مومن فہیم احمد عبدالباری
دورِ حاضر میں شاید ہی کوئی شخص ہوگا جو مارکٹنگ یا بازار کاری کی اہمیت کو نہ جانتا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم جاننے کے باوجود اس کی صحیح طور پر وضاحت نہیں کر پاتے۔ عمومی طور پر یہ کاروباری انتظامیہ (Business Management) کا ایک جز ہے جسے انتظامیہ(Management) کی تعلیم میں ابتدائی دور سے ہی اہمیت حاصل ہے اور انتظامیہ کے سب سے اہم اور بنیادی شعبوں میں سے ایک ہے۔ دیگر شعبوں میں انسانی وسائل (Human Resource [HR])، مالیات (Finance)، انفارمیشن ٹیکنالوجی، آپریشنس، لاجسٹکس وغیرہ شامل ہیں۔ بدلتے سماج میں تبدیلی کی بناء پر مارکٹنگ نے اہمیت اختیار کرلی ہے اور پوری دنیا میں مارکٹنگ پروفیشنلس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک ،’’تجارتی ادارے کے صرف دو ہی اہم کام ہیں ایک بازار کاری(مارکٹنگ) اور دوسرا جدت طرازی (اختراع/ایجاد)‘‘ اس مقولے سے بازار کاری کی اہمیت کو واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مارکیٹنگ کی ایک سادہ تعریف مارکیٹنگ کو صارفین کی ضروریات سمجھنے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ ان ضروریات میں مصنوعات اور خدمات کو ڈیزائن کرنا اور انہیں صارفین تک پہنچانا ہے۔ مارکیٹنگ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ لوگ کیوں خریدتے ہیں؟ اور کیوں ایک برانڈ کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں؟ معاشی لبرلائزیشن کے بعد ہمارے ملک میں بھی صارفیت کا پھیلاؤ ہوا ہے۔ مختلف انکم گروپ کے افراد اشیاء اور خدمات کی مانگ کومسلسل بڑھا رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نوجوان ورکنگ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں جن کی قابل صرف آمدنی اچھی خاصی ہے۔ صارفین کے پاس بہتر اشیاء اور خدمات کے انتخاب کی سہولیات پہلے کے مقابلے بہت بڑھ گئی ہیں اور کاروباری دنیا کو زبردست مقابلہ آرائی (مسابقت) کا سامنا ہے۔ اس منظر نامے میں کاروباری ادارے مارکیٹنگ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے مارکیٹ شیئر کو برقرار رکھنے اور پھر اسے بڑھانے کے چیلنج کا سامنا ہے۔تمام بڑی اور درمیانی سائز کمپنیوں کے پاس کارپوریٹ سطح پر مارکیٹنگ کا شعبہ ہوتا ہے جس کا انتظام عام طور پر مارکیٹنگ میں پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل افراد کرتے ہیں۔ علاقائی مارکیٹنگ کے دفاتر اور فیلڈ مارکیٹنگ ٹیمیں بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک عام شخص کے لیے مارکٹنگ کا مطلب سادہ اور آسان ہوسکتا ہے لیکن طلبہ جو اس شعبہ میں اپنا کرئیر بنانا چاہتے ہیں انھیں مارکٹنگ کے مختلف موضوعات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا پڑتا ہے اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے عملی تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔
ہر کاروباری تنظیم کو ایک تفصیلی مارکیٹنگ منصوبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ منصوبہ اس علاقے کو مدنظر رکھتا ہے جس کا احاطہ کیا جائے گا، مصنوعات یا خدمات کی مارکیٹنگ کی جائے گی، ٹارگٹ کسٹمر گروپ، مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں کو اپنایا جائے گا اور ان حکمت عملیوں کو لاگو کرنے کا وقت وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ مارکیٹنگ کے کہاں، کیا، کیسے، کب اور کس سے تعلق رکھتا ہے۔ مارکیٹنگ منصوبہ بندی کو موثر بنانے کے لیے بہت سے زمینی کام کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مارکیٹ ریسرچ (تحقیق) بھی شامل ہوتی ہے۔ مارکیٹ ریسرچ صارفین، ان کی ترجیحات، ان ترجیحات میں ہونے والی تبدیلیوں، مسابقتی اداروں (کاروباری حریفوں)کی حکمت عملی وغیرہ کا مطالعہ ہے۔ اس میں ڈیٹا اکٹھا کرنا اور پیشین گوئی بھی شامل ہے۔ سادہ لفظوں میں مارکیٹ ریسرچ کا مطلب ہے کہ مارکیٹوں اور اس میں دستیاب امکانات کو سمجھنا یا تلاش کرنا۔
