ڈاکٹر جوؔہر قد ّوسی
محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اُس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ ’’سانحۂ کربلا ـ ‘‘کے نام سے یادکرتی ہے ۔دس محرم الحرام کومیدان کربلا میں تاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردِلوں کوہلاکررکھ دینے والا سانحہ رونماہوا۔یزیدیوں نے نواسۂ رسولؐ اور سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓو شیرخداحضرت علی المرتضیٰؓکے لخت ِ جگر،نورِ نظر حضرت امام حسینؓ کواُن کے اعزّہ و اقارب اوردیگرساتھیوں سمیت انتہائی مظلومیت کے عالم میں شہیدکیا۔تاریخ اسلام میں اوربھی بہت سی جانیں اﷲ کی بارگاہ میں قربان ہوئی ہیں۔ ہرشہادت کی اہمیت وافادیت مُسلّم ہے مگرشہادت ِ سیدناامام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کی دوسری شہادتوں کے مقابلے میں اہمیت وشہرت اس لئے بڑھ کرہے کہ کربلاکے میدان میں شہیدہونے والوں کی آقائے دوجہاںؐسےخاص نسبتیں ہیں۔یہ داستانِ شہادت گلشنِ نبوتؐکے کسی ایک پھول پرمشتمل نہیں،یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے کسی دورمیں بھی امت ِ مسلمہ کربلاکی داستان کوبھول نہیں سکتی ۔ بقول علامہ ابوالکلام آزاد :’’ تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین ؓکی شخصیت جو اہمیت رکھتی ہے، محتاج بیان نہیں۔ خلفائے راشدینؓ کے عہد کے بعد جس واقعہ نے اسلام کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ ان کی شہادت کا عظیم سانحہ ہے۔ بغیر کسی مبالغہ کے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی کے اس قدر آنسو نہ بہے ہوں گے، جس قدر اس حادثہ پر بہے ہیں۔ امام حسینؓ کے جسم اطہر سے دشت ِ کربلا میں جس قدر خون بہا تھا، اس کے ایک ایک قطرے کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک ایک سیلاب بہا چکی ہے‘‘۔حضرت امام حسینؓکے فضائل و خصائص کے باب میں بہت سی احادیث منقول ہیں،جن میں نبی کریمؐ نے اپنے چہیتے نواسے کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت و شفقت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی عظمت ورفعت کو بھی بیان کیا ہے۔یہاں پر اِن میں سےچند احادیث کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
(۱) سنن ابن ماجه، المقدمه، ج : 2 : 1، ص : 51،( رقم : 143) کی حدیث ہے کہ آپ ؐنے فرمایا:’’جس نے حسن و حسینؓ سے محبت کی ، اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے حسنین ثقلین سے بغض رکھا، اُس نے مجھ سے بغض رکھا‘‘۔(۲) جامع ترمذی، ابواب المناقب، ج : 5 ص : 660 (رقم : 3779)پر درج ہے :’’سر سےسینہ تک حضرت حسن ؓ، مصطفیٰ کریمؐکی شبیہ تھےاور سینے سے قدموں تک حسین ؓ، مصطفیٰ کریمؐ کی شبیہ تھے۔ مشابہت ایسی تھی کہ الگ الگ دیکھو تو حسن ؓ اور حسینؓ دکھائی دیں اور ملاکے دیکھو تو مصطفیٰ کریمؐ نظر آجائیں۔(۳)مجمع الزوائد میںحضرت ابی رافعؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت امام حسن ؓو حضرت امام حسینؓ کی ولادت ہوئی تو حضور اکرمؐنے خود ان دونوں کے کانوں میں اذان دی۔(۴)ابن کثیرنے لکھا ہے :حضرت مفضل سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن اور حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا، یہاں تک حضور اکرمؐ نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔اس سلسلے میں مشہورروایت ہے کہ حضوراکرمؐ کو خبر ملی کہ بیٹی فاطمہؓ کے گھر بیٹا ہوا ہے،چنانچہ اُن کے گھرتشریف لے گئے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ سے پوچھا :’’علی کیا نام رکھا ہے‘‘؟حضرت علیؓ نے اپنے ذوقِ طبع کے مطابق عرض کیا : یارسول اللہؐ ! میں نے نام ’’حرب‘‘ رکھا ہے، فرمایا : لا بل حسن، نہیں اس کا نام حسن ہوگا، پھرحضرت حسین کی ولادت کے دِن خبر ہوئی ،دوسرا بیٹا ہوا ہے،تشریف لے گئے،پھرپوچھا : علی کیا نام رکھا ہے؟ عرض کیا : یا نبیؐ ’’حرب‘‘ نام رکھا ہے۔ فرمایا : لابل حسین، نہیں،نام حسین ہوگا۔(احمد بن حنبل، المسند، ج۔: 1 ص 118)
