سمت بھارگو
احمد آباد//آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد وادی سندھ تہذیب کے اہم تاریخی مقام لوتھل میں دوبارہ کھدائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ احمد آباد کے قریب واقع یہ مقام قدیم ہڑپہ تہذیب کے نمایاں مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں نئی تحقیق سے تاریخ کے مزید پوشیدہ پہلو سامنے آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ لوتھل میں آخری مرتبہ بڑے پیمانے پر کھدائی 1960 کی دہائی تک جاری رہی تھی، جس دوران ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک منظم بندرگاہ (ڈاک یارڈ) اور قدیم شہری آبادی کے متعدد آثار دریافت کئے تھے۔
ان انکشافات نے لوتھل کو عالمی سطح پر شہرت دلائی، خصوصاً اس کی سمندری تجارت اور جدید انجینئرنگ مہارت نے وادی سندھ تہذیب کی تکنیکی ترقی کو اجاگر کیا تھا۔ہڑپہ دور کے بارے میں مزید جامع معلومات حاصل کرنے کے مقصد سے اے ایس آئی نے سال 2025 میں اس مقام پر دوبارہ کھدائی شروع کی۔ اے ایس آئی وڈودرا سرکل کے سپرنٹنڈنٹ آرکیالوجسٹ ڈاکٹر شبھم مجمدار کے مطابق ابتدائی مرحلے میں روایتی طریقے سے مٹی اور آثار جمع کرنے کے بعد اب جدید سائنسی تکنیکوں کو بھی تحقیق میں شامل کیا گیا ہے تاکہ تاریخی شواہد کو زیادہ درست انداز میں سمجھا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ اس نئی کھدائی کے دوران آپٹیکلی اسٹیمولیٹڈ لومی نیسینس (OSL)، تھرمو لومی نیسینس (TL) ڈیٹنگ، نباتاتی تاریخ نویسی اور آرکیوبوٹینیکل مطالعات جیسے جدید سائنسی طریقوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان طریقوں کے ذریعے دریافت ہونے والی اشیاء کی عمر، ثقافتی پس منظر اور انسانی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل ہوں گی۔ڈاکٹر مجمدار نے مزید انکشاف کیا کہ حالیہ مرحلے کی کھدائی میں پہلی مرتبہ ’آرنیسٹوئڈ پتھر‘ دریافت ہوا ہے، جسے ماہرین ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق اس پتھر کو سوراخ کرنے کے اوزار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جس سے اس دور کی صنعتی مہارت اور ہنر مندی کا اندازہ ہوتا ہے۔دوبارہ شروع کئے گئے اس منصوبے کے تحت اب تک 36 نئی کھائیاں تیار کی گئی ہیں جہاں تفصیلی سائنسی تحقیق جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار تحقیق کا انداز پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم اور سائنسی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے تاکہ نتائج زیادہ مستند اور قابلِ اعتماد ہوں۔ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق لوٹھل کو ہڑپہ تہذیب کا ایک اہم تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں ورکشاپس سے مشابہ ڈھانچے اور بندرگاہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں سے سمندری تجارت فروغ پاتی تھی۔ نئی کھدائی سے امید کی جا رہی ہے کہ قدیم معاشی نظام، تجارتی روابط اور شہری منصوبہ بندی کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آئیں گی، جو انسانی تاریخ کے اس عظیم باب کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