یو این آئی
نئی دہلی//ہندوستان نے پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں مظاہرین پر پولیس کی زیادتی کوبربریت سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کو اس کے ظلم وزیادتی کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔ہندوستان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پاکستان فرضی ویڈیوز کے ذریعے اپنی ناکامیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہا، اس تناظر میں ہم پاکستان کی جانب سے فرضی خبروں اور ویڈیوز کا سلسلہ مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ یہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی پاکستان کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں شدید پولیس بربریت کی خبریں ہیں جس میں کئی مظاہرین ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری پاکستان کو اس کے برے کاموں اور مظالم کے لیے جوابدہ ٹھہرائے گی۔ترجمان نے جموں و کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے عزم کو دہرایا کہ پورا جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 اسمبلی نشستوں کو لے کر تنا وعروج پر ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کا الزام ہے کہ پاکستان حکومت ان نشستوں کا استعمال اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے کرتی ہے اور انہیں ختم کرنے کے مطالبے کو لے کر خطے میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پی او کے کی یہ بدامنی 27 جولائی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے بڑھتے ہوئے سیاسی تنا کے درمیان ہوئی ہے۔یہ احتجاجی مظاہرہ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں ہونے والی سب سے مہلک بدامنی کے ایک دن بعد ہو رہا ہے جس میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے اگلے مہینے ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے علاقے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ راولاکوٹ میں جے اے اے سی کے حامیوں کے ایک ساتھی کارکن کے قتل کے خلاف جمع ہونے کے بعد مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