یواین آئی
واشنگٹن// امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔یہ فیصلہ واشنگٹن میں 14 اور 15 مئی کو ہونے والے تیسرے دور کے مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق دو روزہ مذاکرات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہے جبکہ 16 اپریل سے نافذ جنگ بندی کو مزید 45 دن تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ سیاسی اور سکیورٹی سطح پر مزید پیش رفت ممکن ہو سکے۔بیان کے مطابق 2 اور 3 جون کو سیاسی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا جبکہ 29 مئی کو پینٹاگون میں ایک سکیورٹی ٹریک مذاکرات بھی شروع کیے جائیں گے جن میں دونوں ممالک کے فوجی وفود شریک ہوں گے۔امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن، سرحدی سلامتی اور خودمختاری کے احترام کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔دوسری جانب لبنان نے سہ فریقی مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم کیا ہے۔لبنانی سفارتخانے کے مطابق یہ فیصلہ امریکی سرپرستی میں شروع کیے جانے والے سکیورٹی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ لبنان تعمیری انداز میں مذاکرات کا حصہ بنا رہے گا جبکہ اس کا مقصد مکمل خودمختاری کی بحالی، نازحین کی واپسی، تعمیر نو، قیدیوں کی رہائی اور ایک آزاد نگرانی کے نظام کا قیام ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایک زمینی کمیٹی بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے انتظام کی نگرانی کرے گی۔امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین صرف جنگ بندی ہی نہیں بلکہ ایک وسیع سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پیش رفت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار نے مذاکرات کو جنگ بندی کیلئے اہم موقع قرار دیا، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ مہینوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ صرف گزشتہ 48 گھنٹوں میں 55 افراد مارے گئے۔ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 220 سے زائد جنگجو ہلاک کیے اور 440 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