سری نگر // تحریک حریت کے سربراہ مرحوم محمد اشرف صحرائی کے 2 بیٹوں کو پولیس نے اتوار کے روز گرفتار کیا۔ سیاسی لیڈروں نے پولیس کی اس کارروائی کی مذمت کی۔ پولیس نے 5مئی کو جموں اسپتال میں جاں بحق ہوئے نظر بند تحریک حریت صدر محمد اشرف صحرائی کے دوبیٹوں کو حراست میں لیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی کو بلبل باغ برزلہ سرینگر میں انکی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا اور انہیں کپوارہ پہنچایا گیا۔ مرحوم صحرائی کے فرزندوں کو6مئی کو صحرائی کے آخری سفر کے دوران نعرہ بازی کے سلسلے میں ٹکی پورہ کپوارہ پولیس تھانے میں درج کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اتوار کو حکومت ہند پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ جموں کشمیر میں مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ایک مسئلے کا حل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اشرف صحرائی کے دو بیٹوں ،جونظر بندی کے دوران ناکافی طبی نگہداشت کی وجہ سے اپنے والد کو کھو چکے ہیں ، کو گرفتار کیا گیا ۔انہوں نے مزید کہا’’ حکومت ہند کی جانب سے ہر ایک مسئلہ کا حل پبلک سیفٹی ایکٹ ہے ، اس کی تازہ مثال اشرف صحرائی کے بیٹے ہیں ۔محبوبہ نے کہا کہ ہندوستان میں مرنے والوں کے ساتھ بد سلوکی کی جا رہی ہے لیکن کشمیر میں زندہ رہنے والوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا’’پوری دنیا میں لوگ فلسطین پر اسرائیل کے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، لیکن کشمیر میں یہ قابل سزا جرم ہے جہاں ایک فنکار کیخلاف پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور ایک مبلغ کو محض فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر گرفتار کیا جاتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’کشمیر ایک کھلا جیل ہے جہاں لوگوں کے خیالات پر نگاہ رکھی جارہی ہے اور انہیں اس کی سزا دی جارہی ہے، کسی کی رائے کے اظہار کیلئے اب کوئی مکانیت باقی نہیں بچی ہے اور یہ کشمیریوں کو دیوار کی جانب دھکیلنے کی دانستہ کوشش ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔پیپلز کانفرنس سربراہ سجاد غنی لون نے محمد اشرف صحرائی کے بیٹوں کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا’’ اس ریمبو کلچر کا کبھی خاتمہ ہوگا؟‘‘۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا’’اور آپ نے یہ کیوں کیا،کون سا معاشرہ آپ کی کاروائی نظر انداز کرے گا، وہ اپنے والد کو کھو چکے،جو سرکاری حراست میں جاں بحق ہوئے،آپ کس کیلئے سرکشی کر رہے ہیں،ہاں آپ ظالمانہ اور بدصورت متصور ہوتے ہیں،کیا اس ریمبو کلچر کا اب خاتمہ ہوگا؟‘‘۔سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہجماعت اسلامی لیڈر مرحوم اشرف صحرائی کے سیاسی نظریات کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے ، مگر مرحوم کے اہل خانہ سے کسی قسم کی عداوت نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا’’کچھ لوگ مرحوم کے بیٹوں کو اپنے والد کے خیالات کی سزا دیتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو بالکل غلط ہے اور میں اس قسم کی سوچ کو رد کرتا ہوں‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’مجھے لگتا ہے کہ یہ ُان لوگوں کاکام ہے جو مرحوم کے انتقال کے بعد اُن کے اہل خانہ سے لڑنا چاہتے ہیں‘‘۔
پی ایس اے عائد نہیں کیا: پولیس
نیوز ڈیسک
سرینگر //پولیس نے اتوار کو اس حوالے سے بتایا کہ مرحوم اشرف صحرائی کے بیٹیوںپر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ سماجی میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی ہیں۔کشمیر پولیس زون نے ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے کہا’’مرحوم صحرائی کے2 بیٹے اور 4 دیگر افراد کو آخری رسومات کے دوران قوم مخالف نعرہ بازی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے، لیکن ، ان پر ’’پی ایس اے‘‘ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