یو این آئی
نئی دہلی// روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ ہر سال سڑک حادثات میں لاکھوں جانوں کو بچانے کے واسطے، حکومت حفاظتی عوامل کی مکمل جانچ کر رہی ہے اور روڈ انجینئرنگ، آٹوموبائل انجینئرنگ، روڈ سیفٹی قوانین کی سختی سے پابندی، اور تعلیم اور بیداری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔نتن گڈکری نے جمعرات کے روز یہاں ہیبی ٹیٹ سنٹر میں سی آئی آئی کے زیراہتمام منعقدہ نیشنل کانکلیو آف روڈ سیفٹی میں اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر سال سڑک حادثات میں لاکھوں جانیں ضائع ہوتی ہیں اور اس کی روک تھام ضروری ہے، اس لیے روڈ انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ لائسنس کے حوالے سے بھی سخت اصول وضع کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نشے میں گاڑی چلانے کے زیادہ واقعات کے پیش نظر اس اصول کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور اگر بار بار نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا گیا تو ڈرائیونگ لائسنس مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی کے اقدام کو گریڈ سسٹم میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اور بار بار ہونے والے جرائم کے نتیجے میں گریڈ 12 تک پہنچنے کے بعد لائسنس معطل کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ سالانہ تقریباً 500,000 سڑک حادثات ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں 180,000 اموات ہوتی ہیں۔ ان میں سے 72 فیصد نوجوان ہیں جن کی عمر 18 سے 45 سال کے درمیان ہوتی ہے، جب کہ 18 سال سے کم عمر کے 10,119 بچے مرتے ہیں۔ ہیلمٹ نہ پہننے سے اموات کے اعداد وشمار 54,122 جبکہ سیٹ بیلٹ نہ پہننے سے اموات کے اعداد وشمار 14,466 سے زائد ہیں۔ تیز رفتاری بھی سڑک حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے جس سے 120,000 اموات ہوتی ہیں۔ بہت سے دیگر عوامل میں غلط سمت میں گاڑی چلانا، شراب کے نشے میں گاڑی چلانا، اور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال شامل ہے۔نتن گڈکری نے کہا کہ سڑک پر حفاظت کے لیے کئی نئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔ اس کے تحت، “پردھان منتری راحت یوجنا” شروع کی گئی ہے، جس کے تحت سڑک حادثہ کے کسی بھی شکار کو سات دن یا زیادہ سے زیادہ 1.5 لاکھ روپے تک کیش لیس علاج حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح “راہ ویر یوجنا” شروع کی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی حادثے کے شکار کو اسپتال لے جانے والے کو 25,000 روپے کا انعام دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ جو بھی حادثے کے شکار کی مدد کرے گا اسے کسی قسم کی قانونی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ متعدد دیگر اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ حادثات والے 100 اضلاع کی نشاندہی، بلیک اسپاٹس کی شناخت اور بہتری کے لیے ایک پروگرام، زیرو فیٹلٹی ڈسٹرکٹ مہم، ہمالیائی خطوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے 235 مقامات کی بنیادی ترقی، ٹرک ڈرائیوروں کے لیے لازمی ایئر کنڈیشنڈ کیبن، جدید ایمبولینس، رسپانس ٹائم 20 منٹ وغیرہ شامل ہيں۔