وادی بھر میں شبانہ درجہ حرارت میں بہتری، 22جنوری کے بعد بھاری برفباری کا امکان
سرینگر// جمعہ کی دوپہر وادی کشمیر کے کئی اونچے علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی، جیسا کہ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی تھی۔ڈائریکٹر موسمیات ڈاکٹر مختار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کئی اونچے، چند ایک پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ اب 19اور 20جنوری کو مغربی ہوائوں کا ایک اور مرحلہ داخل ہونے جارہا ہے جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں اور کچھ میدانی علاقوں میں بوندا باندی ہوسکتی ہے، خاص کر شمالی و وسطی کشمیر کے اونچے حصوں میں زیادہ امکانات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط مغربی ہوائوں کا مرحلہ 22جنوری کو داخل ہوگا جس سے خاص کر جنوبی کشمیر، بانہال، چناب اور پیر پنچال کے میدانی علاقوں میںوسیع پیمانے پر برف و باراں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میدانی علاقوں میں یہ چلہ کلاں کی پہلی برفباری ہوسکتی ہے جس سے لداخ شاہراہ، رازدان پاس، مغل روڑ، سنتھن ٹاپ اور سادھنا ٹاپ بند ہونگے۔ادھر جمعہ کوپہاڑی علاقوں میں برفباری سے موسم سرما کی شدت کی سردی میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔گذشتہ شب درجہ حرارت میں بہتری آئی اور قریب 2ڈگری سے زیادہ بہتری رونما ہوئی۔تفصیلات کے مطابق گریز کے میدانی علاقوں میں 2انچ کے قریب تازہ برف باری ہوئی جبکہ غلام نبی رینہ کے مطابق بعد دوپہر سے سونمرگ، زوجیلا اور منی مرگ میں برفباری شروع ہوئی ۔ دراس میں ایک انچ کے قریب برفباری ریکارڈ کی گئی، زوجیلا پاس پر بھی تقریبا 2انچ برف پڑی، جس سے اسٹریٹجک پہاڑی حصے میں نقل و حرکت متاثر ہوئی۔حکام نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے حصوں کو جوڑنے والے سادھنا پاس پر2 سے 3 انچ کے درمیان برف باری ہوئی ۔اونچی جگہوں پر تازہ برف جمع ہوگئی ہے۔مشہور سیاحتی مقامات پر بھی برف باری ہوئی، اگرچہ اسکی شدت ہلکی رہی۔ گلمرگ میں تقریباً ایک سنٹی میٹر تازہ برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ دو ھ پتھری اور سونمرگ میں دن کے وقت ہلکی برفباری ہوئی۔موسمیاتی حکام نے بتایا کہ برف باری بنیادی طور پر اونچائیوں تک محدود رہی، جب کہ وادی کشمیر کے نچلے علاقوں میں سرد حالات کے ساتھ بڑے پیمانے پر موسم ابر آلود رہا۔ برف سے ڈھکے علاقوں میں رات کے درجہ حرارت میں مزید کمی کی توقع ہے۔آنے والے دنوں میں مزید موسمی سرگرمیاں ہونے کا امکان ہے، پیشین گوئیوں سے بلندی کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں مزید برف باری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ مغربی رکاوٹیں خطے کو متاثر کرتی رہیں گی۔حکام نے مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور اونچی جگہوں پر رہنے والے مقامی لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں، خاص طور پر پہاڑی راستوں پر، کیونکہ تازہ برف پھسلن سڑکوں کے حالات کا باعث بن سکتی ہے۔