منڈی//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے گائوں لورن کے محلہ ٹھاکراں ، میراں و درزیاں کو جوڑنے کیلئے ایک پل کی تعمیر کاکام محکمہ پنچایت کی جانب سے ہاتھ میں لیا گیا تھا مگر تین برس گزر جانے کے بعد بھی اس پلْ کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی جس کی وجہ سے علاقہ جات کی عوام کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے تعمیر اتی عمل سست روی کاشکار ہے تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس کو مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ علاقوں کو تحصیل صدر مقام منڈی سے جوڑنے کا واحد یہی راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے پل کی ادھوری تعمیر پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی تعمیر کو مکمل نہیں کیا جو کہ یہاں کی عوام کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے بچوں اور مریضوں سمیت لوگوں کو قریبی سڑک تک پہنچنے کے لئے مجبورا دریا کے بیچ و بیچ سے نکلنا پڑتا ہے۔جو بارشوں کے دنوں کبھی بھی بڑا حادثہ بن سکتا ہے ۔محمد افضل نامی ایک مقامی نوجوان نے بتایا کہ یہ پل کئی دیہاتوں کے مابین فاصلہ نمایاں طور پر کم کرتا ہے اور مسافروں کو کم سے کم وقت میں اپنی اپنی منزلوں تک پہنچنے میں کام کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پل کی منظوری کے تین سال بعد ہی صرف دو ستون تعمیر ہوئے اور سلیپ ڈال کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کی یہ محکمہ کی لاپرواہی سمجھیں یا اعلی حکام کی غفلت شعاری۔ مقامی لوگوں نے اس معاملے میں ڈپٹی کمشنر پونچھ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوے کہا کی جلد اس پل کی تعمیر کو مکمل کر کے عوام کیلئے راحت کا سامان پیدا کریں تاکہ غریب عوام اس کو استعمال کر کے اپنی پریشانیوں کے وقت آنے جانے میں استعمال کر سکیں۔