اشتہاز بازی ہمارے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ہر روز ہم اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر اشتہارات دیکھتے ہیں۔ یہ تمام اشتہارات مارکیٹنگ کی حکمت عملی کے مطابق گردش میں رہتے ہیں۔ اشتہارات کو دلکش ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی جانب متوجہ کرنے والے ہونے چاہیے۔ تشہیر ایک خیال سے شروع ہوتی ہے جسے تیار کرنا ہوتا ہے۔ میڈیا کی منصوبہ بندی بھی اتنی ہی اہم ہے جس میں سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ منافع کو یقینی بنانے کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز، مقامات وغیرہ کی نشاندہی کرنا شامل ہے۔ اپنی موجودگی کو مضبوط اور شناخت بنانے کے لیے برانڈنگ کو اپنایا جاتا ہے۔ برانڈنگ ایک پروڈکٹ یا خدمت (سروس) کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہے اور دوبارہ خریداریوں میں بھی حصہ ڈالتی ہے۔ اس طرح مارکیٹر کو ایک خاص مقدار کی فروخت کا یقین دلایا جاتا ہے۔ اگر ہم بطور صارف اپنے رویے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کس طرح مخصوص برانڈز کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ خریداری کے دوران ہم صابن ، ٹوتھ پیسٹ، شیمپو نہیں بلکہ ان اشیاء کے ایک خاص برانڈ کا نام لیتے ہیں۔ یہ ایف ایم سی جی (فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس۔صارفین کے ذریعے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء) پر خاص طور پر صادق آتا ہے۔
ایک غلط فہمی ہے کہ مارکیٹنگ اور اشیاء کی فروخت ایک ہی کام ہیں۔ دراصل فروخت (سیلس) مارکیٹنگ کا ایک حصہ ہے۔ مارکیٹنگ میں اور بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں جن کی اوپر وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ جہاں فروخت ایک قلیل مدتی نقطہ نظر ہے جبکہ مارکیٹنگ طویل مدتی نقطہ نظر کے ساتھ کی جاتی ہے۔ یقیناً مارکیٹنگ کی کوششوں کے نتیجے میں فروخت میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن مارکیٹنگ کا صرف یہی مقصد نہیں ہے۔ مؤثر مارکیٹنگ کے نتیجے میں کاروبار کی پائیداری ہوتی ہے۔دیگر جزئیات۔ مذکورہ بالا اقدامات کے علاوہ مارکیٹنگ کے لیے صارفین کے رویے، کاروباری مواصلات(کمیونکیشن) ، کسٹمر سروس، کاروباری پیشن گوئی، پروڈکٹ مینجمنٹ اور ریلیشن شپ مینجمنٹ کا مطالعہ درکار ہوتا ہے۔ ابھرتے ہوئے منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ جیسے موضوعات کو بھی مارکیٹنگ کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
مارکیٹنگ میں اچھا کیریئر بنانے کے لیے آپ کو مارکیٹنگ میں مہارت کے ساتھ مینجمنٹ میں پوسٹ گریجویٹ اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اہلیت ڈگری یا ڈپلومہ کی شکل میں ہو سکتی ہے۔ بی بی اے (بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) یا بی ایم ایس (بیچلر آف مینجمنٹ اسٹڈیز)، بی کام (منیجمنٹ اسٹڈیز) کی اہلیت رکھنے والے افراد کو یا تو جونیر پوزیشن پر یا سیلز پروفائل کے ساتھ مارکیٹنگ کیرئیر میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے۔بارہویں (انٹرمیڈیٹ) کامیاب کوئی بھی طالبعلم ان گریجویٹ کورسز میں شامل ہونے کا اہل ہے۔ اسی انداز میں تمام گریجویٹ منتخب کردہ مضامین سے قطع نظر، مینجمنٹ میں پوسٹ گریجویٹ کورس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ باقاعدہ کل وقتی کورس دو سال کا ہوتا ہے اور خصوصی مطالعہ (Specialization)زیادہ تر دوسرے سال میں ہوتا ہے۔ مارکیٹنگ مینجمنٹ کے لیے مخصوص کورسز میں ماسٹرس اِن مارکیٹنگ مینجمنٹ یاپی جی (پوسٹ گریجویٹ )ڈپلومہ اِن مارکیٹنگ مینجمنٹ اہم ہیں۔ آپ جس کورس کا انتخاب کریں ضروری ہے کہ وہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(UGC) سے منظور شدہ اداروں اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (AICTE) سے Affiliated اداروں سے ہوں۔ تقریباً تمام بزنس اسکول مارکیٹنگ مینجمنٹ کے کورسیس پیش کرتے ہیں۔ تاہم کچھ ادارے ان کے پیش کردہ پروگراموں کے لیے بہتر شہرت رکھتے ہیں۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIM)، احمد آباد ایسا ہی ایک ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ کولکتہ، بنگلورو، کوزی کوڈ، لکھنؤ، رانچی اور اندور میں آئی آئی ایم (IIM)ہیں۔ روہتک، تروچیراپلی، کاشی پور، شیلانگ، ادے پور میں نئے کھولے گئے آئی آئی ایم بھی ان میں شامل ہیں۔
داخلوں کا طریقہ کار:انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ (IIMs) میں داخلہ کامن اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ (CAT)کے اسکور کی بنیاد پر کیا جاتا ہے CAT سکور بیشتر دیگر انتظامی اداروں میں بھی داخلوں کے لیے قابل قبول ہے۔ بہت سی ریاستوں میں ریاست کے اندر دستیاب مینجمنٹ کورسز میں داخلے کے لیے CAT یا CET جیسے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر محکمہ تکنیکی تعلیم، مہاراشٹر حکومت مہاراشٹر کی یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں داخلوں کے لیے MHT-CET (مہاراشٹر کامن انٹرنس ٹیسٹ) کا انعقاد کرتے ہیں۔ بہت سے پرائیویٹ ادارے اپنے ذاتی انٹرنس ٹیسٹ کا انعقاد کرتے ہیں۔ ان میں نمایاں ہیں زیویئر لیبر ریلیشنز انسٹی ٹیوٹ، جمشید پور، سمبیوسس انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ، پونے، نرسی مونجی انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز، ممبئی وغیرہ۔ کچھ نجی ادارے بھی ایسوسی ایشن آف انڈین مینجمنٹ اسکولز اور آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے MAT کے ذریعے کرائے گئے ATMA میں اسکور کو قبول کرتے ہیں۔
مارکیٹنگ مینجمنٹ میں مہارت کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ کورسز IITs (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) اور NITs (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) میں دستیاب ہیں۔ حیدرآباد اور موہالی میں انڈین اسکول آف بزنس (ISB) (مارکیٹنگ) مینجمنٹ میں ایک سال کا کورس چلاتے ہیں۔ اس میں تجربہ کار امیدواروں کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔ انڈین اسکول آف بزنس (ISB) گوکہ AICTE سے ملحق نہیں ہے لیکن اس کی تعلیم کا معیار بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔
FMCG : فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز معیشت کا ایک بڑا شعبہ ہے۔ یہ اشیائے صرف (Consumers Goods) ہر طبقے کے لوگ استعمال کرتے ہیں اور ان کی بہت مانگ ہے۔ اسی طرح کی مصنوعات کی پیشکش کرنے والی کئی کمپنیاں ہیں لہذا مسلسل جدت طرازی کی ضرورت کے ساتھ اس شعبہ میں زبردست مقابلہ آرائی ہے۔ اس شعبہ کی بڑی کمپنیاں اپنی کامیابی کے لیے اپنی مارکیٹنگ ٹیم پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ ہندوستان یونی لیور، پراکٹر اینڈ گیمبل، نیسلے، کولگیٹ پامولیو، پیپسی، کوکا کولا جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور امول، گودریج انڈسٹریز، آئی ٹی سی، ماریکو، ڈابر جیسی گھریلو کمپنیاں ہندوستان میں کام کرنے والی FMCG کمپنیوں کے اہم نام ہیں۔
