منڈی//تحصیل منڈی کے علاقہ لورن میں سنیچر کی صبح حولناک آگ کی واردات پیش آئی جس میں9دوکانیں جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ۔پولیس نے بتا یا کہ سنیچر کی صبح 4بجے انہیں یہ خبر موصول ہوئی کہ لورن بس اڈہ پر ایک دوکان کو آگ لگ گئی ہے جس دوران آگ نے مزید 8 دوکانوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ دکانوں میں موبائل کی ایک دکان ،دو کمپیوٹر شاپ ،ہوٹل اور دو دیگر دکانیں بھی شامل ہیں ۔معاملہ کی اطلاع موصول ہوتے ہی پولیس کی ایک ٹیم ایس ایچ او لورن کی قیادت میں موقعہ پر پہنچی اور مقامی لوگوں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی گئی ۔مقامی لوگوں نے محکمہ فائر اینڈ ایمر جنسی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ کی جانب سے وقت پر کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق فائر اینڈ ایمر جنسی کی سروس کی گاڑی تاخیر سے پہنچی جس پر مکینوں نے سنگ باز ی بھی کی ۔ایس ایچ او لورن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا آگ کی وردات کے سلسلہ میں ایک کیس درج کیا گیا ہے ۔فائر اینڈ ایمر جنسی سروس پر ہوئے پتھراﺅ کے سلسلہ میں موصوف نے کہاکہ ہر ایک سماج میں زر پسند عناصر موجود ہوتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ سروس کی گاڑی کو آتے ہوئے کچھ وقت لگا تاہم اس سے قبل ہی پولیس ،فوج اور مکینوں نے آگ کے مزید پھیلاﺅ کو روک دیا تھا ۔مقامی سیاسی لیڈران نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کے ہوئے نقصان کا تخمینہ لگا کران کو معاوضہ دیا جائے ۔پی ڈی سی شمیم احمد گنائی نے لورن واقعہ پر افسوس کرتے ہوئے انتظامیہ سے مانگ کی کہ متاثرین کے نقصان کا جلدازجلد تخمینہ لگایا جائے اور ان کو معاوضہ بھی دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبار ہ سے شروع کر سکیں ۔سابق ایم ایل اے پونچھ شاہ محمد تانترے نے اس شدید نقصان پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کی کہ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے ۔