نوجوانوں کیلئےروزگاراور5ضمانتوں کا اعلان
یو این آئی
کولکاتہ//وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز اعتماد ظاہر کیا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال میں اگلی حکومت تشکیل دے گی اور انہوں نے کہا کہ 4 مئی کو نتائج کے اعلان کے بعد وہ حلف برداری کی تقریب میں دوبارہ آئیں گے۔وزیر اعظم مودی دوسرے اور آخری مرحلے کے انتخابات کی مہم کے آخری دن ضلع شمالی 24 پرگنہ کے بیرک پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے حکمراں ترنمول کانگریس (TMC) پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر “سنڈیکیٹ راج”، سیاسی تشدد اور معاشی پسماندگی کے الزامات عائد کیے۔ مودی نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے لیے متعدد فلاحی اسکیمیں اور ریاست کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے روزگار کے فروغ کے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ مودی نے کہا کہ بی جے پی عوام کے اعتماد پر مبنی حکومت قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی حکومت لائیں گے جو اعتماد کی حکومت ہوگی۔وزیر اعظم نے نوجوانوں کے لیے پانچ یقین دہانیاں پیش کرتے ہوئے کہا،سرکاری بھرتی کے اشتہارات باقاعدگی سے جاری کیے جائیں گے۔ تمام خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے گا اور سرکاری ملازمین ترنمول کانگریس کے خوف سے آزاد ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت کے تحت ریاستی ملازمین کو ساتویں تنخواہ کمیشن کے فوائد حاصل ہوں گے۔پی ایم مودی نے روزگار کے مواقع پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کنٹینٹ تخلیق، گیمنگ اور دیگر تخلیقی صنعتوں کے لیے نئے پلیٹ فارم قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بنگال کے تخلیقی نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔انہوں نے دیہی روزگار میں اضافہ کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ دیہات میں وی-جی رام جی اسکیم کے تحت 125 دن کی روزگار گارنٹی نافذ کی جائے گی۔ کاریگروں اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد کو مرکزی حکومت کی اسکیموں کا مکمل فائدہ دیا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی مجموعی ترقی کے لیے مغربی بنگال کی ترقی ضروری ہے اور مشرقی خطے کا عروج ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا: “مغربی بنگال کی خدمت کرنا، اسے محفوظ رکھنا اور اس کا تحفظ کرنا میری تقدیر اور ذمہ داری ہے۔انہوں نے پڑوسی ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “اوڈیشہ اور بہار کے بعد اس بار مغربی بنگال میں بھی کمل کھلے گا۔” انہوں نے ترنمول کانگریس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے بنیادی نعرے “ماء، مٹی، مانوش” کو نظر انداز کیا ہے اور ریاست کی ترقی کے لیے اس کے پاس کوئی واضح وژن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں جبکہ جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہیں۔مودی نے کہا: “ایک طرف ملیں بند ہو رہی ہیں، دوسری طرف کچے بم بنانے کی فیکٹریاں کھل رہی ہیں، جہاں غنڈوں کو نوکری دی جا رہی ہے اور ترنمول کا نیٹ ورک پھیل رہا ہے۔” وزیر اعظم نے حکمراں جماعت پر الزام لگایا کہ وہ حکمرانی کے بجائے گالی گلوچ اور دھمکیوں کی سیاست کر رہی ہے۔