آغا سید عابد حسین الحسینی
بے شک، امام حسین علیہ السلام ظلم، ناانصافی، اور باطل نظریات سے دوری اور حق کی سر بلندی کا درس دیتے ہیں۔ ان کا مقصد امتِ مسلمہ میں اتحاد، عدل کا قیام اور فکری و عملی برائیوں کا خاتمہ تھا، نہ کہ انتشار کو فروغ دینا۔شیعہ فلسفہ سیاست میں عملی حکمت تین ستونوں پر قائم ہے۔ عقلانیت، عدالت اور عوامی مفاد۔ یہ تینوں اس وقت ثمر آور ہوتے ہیں جب سماجی ہم آہنگی کو ان کی بنیاد کے طور پر محفوظ رکھا جائے۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ چھوٹے اختلافات ، خواہ مذہبی ہوں، قومی ہوں یا مسلکی ہوں۔ اگر تنازع میں بدل جائیں تو نہ صرف معاشرہ اندر سے سڑ جاتا ہے بلکہ الٰہی نعمتیں بھی ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔’’کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا ڈالا؟‘‘ (ابراہیم ۔ ۲۸)۔یہ تنبیہ صرف پچھلی قوموں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس معاشرے کے لیے ہے جو اتحاد کی نعمت کو ناشکری اور تفرقہ اور تنازع سے بدل دے۔
اسلام نے نہ صرف علم اور تحقیق کے بنیاد پر اختلاف نظر اور رائے اور سلیقے کے اختلاف کو منع نہیں کیا بلکہ اسے رحمت الٰہی کی علامت قرار دیا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اختلافات نظریاتی دائرے سے عملی میدان میں آ کر جنگ اور کشمکش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں اس نکتے پر زور دیتے ہوئے فرمایا،’’ناجائز اور حتیٰ کہ جائز اختلافات کو بھی تنازع اور تفرقے میں تبدیل نہ کریں۔‘‘ یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہر اختلاف لازمی طور پر دشمنی نہیں ہے بلکہ قابل مذمت وہ چیز ہے جو اختلاف کو تنازع میں بدل دے۔ در حقیقت، اختلاف ترقی اور پویائی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن تنازع بن بست اور تباہی کو جنم دیتا ہے۔
اسلامی دنیا میں خانہ جنگیوں کی ایک اہم وجہ آیت’’اَشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُم‘‘ (فتح ۔ ۲۹ ) ’’کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل‘‘ کو بھول جانا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو دو بیک وقت خصوصیات کی دعوت دیتا ہے۔ کافروں کے ساتھ سختی اور اپنے درمیان رحمت۔ لیکن افسوس کہ اس مساوات کے دونوں طرف یک طرفہ انداز میں تفسیر کی گئی۔ ایک گروہ نے ’’کافر پر سختی‘‘ کو نظر انداز کر دیا اور دشمنانِ اسلام سے ہاتھ ملا لیا، دوسرے گروہ نے ’’آپس میں رحمت ‘‘کو بھول کر ایک دوسرے کو تکفیر کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صدیوں سے تنازع اور تفرقے کاشکار رہے ہیں، حالانکہ اگر قرآن مکمل طور پر محورِ عمل ہوتا تو یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا،’’کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان رکھتے ہو اور دوسرے کا انکار کرتے ہو؟‘‘(بقرہ ۔۸۵)۔ یہ آیت بالکل اسی گزینشی رویے کو چیلنج کرتی ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم اجمعین نہ صرف گفتار بلکہ کردار میں بھی مخالفین اور حتیٰ دشمنوں سے نمٹنے کا کامل ترین نمونہ ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کی توہین، گستاخی یا شخصیت کا قتل نہیں کیا، حتیٰ کہ سخت ترین حالات میں بھی۔ امام علی علیہ السلام نے اپنی وصیت میں حسنین علیہما السلام سے فرمایا،’’میں تم دونوں اور اپنے تمام فرزندوں اور اہل خانہ کو اور جس تک میرا یہ خط پہنچے، وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو، اپنے معاملات کو منظم رکھو اور آپس میں صلح کرو، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے، لوگوں کے درمیان صلح کرانا عام نماز اور روزے سے بہتر ہے۔‘‘ (نهجالبلاغه)۔یہ وصیت محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سماجی اصول ہے۔لوگوں کے درمیان اصلاح، حتیٰ کہ مستحب نماز اور روزے سے بھی افضل ہے۔بنو امیہ نے مقدسات کی توہین اور شخصیات کی تخریب کے ذریعے امت اسلامی میں تفرقہ کی بنیادیں مضبوط کیں، شیعہ، مکتب حسینی کے پیروکار کے طور پر، بنو امیہ کی روش اختیار نہیں کر سکتے۔ ایک ایسی روش جو نہ عقلی اور نہ شرعی اعتبار سے قابل پیروی ہے۔ اہل بیت کی پیروی کا مطلب ہے تخریب اور توہین سے دوری اور اس کی جگہ محترمانہ گفتگو اور منصفانہ رویہ رکھنا۔
قرآن الٰہی نعمت کی تبدیلی کو انسانی رویے کی تبدیلی سے مشروط کرتا ہے،’’یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لائیں۔‘‘ (رعد۔۱۱)۔یہ اصول ظاہر کرتا ہے کہ اگر ایک قوم سیدھے راستے پر چلے، خود کو الٰہی ارادے کے قریب کرے اور بے جا اختلافات سے بچے، تو اتحاد اور سلامتی کی نعمت اس سے سلب نہیں ہوگی۔ لیکن جیسے ہی تفرقہ اور دشمنی کی زمین ہموار ہو، اللہ تعالیٰ اپنی نعمت چھین لیتا ہے۔ نہ کہ غصے سے، بلکہ اس لیے کہ معاشرہ خود کو اس نعمت کے لائق نہیں رکھ سکا۔ یہ تلخ و شیرین تجربہ موجودہ تنازع اور تاریخ کے مختلف ادوار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
وحدت ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ایک ذمہ داری جس کا تحفظ عقلانیت، عدالت، مدارا اور کسی بھی قسم کی توہین و تخریب سے دوری کا تقاضا کرتا ہے۔ امام علی علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ لوگوں کے درمیان صلح انفرادی عبادات سے بھی بالاتر ہے۔ اور قرآن نے ہمیں یاد دلایا کہ اگر ہم رحمت اور سختی کو اپنی جگہ استعمال نہ کریں تو نہ صرف بیرونی دشمن بلکہ ہمارے دینی بھائی بہن بھی اس جہالت کا شکار ہوں گے۔ آج پہلے سے کہیں زیادہ، ہمیں ان اصولوں کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ اصول جن پر عمل کر کے ہم نہ صرف الٰہی نعمت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے بھی بیمہ کر سکتے ہیں۔
(چئیرمین تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹوٹ حسن آباد سرینگر )