(۵)روایات میں آیا ہے کہ ایک دن نبی کریمؐ اپنے فرزندارجمند حضرت ابراہیمؓ اور سیدنا امام حسین ؓ دونوں کو گود میں لئے بیٹھے تھے کہ جبرئیل امین آئے اور عرض کیا : یارسول اللہؐ! اللہ نے آپؐ کی طرف سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اِن دونوں میں سے ایک رکھ لیں اور ایک دے دیں۔ ایک کو دوسرے سے فدیہ کرلیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریمؐنے ایک نگاہ حضرت ابراہیمؓ کو دیکھا، ایک نگاہ حضرت امام حسینؓ کو دیکھا۔ چشمان ِ مقدس سے آنسو رواں ہوگئے۔ جبرائیل ؑ کو تکتےرہے اور فرمایا کہ جبرائیل! اگر ابراہیمؓ کو دیتا ہوں تو صرف میں رؤوں گا اور اگر حسینؓ کو دیتا ہوں تو میرے ساتھ فاطمہؓ بھی روئے گی، اپنا رونا تو برداشت کرلوں گا مگر فاطمہؓ کا رونا برداشت نہیں ہوگا، فرمایا! ابراہیمؓ کو دیتا ہوں، چنانچہآپؐ نے حضرت ابراہیم ؓکودیا،جواس واقعہ کے تیسرے ہی دن رحلت فرماگئے۔
(۶)حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ جس نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی، اُس نے مجھ سے محبت کی۔(ابن ماجہ)
(۷) جامع ترمذی، ابواب المناقب، ج : 5 ص : 658 (رقم : 3775)میں یہ مشہور حدیث موجود ہے:’’حُسَيْنُ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْهُ،یا ایک دوسری روایت میں وانا من حسینیعنی:’’حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسین ؓ سے ہوں‘‘۔جن دوسرےاکابرین نے اِس روایت کو نقل کیا ہے،اُن میں ابن ماجہ ، ابوہریرہ ، نسائی ، ابن اثیر ، سیوطی ، امام احمد بن حنبل اور طبر ی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
اس حدیث شریف میںنبی کریم ؐ کے ساتھ امام حسینؓ کے خونی رشتے کے علاوہ دونوں کے روحانی اور معنوی روابط کی صراحت ملتی ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ دین اسلام، جس کی تکمیل اللہ نے اپنے آخری نبیؐ کے ذریعے کی، اُس کا تحفظ حضرت امام حسینؓ نے کیا۔ بعض مآخذ میں اس جملے کے ساتھ دیگر جملے بھی نقل کئے گئے ہیں ،جن میں حضرت امام حسین ؓکے ساتھ حضور اکرمؐکی شدید محبت کا اظہار ہوتا ہے ۔چنانچہ آپؐ کا یہ قولِ مبارک متعدد روایات میں موجود ہے،جس میں آپؐ نے فرمایاکہ ’’جس نے حسین ؓسے محبت کی ،اس نے اللہ سے محبت کی ‘‘۔نیز فرمایا :یا اللہ !جس نے حسنینؓ یعنی حسن ؓاور حسین ؓسے دشمنی کی، میں بھی اُس کا دشمن ہوں۔ بعض روایات میں ایسے الفاظ بھی اس حدیث کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضوراکرمؐ اُن لوگوں سے صلح وآشتی چاہتے ہیں ،جو حضرات حسنین کریمین ؓکے ساتھ امن وسلامتی سے رہیںاور اُن کے ساتھ آپؐ نے جنگ کا اعلان کیا ہے ،جو حسنین ثقلین کے ساتھ جنگ وجدال کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔
ایک معروف مصنّف کےالفاظ میں:’’یہاں جو بات توجہ طلب ہے ،وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریمؐبابا ہیں اور حسین ؓ بیٹے ہیں، بیٹا بابا سے ہوتا ہے، حسینُ منی، حسین ؓ مجھ سے ہے، نواسہ، بابا سے ہوتا ہے، شاخ، درخت سے ہوتی ہے، پھل، شاخ سے ہوتا ہے، جز، کل سے ہوتا ہے، حسینؓ کا مصطفیٰ کریم ؐسے ہونا سمجھ میں آتا ہے مگر مصطفیٰ کریمؐ حسینؓ سے کیسے ہوئے؟اس کے ایک معنی تو وہ ہیں، جو اہل علم نے بیان کیے ہیںکہ مصطفی ٰ کریمؐمصدرِ حسین ؓہیں اور حسینؓ مظہر ِمصطفیٰ ؐہیں۔ بتانا مقصود یہ تھاکہ جو کچھ حسینؓ کا ہے، اس کا کمال مجھ سے ہے اور جو کچھ میرا ہے ،اس کا ظہور حسین ؓ ہے۔ پیدائش سے لے کر کربلا تک حسین ؓ مجھ سے ہے، فاطمہ ؓ کی گود سے کربلا تک حسین ؓ، مصطفیٰ کریمؐ سے تھے، مگر کربلا سے لے کر آج تک مصطفیٰ کریمؐ کے دین کا پرتو حسینؓ ہے۔