کورونا وائرس کی وبا انسانی غفلت، غلطیوں یا سازشوں کی دین یا واقعی میں عذاب الٰہی تھی؟ کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے؟1720 سے مختلف وبائیں زمین پر بسنے والے غافل انسانوں پر عذاب جان بن کر نازل ہورہی ہیں۔ شاید غالب نے اسی لئے بارہا پیشین گوئی کی تھی ۔تسلسل سے ہر 100 سال کے بعد یہ وبائیں انسانی زندگی پر قہر بن کر نازل ہورہی ہیں۔ 1720 میں طاعون کی وبا، 1820 میں کولیرا، 1920 میں ہسپانوی بخار اور 2020 میں کوویڈ19 وائرس کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ انسان گھر میں مقید ہوگیا تھا زندگی ٹھنڈی پڑگئی تھی۔ سڑکیں سنسان ہوگئیں تھیں۔ گلیوں، محلوں، محفلوں کی رونقیں ماند پڑگئی حتی کہ انسان اپنے ہی جیسے انسان سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا تھا اور ہاتھ ملانے سے گریز کررہا تھا۔ ڈاکٹر بشیر بدر سے معذرت کے ساتھ!
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائےگا جو گلے ملوگےتپاک سے
یہ نئے مزاج کا ’’قہر‘‘ہےذرا فاصلے سے ملا کرو
پہلی جنگ عظیم روایتی ہتھیاروں سے لڑی گئی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کا اختتام جاپانی شہروں ہیروشیما، ناگاسائی پر امریکی ایٹمی بمباری سے ہوا تھا۔ سابق امریکی صدر ارنالڈریگن نے اسٹاروارس کا شوشہ چھوڑا تھا۔ پھر چین اور امریکہ میں معیشت کی جنگ چھڑگئی جو ابھی بھی جاری ہے۔ نشہ میں دھت مرحوم سوویٹ یونین کے صدر لیویڈبرزیف نے اچانک 1979 میں افغانستان میں حملہ کا حکم دے دیا تھا جس سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بچ گئی تھی اور تب سے روس اور امریکہ کے درمیان افغانستان میں اپنے اپنے مفادات کی جنگ چھڑی ہوئی ہے جس کا نتیجہ طالبان کا زور اور نائن الیون کا سانحہ کا خمیازہ پوری دنیا آج بھی بھگت رہی ہے۔ پھر وہ مارا ماری شروع ہوئی کہ مشرق وسطی و افریقہ کے تقریباً مسلم ممالک تاش کے پتوں کی طرح امریکی جھولی میں گرتے چلے گئے، چالاک چین کی جدید و عالمی معیشت کا سنگ بنیاد سابق صدر و چیرمن ڈینگ زی پانگ نے رکھا تھا اور آج کے دور میں چینی صدر جی پنگ کی قیادت میں چین عالمی معیشت کی تقریبا منڈیوں پر قبضہ کرچکا ہے اور امریکہ منہ دیکھتا ہی رہ گیا۔روس اور یوکرین میں کیوں جنگ چھڑی ہوئی ہے؟
دو سال سے زیادہ ہوگیٔے ہیں اور نتیجہ؟
زمین پر بسنے والے یہی ’’غافل وناسمجھ انسان ‘‘ ہیں جن سے غالب مخاطب ہوئے تھے او ر ’بارہا‘ وارننگ دی تھی کہ اس وسیع وعریض کائنات در کائنات کا کوئی خالق حقیقی بھی ہے۔ اسی خالق نے زمین پر بسنے والے انسانی مخلوق کو اشرف المخلوقات، کے شرف سے نوازا تھا۔ لیکن انسانوں نے نہ صرف زمین پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہانا شروع کردیا بلکہ خالق کائنات کی دیگر مخلوقات پر بھی جانے انجانے میں ، شعوری و لاشعوری طور پر، شاید ان کا وجود ہی خطرہ میں ڈال دیا ہو؟اگر نوبل انعام کمیٹی والوں کو اردو آتی ہوتی تو صرف اسی ایک شعر پر کیا غالب ادب کے بعد از مرگ انعام کے حقدار نہیں ٹھہرتے؟جس میں غالب نے ازل سے ابد تک اور کائنات در کائنات کو تصور دو سو سال پہلے ہی بیان کردیا تھا؟ ہماری تمنا،انہیں کے الفاظ میں!
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقش پا پایا
رابطہ۔6309727951
[email protected]
���������������