ڈاکٹر عریف جامعی
انسانیت کی کامل رہبری کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے روز اول سے ہی انتظام کر رکھا تھا۔ ذرّیت آدم کو زمین پر بھیجنے کے فیصلے کے ساتھ ہی ربّ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا تھا کہ: ’’ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاو، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف و غم نہیں۔‘‘ (البقرہ، ۳۷) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کے ان اولین رہبروں (پیغمبران کرامؑ) کے عقل و دل کی محافظت خود خدائے رحمٰن کررہے تھے اور ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ انسان کی بحیثیت مجموعی رکھوالی کریں۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا کہ انسان خدا کی طرف سے حاصل شدہ اختیار اور ذرائع علم (یعنی سمع، بصر اور فواد) کے استعمال کے درمیان ایک توازن قائم کرسکے، کیونکہ عدم توازن کی صورت میں اس میزان کے بگڑنے کا خدشہ تھا جو خداوند قدوس نے کائنات میں تکوینی طور پر قائم کی ہوئی ہے۔
اس طرح انسان کی لوح دل کو نگاہ رہبر کے ماتحت کیا گیا۔ انسان نے اگرچہ مختلف ادوار میں مختلف افراد کو مسند رہبری پر بٹھاکر ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے، تاہم اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا ہے کہ انسانیت کی کامل رہبری کا فریضہ انہی ہستیوں یعنی پیغمبران کرامؑ نے انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں رسالتمآبؐ کے اقوال بڑے ہی معنی خیز ہیں۔ آپؐ کا یہ فرمانا کہ ’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے‘‘ (بعثت معلما) ظاہر کرتا ہے کہ تعلیم و تعلم انبیاء کرامؑ کی بنیادی ذمہ داری رہی ہے۔ تاہم آپؐ کا یہ ارشاد گرامی کہ ’’مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے‘‘ (بعثت لاتم مکارم الاخلاق) سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ انسانیت میں اخلاق کا جو ڈھانچہ متعارف ہوا، اس میں مختلف زمانوں میں مختلف لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا۔ تاہم اس ڈھانچے کی تکمیل کی ذمہ داری سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کی گئی۔ قرآن میں نبیؐ کو تفویض کی گئی یہ ذمہ داری کئی بار بیان ہوئی ہے۔ تلاوت آیات ِالہٰی، تزکیہ نفس، تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت (البقرہ، ۱۲۹) اس ذمہ داری کی جہات چہارگانہ ہیں۔ اس ترسیل و تدریس علم کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ صرف انسانی عقل بلکہ انسان کا دل بھی علم و عرفان اور حکمت کا مہبط بن جاتا ہے۔ اسی لئے ’دانائی کی بات کو مومن کا گمشدہ سرمایہ قرار دیا گیا ہے‘ اور اسے تحصیل علم و حکمت کی ترغیب دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ’’وہ جہاں بھی اسے پائے، وہ اس کا زیادہ حقدار ہوگا۔‘‘ (الترمذی)
ظاہر ہے کہ تعلیم و تعلم کے اس پورے عمل کے دوران ایک متعلم (طالب علم) رہبر (عالم، استاد) کے سامنے اپنی لوح دل بچھا دیتا ہے اور رہبر اس پر اپنی نگاہ دلنواز کے توسط سے تجلیات علم کا فیضان کرتا ہے۔ صوفیاء کرام ادب کی اس بلند ترین سطح کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’مرید‘دراصل ’مرشد‘ کے ہاتھوں میں ایک نعش کی طرح ہوتا ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ طالب علم رہبر کی ہر بات بے چون و چرا قبول کرتا ہے، کیونکہ ہر ہر بات کی تحلیل اور تجزیہ کے لئے اس کے پاس خدا کی عطا کردہ عقل موجود ہوتی ہے۔ تاہم رہبر کی نگاہ عقل اور دل کو کچھ اس طرح متاثر کرتی ہے کہ ان میں نظم اور ربط کے ساتھ ساتھ ضروری توازن اور اعتدال بھی پیدا ہوجاتا ہے جو خدا کے اس پورے عطیے کو ’فواد‘ کی سطح تک لیجاتا ہے جہاں علم کا متلاشی مجرد علم کے بجائے علم نافع حاصل کرکے خدائے رحمٰن کا شکرگزار بندہ بن جاتا ہے۔ سمع، بصر اور فواد کی اس مشترکہ اور منضبط کاوش، جو نگاہ رہبر سے درجہ کمال کو پہنچتی ہے، کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالی نے تمہیں تمہاری ماوئوں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو۔‘‘(النحل، ۷۸)
