بلال احمد پرے
واقعہ کربلا جہاں تاریخ کے صفحات میں ثبت ہو کر رہ گیا ہے ۔ وہی اس عظیم شہادت کی یاد میں محبینِ اہل بیت آج بھی آنسوؤں کے سمندر بہا رہے ہیں اور ساتھ ہی مورخین، مصنفین، ادیب و شعراء نے اس پیش آئے ہوئے واقعے پر ہزاروں صفحاتِ قرطاس سیاہ کر ڈالے ہیں ۔تواریخ اسلام میں سانحہ کربلا سے دنیا کا ہر فرد بخوبی واقف ہے ۔ جس میں نواسہ رسول کریمؐ، فرزند ِباب العلم و النساءِ، جگر گوشۂ علی مُرتضیٰؓ، دِل بندِ فاطِمۃ الزہراؓ، سید الشہداء، حضرت سیدنا امام حسینؓ کو شہید کیا گیا ۔ آخر کار یہ حسینیت کیا ہے؟
یہ لڑائی صرف حق اور باطل نظام کے بالمقابلہ نہیں تھی بلکہ تقویٰ پسند نفوس اور من چاہی نفوس کے درمیان تھی ۔ یہ حُسینیت اور یزیدیت کے مابین امتیازی لکیر کھینچی جانے والی شہادت تھی ۔ جس کے بعد حُسینیت ہمیشہ کے لئے الگ نکل کر ہر دل میں زندہ ہو کر رہ گئی ہے ۔
حُسینیت یہی ہے کہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہؐ کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھا جائے ۔ جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ دین اسلام جیسی امن و امان کے نظام کے خلاف زندگی گزاری جائے ۔ حُسینیت یہی ہے کہ عدل و انصاف ہر شعبے میں منسلک افراد کے ہاں نمایاں جھلکتا ہوا نظر آتا ہو ۔ رشوت و بدعنوانی سے کام کرنا یزیدیت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
حُسینیت یہی ہے کہ ہمیشہ حلال کمائی پہ اکتفا کیا جائے جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ رشوت کو اپنا مقصد بنا کر عوام الناس کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ کر خوب دولت جمع کی جائے ۔ غریبوں، محتاجوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے خاطر دوڈ دھوپ کرنا حُسینیت ہے ۔ جب کہ مزدوروں، غریبوں، محتاجوں اور مسکینوں کا خون چوسنا یزیدیت ہے ۔
حُسینیت کی فکر یہی ہے کہ اقامت دین قائم کیا جائے جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ دین اسلام کے ستون کو منہدم کیا جائے ۔ حُسینیت یہی ہے کہ مہمان کو رب العالمین کی رحمت سمجھ کر مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ عزت و اکرام کیا جائے جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ مہمان کو پانی کا قطرہ تک بھی نہ پلایا جائے اور اس سے بے بس و مجبور کیا جائے ۔
حُسینیت یہی ہے کہ بھوکوں کو کِھلایا جائے، ننگے کو پہنایا جائے اور بیماروں کو دوا فراہم کی جائے، جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ صرف اپنے نفس کی فکر کرتے ہوئے انسانیت کو بے دردی سے قتل کیا جائے ۔ حُسینیت یہی ہے کہ اہل و عیال، ہمسایوں اور رشتہ داروں کی فکر کی جائے، جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ چوری ڈکیتی کرکے بینک میں موٹے موٹے کھاتے بنائیں جائے ۔ حُسینیت یہی ہے کہ ہمیشہ دیانتداری سے کام کیا جائے جب کہ یزیدیت یہی ہے کہ بے ایمانی، خیانت اور دھوکہ دہی کو اپنا شیوہ بنایا جائے ۔ الغرض حُسینیت کا اصل پیغام بھی یہی ہے ۔ ؎
اے حافظ ناموس دین آپ پر سلام
اے لخت جگر رسول آمین آپ پر سلام
حق اور باطل کے اس جنگ میں امام عالی مقام حضرت حسینؓ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہ گئے ۔ آپ ؓ موت سے نہیں گھبرائے، بلکہ کربلا کی تپتی ہوئی دھوپ، گرم ریت اور پیاسے ہو کر حضرت ابراہیمؑ کی طرح آتش نمرود جیسے پیدا کردہ سماں میں جامِ شہادت کی سعادت کی طرف مع اپنے اہل وعیال کے بلا خوف و خطر کود پڑے ہیں اور اس عظیم سفر کے دوران ہر مرحلے پر عزم و استقلال کے غیر متزلزل پہاڑ بن کر ثابت ہوئے ۔ آپ ؓ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صبر و ثبات، شجاعت و بہادری، حوصلہ و ہمت، توکل الی اللہ اور غیرت و جرأت کا بے نظیر اور بے بدل کردار پیش کیا ۔ جو رہتی دنیا تک تمام حق پرستوں کے لئے رہمنائی کا بلند مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔
[email protected]