محمد مرسی کی زیر حراست شہادت نے ایک بار پھر مصر میں بین الاقوامی سازشوں کو اجاگر کیا ہے۔محمد مرسی شہید نے عدالتی چیمبر میں جام شہادت نوش کیا۔اُن پہ مصرکے فوجی ڈکٹیٹر عبدل فتح السیسی نے ایک فرضی مقدمہ قائم کیا ہوا تھا۔ محمد مرسی شہید مصر کے منتخب صدر تھے لیکن اُن کی آئینی حکومت کو استبدادی قوتوں نے ایک سال سے زیادہ نہیں چلنے دیا۔ وہ 30 جون 2012ء سے 3جولائی 2013ء تک صدر رہے ۔ وہ مصر کی دیرینہ اسلامی تنظیم اخوان المسلمین سے وابستہ تھے جبکہ جس پارٹی کے نام پہ اُنہوں نے انتخاب لڑا اور جیتا وہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کہلاتی ہے۔ مصر کی فوجی حکومتوں نے جو 1952ء کے بعد بر سر اقتدار آئیںمسلسل اخوان المسلمین کے ساتھ نا روا سلوک بر قرار رکھا۔ اخوان المسلمین کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔تنظیم کے رہبروں کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا اور کارکنوں پہ بیجا سختیاں کی گئیں۔فوجی جنرلوں کے گوناگوں مظالم کے باوجود اخوان المسلمین قائم رہی چونکہ مصری عوام میں اِس تنظیم کی جڑیں گہری ہیں چناچہ جب 2012ء کے الیکشن میں اِس تنظیم کیلئے سیاسی میدان کھل گیا تو ایک جمہوری عمل سے اخوان کی رہبری بر سر اقتدار آئی۔ مصرکے فوجی جنرلوں کیلئے البتہ یہ جمہوری عمل نا قابل قبول رہا ۔ 1952ء میں کرنل جمال عبدل الناصر نے شاہی نظام کے خلاف فوجی بغاوت کی رہبری کی اور یہی سے مصری فوج پہ سیاسی اقتدار کا نشہ چھا گیا ۔کل کے ناصر سے لے کے آج کے سیسی تک مصر کے فوجی افسران اِس نشے کے اِس حد تک عادی ہو چکے ہیں کہ سیاسی اقتدار کے بغیر اُنہیں سکون میسر نہیں۔یہی وجہ رہی کہ محمد مرسی شہید کے بس سر اقتدار آتے ہی مصر میں سازشوں کا جال بچھایا گیا۔اِن سازشوں کے پیچھے نہ صرف داخلی عناصر تھے بلکہ خارجی طاقتیں بھی پشت پناہی کر رہی تھیں چناچہ جون 2013ء میں نام نہاد لیبرل عناصر کے کچھ مظاہروں کو بہانہ بنا کر جنرل عبدل فتح السیسی نے ایک کودتا میں ممد مرسی کی آئینی حکومت کا خاتمہ کر کے فوجی اقتدار کی راہ ہموار کی اور ایک سال کے وقفے کے بعد مصر میں پھر سے وہی کچھ رواں تھا جس کی بنیاد کرنل ناصر نے 1952ء میں ڈالی تھی اور جس کی پیروی پچھلی کم و بیش سات دَہائیوں سے انو ر سادات اور حسنی مبارک جیسے فوجی جنرلوں نے کی ۔عصر حاضر میں سیسی اِسی سلسلے کی تقلید کر رہے ہیں۔
عربی دنیا جو کہ عالم اسلام سے وابستہ ہے کا بھر پور جائزہ لیا جائے تو مصر کی نمایاں حثیت واضح ہو جاتی ہے۔ مصر کی ایک قدیم تاریخ ہے جو کہ عالمی تاریخی پیرائے میں بھی اہم ہے اور دینی پیرائے میں بھی اہمیت کی حامل ہے۔ایران و عراق کے علاوہ مصر کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ طلوع اسلام سے پہلے بھی یہاں تہذیب و تمدن کا دور دورہ تھا ۔ہر کمالے را زوال کے مصداق یہاں قدیم تہذیبیں زوال پذیر ہوئیں اور اُن کی جگہ اسلام کے آفاقی پیغام نے لی۔ مصر عربی دنیا میں سب سے کثیر آبادی ہونے والے ملک کے ناطے اہمیت کا حامل ہے۔دینی پیرائے میں پرکھا جائے تو یہاں فرعونوں کی فرعونیت کو حضرت موسی ؑ نے چلینج کیا۔عبرانیوں کو مصر سے نکال کے اہل کتاب کے زمرے میں یہودی مذہب کی بنیاد ڈالی گئی۔ حضرت موسی ؑ اور اُن کے بھائی حضرت ہارون ؑ کی سر براہی میں عبرانیوں نے صحرائے سینا کو عبور کر کے اسرائیل کو اپنی آماج گاہ بنایا۔بعد کے دور میں اسرائیل میں طالوت کی بادشاہت قائم ہوئی۔اُن کے بعد حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمانؑ بادشاہ بنے جنہیں نبی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا ۔یہ کم و بیش ساڑھے تین ہراز پہلے کی بات ہے۔ اِس کے بعد اسرائیل اور اُس کے مرکزی شہر یروشلم نے کئی تاریخی روپ بدلے ۔مصر کے ساتھ اسرائیل کا ذکر امر ضروری ہے چونکہ مصر میں جو کچھ عصر حاضر میں ہو رہا ہے وہ ماضی کی تاریخ سے بھی بندھا ہوا ہے اور یہ استبدادی قوتوں کی مستقبل کی پلاننگ کا شاخسانہ بھی ہے۔شہید محمد مرسی پہ جو کچھ بھی گذری وہ استبدادی طاقتوں کی زہر ناک پلاننگ کا حصہ ہے ۔مصر استبدادی قوتوں کی چنگل میںپھنسا ہوا نظر آتا ہے اور اِ عظیم اسلامی ملک کے گرد خطرناک سازشوں کا جال اس لئے بُنا جا رہا ہے تاکہ 21ویں صدی کے اسرائیل کو ایک نا قابل تسخیر سیکورٹی فراہم ہو سکے۔
اسرائیل مشرق وسطی میں استبدادی طاقتوں کے تحفظات کوایک سنگین سہارا فراہم کرنے کیلئے 1947/48ء میں معرض وجود میں آیا البتہ اُس کی بنیاد 1917ء کے بالفوراعلانیہ (Balfour Declaration) میں ڈالی گئی تھی۔برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے 2نومبر 1917ء اپنے ایک مراسلے بنام والٹر راتھ چائلڈ (Walter Rothschild) یہ اعلان کیا کہ برطانیہ کی شاہی سرکار یہودی عوام کیلئے فلسطین میں ایک قومی گھر (National Home)کی تشکیل کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتی ہے اور اِس کے حصول کیلئے بہترین کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ برطانیہ کوفلسطین کا منڈیٹ خلافت عثمانیہ سے حاصل ہوا۔ترک غازیوں کی تلواروں کو زنگ لگ چکاتھااور ترکی یورپ کا مرد بیمار (Sick Man of Europe)بن چکا تھا۔ وزن شعر کے طور پہ بالفوراعلانیہ میں یہ بھی ذکر ہوا کہ فلسطین کے غیر یہودیوں کے شہری و مذہبی حقوق پہ حرف نہیں آنا چاہیے لیکن بعد کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ نہ صرف غیر یہودی مسلم آبادی کے شہری و مذہبی حقوق کو پامال کیا گیا بلکہ اسرائیل کی سرحدوں پہ جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں جن میں مصر،شام اور اُردن شامل ہیں اُنکے مملکتی حقوق کو اسرائیلی سیکورٹی کو مکمل تحفظ بخشنے کیلئے سلب کیا گیا۔مصر میں ماضی قریب میں جو کچھ بھی ہو ا وہ اِسی سیاسی و سفارتی پیرائے سے جڑا ہوا ہے اور یہ مسقبل کی پلاننگ کا حصہ بھی ہے۔
مصر میں 1952ء تک شاہی دور تھا۔ شاہ فاروق مصر کے آخری فرمانروا تھے ۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی استبداد مصر پہ چھایا ہوا تھا۔ شاہ فاروق ہلکے مزاج کے آدمی تھے اور اُن پہ اپنی والدہ ملکہ مادر نازلی کا دبدبہ قائم تھا۔شاہ فاروق کو اپنے بارے میں کسی قسم کی خوش فہمی نہیں تھی اور وہ جانتے تھے کہ اُنکے دن گنے ہوئے ہیں چناچہ یہ قول اُن سے منصوب کیا جاتا ہے کہ دنیا میں پانچ ہی بادشاہ رئینگے چہار تو تاش کے اور پنجم شاہ برطانیہ ہونگے ۔ 1952ء میں شاہ فاروق کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔مصر میں شاہی دور کا خاتمہ ہوا اور اُس کی جگہ فوجی امریت نے لے لی۔ اِس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ کرنل ناصر مصریوں کے محبوب لیڈر بنے اور وہ مخالف عناصر کے ہوتے ہوئے بھی مصر میں ایک جمہوری طرز عمل سے بر سر اقتدار آ سکتے تھے ۔شومئی قسمت اُنہوں نے صدر منتخب ہونے کی یہ راہ چن لی جہاں پہ انتخابی پرچی پہ صرف و صرف اُنکا نام ہوتا تھا ۔اِس یک نفری انتخابی ٹکٹ پہ عوام الناس کو اپنی تائید ثبت کرنی پڑتی تھی ۔یہ انتخابی عمل جمہوری اصولوں کے پیمانے پہ کہیں بھی پورا اترتا نظر نہیں آتا لیکن یہ نہ صرف مصر کی روایت بن گئی بلکہ انتخابی پرچی پہ ایک ہی نام شام و عراق کے فوجی حکمرانوں کی حکمت عملی بھی بن گئی۔ کرنل ناصر کی محبوبیت کا سبب عربی نیشنلزم کا فروغ تھا۔ اسرائیل کے خلاف صف آرائی میں عربی نیشنلزم کا فروغ بد قسمتی سے اسلام پسند تنظیموں پہ روک لگانے پہ منتج ہوا اور ایسے میں اخوان المسلمین پہ طرح طرح کی سختیاں فوجی حکمرانوں کا شعار بن گئیں۔
عربی نیشنلزم کا فروغ اسلامی ممالک کی صفوں کو استوار کرنے کے کام نہیں آیا۔ شام و عراق کے حکمرانوں نے حزب بعث کو اپنایا جو ایک سوشلسٹ طریقہ کار تھاچناچہ شام و عراق کے فوجی حکمران سوشلزم پہ ایمان لے آئے۔عربی نیشنلزم اُن کا شعار ثانوی بنا۔حزب بعث کے دو عیسائی رہبروں پہ شام و عراق کے فوجی حکمراں ایمان لائے۔شام میں صالح بیتار اور عراق میں مائیکل افلک حزب بعث کے داعی تھے جن کا سیاسی فلسفہ سوشلز م تھا جو کم و بیش مارکسزم سے میل کھاتا تھا۔صالح بیتار اور مائیکل افلک فوجی رہبروں کی سیاسی امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔خلیج کی اسلامی ریاستوں میں موروثی راج قائم رہا اور یہ ریاستیں قدامت پرست سیاسی روش پہ قائم رئیںالبتہ یہ قدامت پرستی روح اسلامی سے مبرا تھی۔ کرنل ناصر کے دور حکومت میں اُن کے لیبرل نظریات سعودی عربیہ کی قدامت پسند روش سے اِس حد تک ٹکرا گئے کہ یمن میں شمالی یمن کی پشت پناہی سعودی فرمانروا کر رہے تھے جبکہ جنوبی یمن کے لیبرل عناصر کے ہمنوامصر کے فوجی حکمراں بنے۔یمن میں جنگی تصادم کئی سالوں تک چلتا رہا ۔آج کئی دَہیاں گذرنے کے بعد میں یمن میں خانہ جنگی قائم ہے ۔یمن کے حوثی قبائل کی پشت پناہی ایران کر رہا ہے اور یہ یمنی حکومت کے اُن عناصر کے خلاف ہیں جن کی پشت پناہی سعودی حکومت کر رہی ہے۔آج کے یمن کی خانہ جنگی لیبرل اور قدامت پرست عناصر کے بیچوں بیچ نہیں ہے بلکہ اِس نے ایک خطر ناک فرقہ پرستی کا رنگ لیا ہوا ہے۔یمن عربی دنیا کا غریب ترین ملک ہے اور خانہ جنگی نے وہاں بھوک اور بیماری جیسے مسائل پیدا کئے ہیں جو ہر گذرتے ہوئے دن کے ساتھ ایک المیہ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
کرنل ناصر کے لمبے دور حکومت کی ورق گردانی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عربی قوم پرستی کی تشہیر اُنکی محبوبیت کا سبب بنی۔ 1956ء میں جب امریکہ اور ورلڈ بنک نے اسوان ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈس فراہم کرنے سے ہاتھ کھنچا تو ناصر نے سویز کنال کو قومی تحویل میں لیا۔یہ اقدام سویز کنال سے زیادہ سے زیادہ مالیاتی فنڈس حاصل کرنے کیلئے کیا گیا تاکہ یہ فنڈس اسوان ڈیم بنانے کے کام آ سکے۔ سویز کنال ایک ایسی آبی راہرو ہے جس سے مغرب سے مشرق تک کے سفر کی طوالت کم ہوتی ہے۔ برطانیہ،فرانس اور اسرائیل کے مفادات پر ناصر کے اِس اقدام سے کاری ضرب پڑی ۔ مصر فوجی مداخلت کا شکار بنا لیکن مغرب کا یہ اقدام اپنے زائیدہ نا خلف اسرائیل کے تعاون کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکا اور فوجی مداخلت سے ہاتھ کھنچنا پڑا۔ ناصر کے اِس اقدام نے اُن کی محبوبیت بڑھ گئی لیکن شومئی قسمت اُنکی یہ محبوبیت عربی اور اسلامی ممالک کی ہمہ گیر صف بندی پہ منتج نہیں ہوئی۔مصر کے اندر وہ اسلامی عناصر کو اپنے دشمنوں میں شمار کرتے رہے ۔مصری فوجی حکمرانوں نے 1954ء میں اخوان المسلمین کو غیر قانونی قرار دے کے اِس تنظیم پہ پابندی لگا دی۔ مصر کے باہر کرنل ناصر سعودی عربیہ کے ساتھ یمنی تصادم میں اُلجھ گئے۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ اعراب کی منجملہ شکست پہ منتج ہوئی۔جنگ کے پہلے چند گھنٹوں میں مصری ہوائی بیڑے کو زمیں بوس کیا گیا۔ مصر،شام و اُردن سے اُنکی وہ زمینیں چھن گئیں جو سیاسی اور فوجی اہمیت کی حامل تھیں۔مصر سینائی کے اہم علاقے کھو بیٹھا، شام گولان کی بلندیوں سے ہاتھ دھو بیٹھااور اُردن،رود اُردن کے مغربی کنارے کے اہم علاقے اور پروشلم کھو بیٹھا۔ شکست کے باوجود ناصر کے ساتھ عربی ہمدردیاں قائم رہیں لیکن 1970ء میں وہ 52سال کی عمر میں سکوت قلب کی وجہ سے جاں عزیز سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ناصر کی جگہ انور سادات مصر کے صدر بنے اور اُنہوں نے اخوان المسلمین پہ لگی ہوئی پابندیوں پہ قدرے نرمی کر لی۔ 1973ء میں رمضان مہینے کی جنگ میں مصر نے سویز کنال کو عبور کر کے اسرائیل کو اچھنبے میں ڈال دیا۔امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے بیچ بچاؤ کر کے جنگ بندی قائم کی۔ انورسادات نے جو کامیابی جنگ میں حاصل کی تھی وہ سفارتی محاز پہ کھو دی جب وہ امن کا جھنڈا لہراتے ہوئے اسرائیل پہنچے۔اعراب بلکہ عالم اسلام کو اُنکے اِس اقدام سے دھچکا لگا خاصکر مصر کے اندر اسلام عناصر پہ یہ سانحہ گراں گذرا۔سادات اور اسلامی عناصر کے بیچ ایک وسیع خلیج حائل ہوئی۔انجام کار یہ نظریاتی اختلاف اُنکے قتل پہ منتج ہوا۔سادات کے بعد حسنی مبارک کا دور بھی عرب مفادات کے زمرے میں معذرت خواہانہ رہا۔یہ روش عبدل فتح السیسی کے دور میں بھی قائم ہے۔
عالم اسلام کے اِس داخلی انتشار کا کوئی حل نظر نہیں آتا ۔جو صورت حال 20ویں صدی کے نصف دوم کی تھی وہ 21ویں صدی کی ابتدائی دَہیائیوں میں بھی قائم ہے ۔لیبرل ازم، قدامت پرستی، سوشلزم، نیشنلزم و مارکسزم جیسے سیاسی فلسفے عالم اسلام میں فروغ پاتے رہے لیکن اسلام کی حقیقی روح نے کہیں بھی فروغ نہیں پایا ۔جہاں بھی خالص اسلامی نظریات کی تشہیر ہوئی اُن کو دبانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ۔گاہ بگاہ جہاں بھی ایک انتخابی عمل میںاسلام پسند عناصر کامیاب ہوئے وہاں جمہوریت کا سر کچلنے کیلئے قومی سیکورٹی کا راگ الاپتے ہوئے فوجی جنرلوں نے انتخابی نتیجہ کو نکار دیا۔ یہ جہاں الجیریا میں عمل پذیر ہوا وہی مصر میں بھی دہرایا گیا اور انتخاب جیتنے کی سزا محمد مرسی شہید کی شہادت پہ منتج ہوئی۔
……………………….
Feedback on: [email protected]