میری بات
سید مصطفیٰ احمد
اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد ایثار، قربانی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر قائم ہے۔ حضرت ابراہیم کی بے مثال فرمانبرداری، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنے سب سے عزیز رشتے کی قربانی کے لیے آمادگی ظاہر کی، حضرت عثمان کی مالی اور جانی قربانیاں، اور پھر میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے اہلِ خانہ کی عظیم قربانی، اسلامی تاریخ کے ایسے روشن ابواب ہیں جو ایمان، وفاداری اور حق پسندی کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتے ہیں۔ یہ قربانیاں محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ ایسے ابدی اسباق ہیں جو ہر دور کے انسان کو سچائی، انصاف اور اصول پسندی کی دعوت دیتے ہیں۔ ان ہی واقعات میں سانحۂ کربلا ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جس کا پیغام آج بھی دلوں کو جھنجھوڑتا اور انسانیت کو راستہ دکھاتا ہے۔
کربلا کا واقعہ اپنے اندر بے شمار اسباق سموئے ہوئے ہے۔ جو شخص کھلے دل اور غیر جانب دارانہ نظر سے اس واقعے کا مطالعہ کرے، وہ اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ تعصب سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو محرم کا پیغام صرف ایک مخصوص طبقے یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
اس واقعے کا پہلا اور سب سے نمایاں سبق حق کی خاطر قربانی دینا ہے۔ محرم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچائی اور انصاف کا ساتھ دینے کے لیے بڑی سے بڑی قیمت بھی ادا کرنی پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت امام حسین نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن تاریخ میں عزت اور وقار صرف انہی لوگوں کو ملتا ہے جو حق پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
اس دور میں دینی تعلیمات معاشرے میں موجود تھیں، مگر بعض حلقوں میں اقتدار اور مفادات کو ترجیح دی جا رہی تھی۔ ایسے ماحول میں حق بات کہنا آسان نہ تھا، لیکن حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے کردار اور قربانی سے یہ پیغام دیا کہ سچائی اور انصاف کی حفاظت کے لیے جرات، صبر اور استقامت ناگزیر ہیں۔
دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ دائمی اقدار کو عارضی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ حضرت امام حسین اور ان کے اہلِ خانہ دنیاوی اقتدار یا آسائشوں کے طلبگار نہیں تھے۔ اگر وہ چاہتے تو دنیاوی فوائد حاصل کرنا ان کے لیے مشکل نہ تھا، لیکن ان کی تربیت ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جہاں اخلاقی اور روحانی اقدار کو مادی مفادات پر فوقیت حاصل تھی۔ یہی تربیت انہیں اس عظیم امتحان کے لیے تیار کرتی رہی۔
تیسرا سبق اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ انسان کی زندگی کا اصل مقصد اپنے خالق کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ حضرت امام حسین کی زندگی اسی جذبے کی عملی تفسیر تھی۔ انہوں نے یہ دکھایا کہ جب انسان اپنے اصولوں اور عقیدے کے لیے خلوص کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو اس کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بن جاتی ہے۔
چوتھا سبق کسی عظیم مقصد کے لیے جینا ہے۔ حضرت امام حسین نے اپنی زندگی دین کی حقیقی روح، اخلاقی اقدار اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ وہ خاموشی اور آرام کا راستہ اختیار کر سکتے تھے، مگر انہوں نے اصولوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آج بھی استقامت، جرات اور کردار کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔
مختصراً، محرم ہمیں سچائی، دیانت داری، وفاداری، جرات، انصاف اور قربانی جیسی اقدار کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جو ہر زمانے میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ کربلا کے شہداء کو یاد کرنا یقیناً ایک عظیم عمل ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی میں جگہ دیں۔
محرم کے پیغام کو درپیش چیلنجز صرف بیرونی نہیں بلکہ داخلی بھی ہیں۔ بہت سی مشکلات ہماری اپنی کمزوریوں، رویوں اور طرزِ عمل سے جنم لیتی ہیں۔ اگر ہم واقعی حضرت امام حسین کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان اصولوں کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا جن کے لیے انہوں نے قربانی دی۔
آج مسلم معاشروں سمیت پوری دنیا کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو انصاف، دیانت اور اخلاقی جرات کو فروغ دیں۔ حضرت امام حسین کی شخصیت اور ان کا پیغام مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے لیے مشترکہ اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کی یاد کو صرف چند دنوں تک محدود رکھیں گے یا ان کے اصولوں کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں گے؟
ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی حلقوں میں سچائی، انصاف اور اخلاقی ذمہ داری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کربلا کے حقیقی پیغام کے قریب لے جا سکتا ہے۔
آج کے دور میں کربلا کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ذاتی مفادات کو اکثر اصولوں پر ترجیح دی جاتی ہے، مادی کامیابی کو اخلاقی قدروں سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے، اور ناانصافی کے خلاف خاموشی کو بعض اوقات دانشمندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کربلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصولوں پر قائم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ حضرت امام حسین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف یاد منانا نہیں بلکہ ان اقدار کو اپنی زندگیوں میں اپنانا ہے جن کے لیے انہوں نے قربانی دی۔ اگر افراد اور معاشرے انصاف، دیانت، جوابدہی، ہمدردی اور اخلاقی جرات کو فروغ دیں تو کربلا کا پیغام آئندہ نسلوں کے لیے بھی اسی طرح مشعلِ راہ بنا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ حضرت امام حسین، ان کے اہلِ خانہ اور ان کے وفادار ساتھیوں سے راضی ہو، اور ان کی عظیم قربانی انسانیت کو ہمیشہ حق، انصاف اور نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق دیتی رہے۔
[email protected]