سرنکوٹ //سرنکوٹ کے ایک شہری نے محکمہ صحت کے ملازم پر رشوت خوری کا الزام عائد کیاہے تاہم بی ایم او سرنکوٹ نے اس کو مسترد کرتے ہوئے بتایاکہ یہ سب اپنے آپ کو بچانے کیلئے کیاجارہاہے ۔ممتاز احمد خان نامی اس شخص کے مطابق اس ماہ کی دو تاریخ کو سرنکوٹ بازار میں دو موٹرسائیکل آپس میں ٹکراگئے جس کے نتیجہ میں ان کا نوجوان بیٹا زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر سب ضلع ہسپتال سرنکوٹ منتقل کیاگیاجہاں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیاگیا۔ انہوںنے الزام لگاتے ہوئے بتایاکہ جب انہوںنے ایکسرے ٹیکنیشن سے رپورٹ مانگی تو اس نے دس ہزار روپے رشوت طلب کی لیکن انہوں نے صرف پانچ سو روپے دیئے جس پر انہیں رپورٹ نہیں دی گئی ۔ممتاز خان نے کہا کہ انہوں نے زبردستی اپنے بیٹے کو سرینگر منتقل کروایا جہاں ان کا ایک لاکھ روپے خرچ ہوا اورسرینگر پہنچنے پر پتہ چلاکہ ان کے بیٹے کو فریکچر آیاہے ۔ ان کاکہناہے کہ ہسپتال حکام کے خلاف انہوںنے وزیر اعلیٰ کو بھی خط لکھالیکن کہیں سے انصاف نہیں ملا ۔اس حوالے سے جب بلاک میڈیکل افسر سرنکوٹ ڈاکٹر ذوالفقار سے بات کی گئی تو انہوںنے بتایاکہ اس شخص کی ایکسرے ٹیکینشن سے بول چال ہوئی اوروہ اس کو مارنے بھی لگاجس پر ایکسرے ٹیکنیشن نے پولیس میں درخواست دی تاہم جب پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی تواس نے عدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کیاجائے۔انہوںنے بتایاکہ چھوٹے ایکسرے کی فیس پچاس روپے اور بڑے ایکسرے کی فیس سو روپے ہے اور دس ہزار رشوت کون مانگے گا۔انہوںنے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے کیاجارہاہے تاکہ پولیس کارروائی سے بچاجاسکے اور اس کا کونٹر کیاجائے ۔