عظمیٰ نیوزسروس
جموں// مرکزی وزیر ڈاکتر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ اگرچہ پہلی ریل 1972میں جموں تک پہنچ گئی تھی، تاہم کشمیر وادی تک اس کی توسیع کو حقیقی رفتار 2014میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ملی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔جموں ریلوے سٹیشن پر وندے بھارت ایکسپریس کی جھنڈی دکھانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں اور سری نگر کے درمیان براہ راست 20بوگیوں پر مشتمل اس جدید ٹرین کا آغاز ایک تاریخی کامیابی ہے، جو خطے میں ریل رابطے کے ایک نئے دور کی علامت ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس براہ راست ریل سروس سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ کاروبار، تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں۔سری نگر ریل رابطہ خطے کے عوام کا دیرینہ خواب تھا، جو اب پورا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہایہ منصوبہ نہ صرف سفر کے دورانیے کو کم کرے گا بلکہ دور دراز علاقوں تک رسائی کو بھی ممکن بنائے گا، جس سے مقامی معیشت کو قومی منڈیوں کے ساتھ جڑنے کا موقع ملے گا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بہتر ریل کنیکٹیویٹی سے مذہبی سیاحت میں بھی اضافہ ہوگا، خاص طور پر ویشنو دیوی جیسے اہم مقامات تک یاتریوں کی آمد میں اضافہ متوقع ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت بھی زیادہ مؤثر اور تیز ہو جائے گی۔انہوں نے اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ریل سروس سے سپلائی چین مضبوط ہوگی، نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے اور مقامی مصنوعات کو نئی منڈیوں تک رسائی ملے گی، جس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔سیاحت اور ثقافتی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ ریلوے کوریڈور انتہائی خوبصورت اور پہلے نسبتاً غیر رسائی والے علاقوں سے گزرتا ہے، جن میں سنگلدان جیسے مقامات شامل ہیں۔ بہتر رسائی کے باعث ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور فلم انڈسٹری بھی دوبارہ یہاں کا رخ کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ماضی میں فلمی شوٹنگ کے لئے ایک پسندیدہ مقام رہا ہے اور نئی ریل کنیکٹیویٹی اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، کیونکہ اب دور دراز اور قدرتی حسن سے مالا مال مقامات تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی قیادت میں جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014میں وزیر اعظم نے خود ویشنو دیوی کا افتتاح کیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خطے کی ترقی کے لئے سنجیدہ ہے۔بعد ازاں وزیر موصوف نے اشونی ویشنوکے ہمراہ وندے بھارت ٹرین کے ذریعے کٹرہ کا سفر کیا اور راستے میں چناب پل اور انجی پل کا معائنہ بھی کیا۔انہوں نے اس منصوبے کو ایک ‘‘پائلٹ پروجیکٹ’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل ہمالیائی علاقوں میں اس کی کامیاب تکمیل ایک عالمی سطح کی مثال ہے، اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کو مستقبل میں اتراکھنڈ،ہماچل پردیش اور شمال مشرقی ریاستوں میں بھی استعمال کیا جائے گا۔