محمد اشرف بن سلام
دس محرم کی صبح نمودار ہوئی اور حق و صداقت کے سالار نواسہ رسولؐ سیدناامام حسینؓ کے خمیوں میں اذان فجر کی آواز بلند ہوئی تو انہوں نے اپنے تما م رفقاءکے ساتھ نماز فجر ادا فرمائی۔یہ شہداءکربلاکی آخری نماز تھی۔ نماز کے آپ ؓنے سب کےلئے صبرواستقامت کی دعا مانگی۔ دسویں محرم کا خونین آفتاب اپنی پوری خون آشامیوں اور مصائب کی خبر کے ساتھ طلوع ہوا ۔ایسا دن نہ صرف تاریخ اسلام میں بلکہ انسانیت کی تاریخ میں تا قیامت ظلم وجفا اور صبر ورضا کی مثالوں کے یاد کیا جائے گا۔ نواسہ رسولؐ، امام شہداءکربلا سیدناحسینؓ کی 5 شعبان المعظم4ہجری کو مدنیہ منور میں ولادت ہوئی اور 10دس محرمرالحرام61 ہجری میں حق وصداقت کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کےلئے میدان کربلا میں ساتھیوں سمیت شہادت پائی۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ حضرت سیدہ زینبؓ نے وہ صدمہ اٹھایا،جو کسی نے نہیں اُٹھایا، اُنہوں نے میدان کربلا میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بھائی سمیت دیگرعزیز اقارب کوشہید ہوتے دیکھا۔ یہ اُنہیں کا صبرواستقلال تھا جو خاص عطا ئے الٰہی تھا ۔اس صدمۂ جاں فرسا کو بیان کرنازبان وقلم بھی تاب نہیں لاتا۔شہدائےکربلا نے حق اور باطل کے درمیان کبھی نہ مٹنے والی وہ تاریخ رقم کی، جس کی مثال تاریخ عالم میں کہیں نہیں ملتی ۔ نواسہ رسول ؐسیدنا امام حسینؓ نے اعلیٰ انسانی اصولوں، اسلامی اقدار اور حق و صداقت کی سربلندی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، مگر ظالم و باطل حکمران کے سامنے نہیں جھکے اور انسانی تاریخ میں حسین ابن علیؓکی شجاعت اور حق وصداقت کی یہ لازوال داستان رقم کرنے والا یہ عظیم قافلۂ حسین ؓ ہمیشہ کے لئےسر بلند اور سرفہرست رہا اوررہے گا۔ اگرچہ واقعۂ کربلا کو ہوئے صدیاں گذرگئیں اور اس طویل عرصے کے دوران امت مسلمہ کے عظیم ترین محققین ، فقہاءو محدثین اور علماءکرام نے واقعاتِ کربلا پر بے شمار کتابیں لکھیںاورجب بھی سیرت حسین ابن علی کا ؓتذکرہ ہوتاہے تو براہِ راست کسی کا بھی دل متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا۔جہاں سیدنا حسین ابن علی ؓ کی محبت اور بڑ ھ جاتی ہے وہیں اُن لوگوں کی نفرت دل میں پیدا ہوجاتی ہے، جن لوگوں نے نواسہ رسولؐ پر ظلم وستم ڈھائے ہیں ۔ واقعہ کربلا تاریخ انسانی کا ایک ایساواقعہ ہے جو نہ صرف جنگ تھا بلکہ دینی و دنیوی زندگی کے تمام پہلوئوں کے لیے رہنمائی کاپیغام تھا،کیونکہ یہ وہ راہ عزیمت ہے ،جس میںجان کی قربانی دینے والا ہمیشہ زندہ رہتاہے۔ اس واقعہ میں نواسہ رسولؐامام حسین ابن علیؓ اپنے رشتہ داروں اور حامیوں کا ایک چھوٹاسا قافلہ جو صرف 72 افرادپر مشتمل تھا،جن میں کچھ خواتین و بچے بھی شامل تھے،کو اُس وقت کے ظالم حکمران یزید بن معاویہ کی ایک بڑی لشکر کے ساتھ معرکہ کرنا پڑا۔جس میں سیدناامام حسینؓ ہمیشہ کے لئے اہل حق کی آواز حق اور مقصد ِعشق بنا۔جس کی مثال موجودہ دور میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ سیدنا حسینؓ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک مقصد اور ایک نظریے کا نام ہے ،جس کی بنیاد پر نواسہ رسولؐ، شہید ِکربلا نے اپنے خاندان کی لازوال قربانی دے کر روز قیامت تک تمام انسانیت کو یہ پیغام دیا ہے کہ عارضی اور فانی زندگی اصولوں اور حق کے سامنے ہیچ ہے اور حقیقی کامیابی اور اطمینان قلب صرف سچائی کےاصولوں کی پاسداری کرنے میں مضمر ہے۔