عظمیٰ نیوز سروس
امپھال //منی پور کے لیلون ویفئی گاؤں سے گزشتہ ماہ 13 مئی کو مبینہ طور پر اغوا کیے گئے ناگا طبقہ کے 6 لوگوں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ تمام لاشوں کو امپھال واقع جواہر لال نہرو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (جے این آئی ایم ایس) کے مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں غم و غصہ کا ماحول ہے۔ اہل خانہ اور ناگا برادریوں کے اراکین لاشوں کی شناخت کرنے کے ساتھ ساتھ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لیانگ مائی ناگا کونسل منی پور کے صدر ٹموتھی وجونامائی نے کہا کہ سب سے پہلے اس بات کی تصدیق کی جائے کہ برآمد لاش واقعی میں انہی 6 لوگوں کی ہیں جو گزشتہ ماہ لاپتہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کی حالت کا جائزہ لینے اور شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے ساتھ میٹنگ کر آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ حکومتی کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وجونامائی نے کہا کہ لاشوں کو امپھال لانے میں 28 دن کا وقت لگنا انتہائی مایوس کن ہے۔
ان کے مطابق اس معاملے میں حکومت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی ہے اور اب برادری کی نظریں آگے اٹھائے جانے والے اقدامات پر مرکوز ہیں۔اس درمیان منی پور پولیس نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر چلائی گئی تلاشی مہم میں منی پور پولیس، مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور آسام رائفلز کے تقریباً 450 جوان شامل تھے۔ تلاشی مہم میں جاسوسی کتوں اور فارینسک ماہرین کی بھی مدد لی گئی۔ تقریباً 24 گھنٹے تک چلی مشترکہ مہم کے بعد 6 لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق لاشیں کانگپوکپی ضلع کے سیتو-گامفاجول سب ڈویژن کے کھارم ویفئی گاؤں کے قریب ایک جنگلاتی علاقے سے ملیں۔ یہ علاقہ بنیادی طور پر کوکی-جو برادری کی آبادی والا علاقہ مانا جاتا ہے۔ ناگا برادری کی مرکزی تنظیم یونائیٹڈ ناگا کونسل (یو این سی) نے 11 جون صبح 6 بجے سے 12 جون صبح 6 بجے تک 24 گھنٹے کے منی پور بند کا اعلان کیا ہے۔