سرینگر//فوج کا کہنا ہے کہ مقامی جنگجوآخری وقت پربھی خود سپردگی کرسکتے ہیں اورہم اُنہیں یہ موقعہ فراہم کرنے کیلئے تیارہیں ۔ فوج کی وکٹر فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ راشم بالی نے پیر کوپولیس کنٹرول روم سرینگرمیں آئی جی پی کشمیروجے کمار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلع شوپیان کے مانی ہل بٹہ پورہ علاقے میں مقامی جنگجوئوں کوخودسپردگی کاموقعہ فراہم کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ فوج کے 44 آر آرکے افسراوراہلکارمحصورجنگجوئوں کے والدین تک پہنچے ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں تک کہ ایک جنگجو عاقب ملک کی اہلیہ اور 4سالہ بیٹے کوجائے وقوع پرپہنچایاگیا، لیکن عاقب اوردوسرے محصورجنگجوئوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ راشم بالی کا کہنا تھاکہ اسی وجہ سے آپریشن تاخیر کا شکار ہوگیا ، ورنہ یہ آدھے گھنٹے تک بھی نہیں چل پاتا۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم عاقب کے بہنوئی کو جائے جھڑپ پر لے آئے ، لیکن پھر بھی اُس(عاقب) نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ جی او سی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج آخری لمحات میں بھی بندوق تھامے مقامی لڑکوں کو ہتھیار ڈالنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک فوجی کو یہ کوشش کرنے کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوا ۔اس سوال کہ جنگجوئوں اور فورسزکے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے ، فوج کی وکٹر فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز پیشہ ورانہ کام کر رہی ہیں اور بعض اوقات ایسے مکانات جہاں عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں ،یہاں گنجان مقام ہونے کی وجہ سے آگ لگ جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں ، عسکریت پسندوں کو ایک کنکریٹ یاپختہ مکان میں پکڑا گیا ، جو مزید2 مکانات کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔انہوں نے کہاکہ جنگجو ایک مکان سے دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے۔ فوج کی وکٹر فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہاکہ بعض اوقات جنگجو فرار ہونے کی غرض سے گھروں کے اندرآگ لگادیتے ہیں ۔