شہادت حسین ؓ استقامت اور عزیمت کا وہ عظیم الشان واقعہ ہے جو روز قیامت تک ہر شعبہ زندگی کے لئے صبر و استقامت کی خوبصور ت اور سبق آمو ز مثال ہے۔ سیدنا حضرت امام حسینؓ تاریخ اسلام کی پہلی شخصیت ہیں ،جن کی شہادت کو چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ایسا لگتا ہے جیسا کہ کل کا واقعہ ہے۔کیونکہ کسی بھی المناک واقعہ پر اس قدر آنسو نہیں بہے ہوںگے جتنے آنسو شہداءکربلا کی یاد میں بہائے گئے ہوں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ اور شاعر سید اشرف سمنانی ؒ نے نواسہ رسول سیدنا امام حسن ؓاور سیدنا امام حسینؓ کی شان اقدس کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔
’’ معرفت کی راہ پر چلنے والوں (اہل ِ عرفان) کے نزدیک سیدنا حسن ؓاور سیدناحسین ؓ دونوں ہی روشن صفت اور روشن کردار کے حامل ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک سیدنا امام حسینؓ زمین سے آسمان تک چمکنے والا روشن ستارہ اور دوسرےسیدنا امام حسنؓ دمکتا اور چمکتا ہوا موتی۔‘‘یہ دونوں ہستیاں اپنے نانا، پیغمبرآخرالزماںؐ کے نورِ نظر، جنت کے نوجوانوں کے سردار اور اہل بیت کے چشم و چراغ ہیں۔ایک نے زہر پی کر خدا کا شکر ادا کیا اور دوسرے نے نیز پرچڑھ کر قرآن پڑھا۔ایک نے اپنی خلافت کا تاج دے کر اسلام کو فتنہ وفساد سے بچایا اور دوسرے نے اپنا سب کچھ قربان کر کے اسلام کی آبرو بچائی۔ نواسۂ رسولؐ کا واقعہ شہادت تاریخ ِ عالم اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیںاور تاریخ میں کچھ واقعات اچھائی کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور کچھ بُرائی کی المناک اورعبرت ناک نظر آتے ہیں۔بعض واقعات صبر و استقامت کی ضرب المثل بن کر معاشرے میں ہر خاص و عام کی زبان زد عام ہو کر شہرت عام حاصل کر تے ہیں۔ انہی تاریخ و اقعات کا گواہ 10 محرم 61 ہجری ہے،جب حق و صداقت کے علم برداروں کے مختصر قافلہ کوہزاروںکے ساتھ لڑنا پڑا اور اپنی جانیں قربان کرکے فتح یابی حاصل کی اور صبح قیامت تک زندہ و جاوید ہوئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق و صداقت کے علم برداروں کو ہر دور میں مصائب و آلام کی دشوار گزار وادیوں سے گزرنا پڑتا ہےاور یہی وجہ ہے کہ قافلہ حق کے رہنماحسین ابن علی ؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کے ساتھ میدان کربلا میں پیش آیاتاریخ کا المناک واقعہ ہے، جس میں نواسہ رسولؐ، جنتی نوجوانوں کے سردارکی مظلومانہ شہادت ہوئی ،جو نہ صرف ایک درد ناک سانحہ ہے بلکہ اس واقعہ کو بیاں کر نے سے ہر آنکھ نم اور دل اداس ہوجا تا ہے۔اہل علم فرماتے ہیںکہ عاشور کے دن اللہ تعالیٰ نے دس نبیوں پر دس کرامتوں کا انعام فرمایاہے۔ اس دن حضرت آدمؑ کی توبہ قبول ہوئی ۔حضرت نوح ؑ کی کشتی کوہِ جودی پر رُکی ۔حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون غرق ِ آب ہوا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت ہوئی اور اُسی دن وہ آسمان پراُٹھائے گئے۔حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے خلاصی ملی اور اِسی دن اُن کی اُمت کا قصور معاف ہوا۔حضرت یوسفؑ کو کنوئیں سے نکلا لے گئے۔ حضرت ایوبؑ کوبیماری سے صحت یابی حاصل ہوئی۔حضرت ادریسؑ آسمان پر اُٹھائے گئے۔حضرت ابراہیم ؑ کی ولادت ہوئی اور آگ گلزار ہوئی۔حضرت سلیمانؑ کو ملک عطاہوااور دس محرم الحرام کوسیدناحسین ابن علی ؓکی شہادت کی نسبت سے بہت مشہور ہوگیا۔