حضرت امام حسینؓ کی عظمت اور حضور اکرمؐ کی اُن سے فرطِ محبت کا اندازہ اُس روایت سے بھی کیا جا سکتا ہے،جو ابن عبد البر قرطبی نے حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:’’میںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا ہے ،کہ پیغمبرکریمؐامام حسین ؓکے دونوں ہاتھوں کو تھامے ہوئے تھے۔ اور امام حسینؓ کے دونوں پاؤں پیغمبر اکرمؐ کے پاؤںپرتھے ، آپؐ نے فرمایا :اوپر آمیر ا بیٹا، امام حسین ؓاوپر چلے گئے ،اور پیغمبرکے سینۂ مبارک پر پاؤں رکھا ، اُس وقت آپؐنے فرمایا :حسین منہ کھولو ، اس کے بعد حضوراکرمؐ نے امام حسین ؓکو چوما اورفرمایا : پروردگار! اِس سے محبت کر ، اس لئے کہ میں اِس کو چاہتا ہوں۔ایسی متعدد روایات موجود ہیں،جن میںاِس سے ملتے جلتے واقعات کا بیان ہے۔
کئی مشہور محدثین ومؤ رخین کی روایات ایسی ہیں،جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسنین کریمین ؓسے دوستی مومنین پر فرض ہے اوران سے محبت کے بغیر کسی شخص کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا، اور ان سے مقابلہ کرنے والا یا بغض رکھنے والااللہ اوراس کے رسولؐ کا دشمن قرار پاتا ہے۔ ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن حضر ، امام احمد بن حنبل ، حاکم ، ابوبکر سیوطی ، ابو سعید خدری ، سبط ابن الجوزی ، خلیفہ ہارون الرشید ، مؤ رخ طبری وغیرہ نے عبداللہ بن عمر ،یعلی بن مرہ ، سلمان فارسی وغیرہ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیھم اجمعین کے حوالے سے ایسی احادیث نقل کی ہیں ،جن کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرمؐنے اُن لوگوں سے محبت ودوستی کا اظہار فرمایا ہے، جو حسنین کریمین سے محبت ودوستی رکھتے ہیں ،اور اُن لوگوںکے ساتھ نفرت وعناد کا اعلان فرمایا ہے ،جو امام حسنؓ وامام حسین ؓ سے دشمنی رکھتے ہیںاور بغض کا اظہار کرتے ہیں۔نیز ان احادیث ِ مبارکہ میںاُن لوگوں کے لئے جنت ِ نعیم کی بشارت دی گئی ہے، جو حسنین کریمین ؓسے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے واصلِ جہنم ہونے کی خبر دی گئی ہے، جو اِن دونوں سے بغض وعناد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے بعض حوالوں میں حضرت امام حسینؓ کے والدین گرامی قدر کا بھی ذکر ہے اور یہ ارشادِ نبوی نقل کیا گیاہے کہ ’’جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں (یعنی حسنین )اور ان کے ماں باپ سے محبت کی ، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے پہلو میں مقام پائے گا۔ ‘‘
مذکورہ احادیث ِ نبویؐ کی روشنی میںیہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل بیت ِ رسولؐ کے ساتھ دشمنی رسول کریمؐ کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے اور ان سے محبت کا مطلب اللہ ورسو لؐ سے محبت کا اظہار ہے۔ ان احادیث کے مفاہیم کوایمان کے اصول وشرائط کے تحت پرکھنا چاہئے ، کیوںکہ تکمیل ایمان کی شرط انتہائے محبت ِ رسولؐ ہے، جس کے بغیر مسلمان اُخروی فلاح نہیں پا سکتا ۔اسی طرح آلِ محمدؐسے عشق ومحبت کے بغیر محبت ِ رسولؐنامکمل ہے اورمحبت ِ رسولؐکے بغیرایمان نامکمل ہے۔بقولِ ایک مفکر:’’حُبِّ حسنینؓ حُبِّ مصطفیٰ ؐ ہے اور بغض ِ حسنین ؓ بغض ِ مصطفیٰ ؐ ہے۔ باطن میں بھی حسنین ؓ کی محبت کو مصطفیٰؐ کی محبت بنا دیا۔حسنین رضی اللہ عنہما کی قربت کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت بنادیا۔حسنینؓ کی غلامی کو مصطفیٰ ؐ کی غلامی بنادیا۔حسنینؓ کی اطاعت کو مصطفیٰ ؐ کی اطاعت بنادیا۔حسنین ؓ کے ساتھ بغض و عداوت کو مصطفیٰؐ کے ساتھ بغض و عداوت بنادیا۔وجود جدا جدا ہیں اور حکم ایک ہے۔ جو حسنین رضی اللہ عنہما کا ہے، وہ مصطفیٰ ؐ کا ہے اور جو مصطفیٰؐکا ہے ،وہ حسنین ؓ کا ہے۔ جو حسنینؓ کا نہیں، وہ مصطفیٰ ؐ کا نہیں۔ جو مصطفیٰ ؐ کا نہیں، وہ خدا کا نہیں۔ ‘‘
(رابطہ۔ 9906662404)