ایجنسیز
لندن//ماحولیاتی تبدیلی کی کارکن گریٹا تھنبرگ کو سنٹرل لندن میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر فلسطینی حامی کارکن کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔ یہ فلسطینی حامی پہلے بھی کئی مظاہروں سے متعلق الزامات میں ٹرائل کا انتظار کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہا ہے۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو احتجاجی گروپ ’پریزنرز فار فلسطین‘ نے شیئر کیا ہے۔ اس میں ایک 22 سالہ سویڈش لڑکی ایک پلے کارڈ پکڑے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ یہ بھوک ہڑتال کرنے والوں کی ’فلسطین ایکشن‘ نامی تنظیم سے وابستہ ہے، وہ اسی کا حمایت کر رہی تھی۔واضح رہے کہ برطانوی حکومت اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ رواں سال کی شروعات میں اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ یہ احتجاج ایک بڑی تحریک کا حصہ تھا۔ اس میں 2 دیگر کارکنوں نے سٹی آف لندن میں ایک انشورنس کمپنی کے سامنے سرخ پینٹ پھینکا تھا۔ سٹی آف لندن، سنٹرل لندن کا وہ علاقہ ہے جسے برطانیہ کی مالیاتی خدمات کی صنعت کا مرکز مانا جاتا ہے۔ ’پریزنرز فار فلسطین‘ کے مطابق انہوں نے انشورنس کمپنی کو اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ اسرائیل سے منسلک دفاعی فرم ’ایلبٹ سسٹم‘ کی حمایت کرتی ہے۔سٹی آف لندن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک آدمی اور ایک خاتون کو مجرمانہ نقصان پہنچانے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ تیسری خاتون کو ایک کالعدم تنظیم کی حمایت کرنے کے شک میں گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی پولیس عام طور پر الزام عائد کرنے سے قبل مشتبہ افراد کی شناخت ان کے نام سے نہیں کرتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ’فلسطین ایکشن‘ کے 8 اراکین نے پورے ملک میں ہوئے احتجاج سے متعلق کئی الزامات میں ٹرائل کا انتظار کیا اور بغیر ضمانت کے اپنی حراست کی مخالفت میں بھوک ہڑتال کی ہے۔ ’پریزنرز فار فلسطین‘ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’احتجاج میں شامل ہونے والے پہلے 2 قیدی اب 52 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جس میں موت کا امکان ہے۔