بینکنگ ، انشورنس اور مالیاتی شعبہ (بی ایف ایس آئی) سیکٹر: بی ایف ایس آئی سیکٹر بینکنگ، مالیاتی خدمات اور انشورنس کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ ہم اس شعبے میں کافی متحرک دیکھتے ہیں کیونکہ ایسی کمپنیوں کا کاروبار بڑھ رہا ہے۔ اپنی مارکیٹنگ کی اہلیت کے ساتھ آپ پبلک سیکٹر کے بینک میں بطور ماہر یا جنرل بینکنگ آفیسر شامل ہو سکتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ انشورنس ایک درخواست کا معاملہ ہے جو انشورنس کے کاروبار میں مارکیٹنگ کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس طبقہ میں دیگر میوچل فنڈز، اسٹاک بروکنگ فرم، ہاؤسنگ فنانس کمپنیاں وغیرہ شامل ہیں۔
ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹ ریسرچ:ایڈورٹائزنگ ایجنسی ٹیم، کاپی رائٹرس، ویژولائزرس اور مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ کسی بھی اشتہاری حکمت عملی یا مہم کی تشکیل میں مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد کے ان پٹ کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اشتہاری مہم شروع کرنے سے پہلے مارکیٹ ریسرچ کی جاتی ہے۔ ایسی کمپنیاں ہیں جو مارکیٹ ریسرچ پر خصوصی دھیان دیتی ہیں ان میں متحرک اور تخلیقی مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ ہندوستان اور بیرون ملک بڑی تعداد میں انتظامی ادارے موجود ہیں، اس لیے تدریسی مواقع وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ ایک فریشر کے طور پر آپ کو تدریسی اسائنمنٹ کے لیے منتخب کیے جانے کے امکانات کم ہیں۔ چند سالوں کے صنعت کے تجربے یا پی ایچ ڈی کے ساتھ قابلیت، یہ ایک فیکلٹی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے آسان ہوتی ہے۔
مشاورت(کنسلٹنگ) :اپنے کاروبار اور کاروباری رسائی کو بڑھانے اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے بہت سی کاروباری تنظیمیں ماہرین سے مشورے کرتی ہیں۔ مشاورتی ایجنسیاں اور انفرادی مشیر ہیں جو فیس کے عوض ایسی خدمت فراہم کرتے ہیں۔ ایسی مشاورتی خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ لیکن ایسا کیریئر صرف بڑے شہروں میں دستیاب ہے۔ٹیلی کمیونیکیشن، ہیلتھ کیئر، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، ہاسپیٹالیٹی (مہمان نوازی) ، پیٹرو کیمیکل انڈسٹریز، انفارمیشن ٹیکنالوجی (ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر)، رئیل اسٹیٹ کمپنیوں اور برآمدی تنظیموں میں بھی مارکیٹنگ کے اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ فیس بک، گوگل اور لنکڈین اور ای کامرس کمپنیوں جیسے ایمیزون، فلپ کارٹ، اسنیپ ڈیل بھی اپنی کاروباری ٹیموں میں مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد کو شامل کرتے ہیں۔بہت سے معاملات میں مارکیٹنگ پروفیشنلس کا انتخاب کیمپس پلیسمینٹ کے ذریعے ہوتا ہےاس کے علاوہ متعدد جاب پورٹلز، سوشل میڈیا اور اخباری اشتہارات بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ نجی شعبے میں مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد کے لیے زیادہ مواقع ہیں۔مارکیٹنگ کی نوکری ان لوگوں کے لیے زیادہ موزوں ہے جو باہر جانے والے، مستقل مزاج اور ہدف پر مبنی کام کرسکتے ہیں۔ مینجمنٹ کورس کہاں سے کیا جائے اس کے لیے ہمیشہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ نئے اداروں کے بجائے مناسب انفراسٹرکچر اور معقول فیس کے ساتھ ایک پہلے سےقائم شدہ ادارے کا انتخاب کیا جائے ۔ تاکہ تجربہ کار افراد سے تعلیم حاصل کرنے، عملی تجربات سے گذرنے اور اچھے پلیسمینٹ کے مواقع مل سکیں۔
رابطہ۔9970809093