ایجنسیز
ابوظہبی//بھارت مغربی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔مودی اور النہیان کے درمیان یہ ملاقات وزیراعظم کی خلیجی ملک میں آمد کے فوراً بعد ہوئی، جو ان کے پانچ ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس میں چار یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔وزیراعظم مودی نے اپنی ابتدائی گفتگو میں کہا، ’’ہم یو اے ای پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘یو اے ای، جہاں امریکہ کا ایک اہم فوجی اڈہ موجود ہے، ایران پر جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔مودی نے مزید کہا،’’جس طرح یو اے ای کو نشانہ بنایا گیا وہ ناقابل قبول ہے‘‘، تاہم ’’جس تحمل کے ساتھ یو اے ای نے موجودہ صورتحال کو سنبھالا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔‘‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں اور کہا، ’’بھارت مغربی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون دینے کو تیار ہے۔‘‘وزیراعظم کا استقبال خود یو اے ای کے صدر نے ایئرپورٹ پر کیا، جو اس دورے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ بھارتی رہنما کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔مودی نے سوشل میڈیا پر کہا، ’’میں اپنے بھائی شیخ محمد بن زاید النہیان کا ابوظہبی ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’میں ہماری بات چیت کا منتظر ہوں جس کا مقصد توانائی، سرمایہ کاری، سپلائی چینز اور دیگر اہم شعبوں میں بھارت اور یو اے ای کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔‘‘اس سے قبل چار یورپی ممالک کے دورے سے پہلے جمعہ کے روز مختصر دورے پر یہاں پہنچے وزیراعظم نریندر مودی کا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے ہوائی اڈے پر گرمجوشی سے استقبال کیا ۔ مودی کا بعد ازاں روایتی خیر مقدم کیا گیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت شروع ہوئی۔ وفود کی سطح کی بات چیت کے بعد وزیراعظم کا صدر آل نہیان کے ساتھ علیحدہ سے ملاقات کا بھی پروگرام ہے۔ مودی آج صبح متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ابو ظہبی سے ان کا آج شام ہی نیدرلینڈز جانے کا پروگرام ہے۔اس دوران متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ہندوستان میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے توانائی، دفاع، جہاز رانی اور سپر کمپیوٹر سمیت چھ اہم شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