منڈی//تحصیل منڈی کے بلاک لورن کے تمام سرپنچوں نے محکمہ دیہی ترقی سمت تمام محکمہ جات کے خلاف ڈاگ بنگلہ لورن میں جم کر احتجاج کیا ۔احتجاجیوں نے بلاک انتظامیہ پر الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی محکمہ جات کام کر رہے ہیں وہ عام لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور اس بلاک کی غریب عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ۔اس موقع پر سرپنچ چکھڑی پیر یاسین شاہ ،سرپنچ لورن بشیر کامران، سرپنچ بٹل کوٹ محمد رفیق، سرپنچ پلیرہ بی اعجاز تانترے سرپنچ تنتریگام محمد اکرم نے ذرائع ابلاغ کے نمایندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے بلاک لورن کی گیارہ پنچایتوں کاہر محاذ پر استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے بغیر اس بلاک میں تمام محکمہ کے افسران اور ملازمین بدھا مذاق کر رہے ہیں۔ انہوں نے محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین اور بلاک ڈ یولپمنٹ افسر پر الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان پنچایتوں کی طرف دیکھتے بھی نہیں اور نہ ہی محکمہ کی جانب سے کسی بھی طرح کے تعمیری کام کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم جی نریگا اور فورٹین ایف سی کے تحت جہاں لوگوں نے پنچایتوں میں کام کیے ہیں ابھی تک ان لوگوں کو پیسے نہیں دیے گئے۔ سرپنچوں کا کہنا تھا کہ پنچایت جی آر ایس اور بلاک ڈ یولپمنٹ افسر دفتر میں غیر حاضر رہتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کو چاہیے کہ وہ اس بات کی انکوائری کروائیں کہ پنچایت جی آر ایس کہا ںسے اتنے امیر ہوگئے کہ وہ ہر ہفتہ نئی گاڑی خریدتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بہتر بجلی میسر نہ ہونے کے باوجود بھی بجلی کے اضافی بل بھیجے جاتے ہیں ۔سرپنچوں کا کہنا تھا کہ محکمہ جل شکتی عوام کو پانی پہنچانے میں ناکام ہوا ہے۔ انہوں نے مانگ کی ہے کہ لورن بلاک میں بھی ہر ہفتہ بلاک دیوس کا اہتمام کیا جائے تاکہ اس میں تمام ملازمین حاضر ہو کر عوام کی مشکلات سن کر انکا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔ سرپنچوں نے کہا ہے کہ اگر ایک ہفتہ کے اندر ان کے مطالبات حل نہیں کئے گئے تو لورن بلاک کی گیارہ پنچایتوں کے پنچ سرپنچ اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے ۔