انسانیت کے فکری ڈھانچے میں رہبر کی حیثیت اور اہمیت اس طرح محکم اور مسلم ہے کہ اسے ہم ایک آفاقی حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں والدین (اگرچہ وہ خود بھی بچوں کی رہبری کرتے رہتے ہیں) اس لمحے کا بڑے ہی اشتیاق سے انتظار کرتے ہیں کہ کب ان کی اولاد رہبر کی نگاہ دلنواز کے سائے میں آجائے۔ اس لئے وہ سماں بڑا ہی دلنشین ہوتا ہے جب بچہ رو رو کر والدین کی آغوش چھوڑ کر رہبر کی آغوش میں آجاتا ہے۔ بچہ گرچہ نئے ماحول سے غیر مانوس ہونے کی وجہ سے چیختا چلاتا ہے، لیکن والدین کے لئے اسی چیخ و پکار سے بچے کی زندگی کا اصلی سفر شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ رہبر کے لئے انہی لمحات میں اطمینان اور انبساط کا سامان ہوتا ہے کیونکہ نئی نسل کی رہبری اور راہنمائی کے پورے عمل کے لئے پرانی نسل (والدین) استاد کی ذات پر کامل اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہے۔ تاہم تجلیات علم کی ترسیل اور ترویج کا واسطہ بننا ایک بھاری ذمہ داری ہے، جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے رہبر کو نہ صرف متحرک اور مستعد ہونا پڑتا ہے بلکہ اسے ہر دم اور ہر آن رواں دواں رہنے کے لئے فکر مند رہنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں استاد کی طرف سے کسی بھی قسم کی کسل مندی سے معاشرے کی عمارت کی پہلی اینٹ (خشت اول) ہی ٹیڑھی پڑ سکتی ہے، جس سے پوری عمارت ٹیرھی تعمیر ہوسکتی ہے اور ٹیڑھی عمارت یا تو دھڑام سے گر کر زمین بوس ہوجاتی ہے یا پھر عمارت کو از سر نو تعمیر کرنا پڑتا ہے۔
استاد سب سے پہلے بچے کو نئے ماحول سے آشنا کرتا ہے اور اس شناسائی کے ساتھ ہی استاد بچے کے ہاتھ میں قلم تھما دیتا ہے اور اس طرح نوک قلم متحرک ہوکر علم کے موتی بکھیرنا شروع کرتی ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند دہائیاں قبل ہمارے معاشرے میں استاد بچے کو سرکنڈے کا قلم تراش کر دیتا تھا، جس سے شاگرد اور استاد کے درمیان ایک خوشگوار نفسیاتی تعلق قائم ہوجاتا تھا۔ غرض نگاہ رہبر سے لوح دل ہی نہیں بلکہ نوک قلم بھی مستنیر ہوجاتی ہے۔ یعنی رہبر کے زیر سایہ مکتب میں ’’اقراء‘‘ یعنی ’پڑھ‘ کی آواز کے ساتھ ہی علم کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور نوک قلم اس کی تحفیظ اور انتقال کا سامان کرتی ہے۔ یہ استاد کی خوش بختی ہے کہ وہ علم کی ترویج کے اس عمل کا امین بن جاتا ہے جس کا بنیادی آلہ قلم ہی رہا ہے اور جس کا طریقہ کار ’پڑھنا‘ (اقراء) رہا ہے۔ تعلیم و تعلم کا یہ عمل خدائے رحمن کو اتنا عزیز ہے کہ قرآن میں قلم کے ساتھ ساتھ اس سے لکھی جانے والی تحریر کو گواہی (قسم) کے طور پر پیش کیا گیا ہے: ’ن والقلم وما یسطرون،’ یعنی ‘ن قسم ہے قلم کی اور اس کی جو کچھ کہ (اس سے) لکھا جاتا ہے۔‘ (القلم، ۱)
اس طرح نگاہ رہبر سے انسان کی لوح قلب حکمت کے ایک مخزن میں تبدیل ہوتی ہے۔ حکمت کے انہی لعل و گوہر کو نوک قلم ایک طرف محفوظ کرتی ہے اور دوسری طرف آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کرتی ہے۔ تاہم پیغمبران کرامؑ کی کامل حکمت کے بغیر ہر طرح کے ذخیرہ علم میں کانٹ چھانٹ اور حذف و اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ علم میں برتا جانے والا یہی رویہ انفرادی طور پر انسان کی ’تہذیب نفس‘ کا باعث بنتا ہے اور اجتماعی اعتبار سے اسی سے ’تدبیر منزل‘ کے ساتھ ساتھ ’سیاست مدن‘ کا سامان بھی ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان کا شاہراہ علم پر سفر جمود کا شکار ہوگا۔ علم کے اسی سفر کو جاری و ساری رکھنے کے لئے انسان اپنے محبوب اُستاد سے بڑے ہی ادب کے ساتھ اختلاف بھی کرتا اور اس کے اخذ شدہ نتائج پر تنقید بھی کرتا ہے۔ علم کی اسی روایت میں تاریخ علم کا حسن چھپا ہوا ہے۔ اسی روایت کو ارسطو نے اس طرح بیان کیا ہے: ’افلاطون ہمیں محبوب ہے اور ہمیں حقیقت سے بھی محبت ہے؛ لیکن ہمیں حقیقت افلاطون سے محبوب تر ہے۔’ شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’قلم تلوار سے ہے عظیم تر۔‘‘
(رابطہ، 9858471965)
[email protected]
لوحِ دل، نگاہِ رہبر اور نوکِ قلم