کورونا وباءکی وجہ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔ تمام کاروباری ادارے، ٹرانسپورٹ ، اور خاص طور پر اسکول اور صباحی و مسائی درسگاہیں بھی بند پڑے ہیں ۔ اس کے پیش نظر’ ادارہ فلاح الدارین ‘بارہمولہ کی جانب سے بذریعہ زوم(Zoom app ) اطفال کے لئے ’آن لائن قرآنک کلاس‘ شروع کیا گیا۔ ادارہ کی جانب سے آن لائن قرآنک کلاس کو تادمِ تحریر گیارہ(۱۱) ماہ سے زائد ہواہے۔ کلاس کی شروعات ناظرہ، قاعدے کے پہلے صفحے سے ہوئی ۔ الحمد اللہ سات مہینوں کے بعد ’قاعدے ‘ کی کلاس مکمل ہوئی ۔ آن لائن کلاس کے دوران سب سے خاص بات یہ رہی کہ کسی بھی مروجہ قاعدہ کا سہارا نہیں لیا گیا، بلکہ روایتی اند ا ز سے ہٹ کر سبق کی زیادہ سے زیادہ مشق کرائی گئی ۔
آج سبھی بچے جو اس آن لائن کلاس میں شرکت کررہے ہیں ’پہلا پارہ‘ بغیر تعلیم کے پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کلاس میں اکثر بچے پرائمری ( نرسری تا پانچویں) جماعت کے ہیں۔ وقتاً فوقتاً اس کلاس کے دوران ناظرہ کا امتحان ہوا ۔سبھی بچوں نے احسن طریقے سے اپنا سبق سُنا یا۔ خاص بات یہ تھی کہ ایک دفعہ ان بچوں کو اپنے سبق کے بجائے ’چھٹے پارہ‘(لَایُحِبّ اللہ )کا سبق سُنانے کے لئے کہا گیاتو سبھی بچوں نے بغیرکسی رکاوٹ کے سبق سُنایا ۔
راقم کے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ حالانکہ راقم نے گیارہویں جماعت سے صباحی و مسائی درسگاہوں میں پڑھانا شروع کیا تھا اور یہ ذمہ داری بھی ادارہ فلاح الدارین کے شعبہ معارف کے ذریعے ہی سونپی گئی تھی۔ محترم حاجی امیتاز احمد بیگ صاحب کے مشورے سے راقم نے پہلی بار درسگاہ معارف القرآن غوثیہ کالونی آزاد گنج بارہمولہ سے پڑھانا شروع کیا۔ تب سے لیکر آج تک شعبہ معارف کے ذریعے ان درسگاہوں سے وابستہ ہوں۔جہاں ادارہ سماجی خدمات ، تعلیم و تربیت ، دعوتی کام انجام دے رہا ہے وہیں’شعبہ معارف ‘ کے تحت قصبہ بارہمولہ کے کئی درسگاہوں کا تعلیمی نظام چلارہا ہے۔’ شعبہ معارف‘ ان درسگاہوں کے لئے ایک بورڈ کی حیثیت رکھتاہے۔ اسی شعبہ نے ان درسگاہوںکے لئے سیلبس مرتب کیا اور ۲۰۰۵ء میں قصبہ بارہمولہ کے درسگاہوں میں متعارف کروایا۔ سال بھر سیلبس کے مطابق ہی پڑھایا جاتاہے اور سال کے آخر پر مروجہ طریقے پرسالانہ امتحانات ہوتے ہیں۔
وقتاّ فوقتاّ ان بچوں کے لئے’ آن لائن کلاس‘ کے دوران قرآن کے سبق کے علاوہ مختلف پروگرامات ہوئے ۔ جس میںان بچوں نے تلاوت، نظم و نعت پیش کئے۔کئی بچوں نے کہانیاںبھی سنُائیں ، ان کہانیوں کے ذریعے بچوں نے والدین کی خدمت، اخلاقی اقدار، سماجی خدمات وغیرہ پر زور دیا۔کئی بچوں نے سیرت رسولﷺ کے واقعات بھی پیش کیے۔ اس پروگرام کے حوالے سے ان بچوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھ کراسے دوبارہ شروع کیا گیا اور بچوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مذکورہ پروگرام کوفیس بُک پر بھی ادارہ فلاح الدارین کے آفیشل پیج پر آن لائن شیئر کیاگیا۔
کلاس کے اختتام پر کوئی نہ کوئی Assignment دیا جاتا ہے جیسے ’الم ‘ کے پہلے صفحے کا سبق پڑھنے کے دوران ویڈیو بنانا تاکہ راقم ان ویڈیوز کے ذریعے ان بچوں کے پڑھے ہوے سبق کا جائزہ لے سکے ۔ کیونکہ کلاس کے دوران زیادہ وقت نہیں ملتا کہ ہر ایک بچے سے پورا سبق سُناجا سکے ، اس حوالے سے ان کے لئے یہی طریقہ کار اپنایا گیا۔ اس دوران راقم نے ایک خاص بات پائی کہ ان بچوں کے والدین قرآن کے سبق کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں جوکہ خوش آئند بات ہے ۔ حالانکہ روایتی درسگاہوںکے تئیں والدین اتنے حساس اورسنجیدہ نظرنہیںآتے۔ اس کی وجہ راقم نے ان نومہیوںمیںآن لائن کلاس میںیہ محسوس کی کہ روایتی درسگاہیںروایتی طرزپرتعلیم وتعلم کے نظام کے پابندہیں۔اس نظام میںنئے نئے تجربات نہیںکئے جاتے،زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ وہاںکوئی تبدیلی نہیںپائی جاتی،نئے آلات سے استفادہ نہیںکیاجاتا،سبق کے ذرائع اورسیکھنے سکھانے کے طریقوںمیںکوئی جدّت نہیںلائی جاتی۔یکسوئی ویک رنگی کاجمائوہے۔والدین سے کوئی تعلق ہی نہیںرکھاجاتااورسب سے اہم استاداورطالبعلم کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔استادایک دوست کی طرح طلباء سے رابطہ نہیںرکھتا۔نتیجہ طلباء اساتذہ سے کھچے کھچے اورسہمے سہمے رہتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے ان درسگاہوں میں بھی والدین اور اساتذہ اس قسم کی دلچسپی دکھائے اوردلچسپ طریقوںسے طلباء کی تعلیم وتربیت کافریضہ انجام دینے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دے۔اساتذہ اورطلباء کے والدین کے درمیان باہم رابطہ مسلسل رہاکرے۔بچوںکی حقارت وتذلیل سے اجتناب کیاجائے۔محبت واپنائیت سے ان کونشوونمادیاجائے۔
چونکہ آن لائن کلاس کے دوران کوئی نہ کوئی نیا Assignmentدیا جاتا ہے ۔ اسی حوالے سے ایک دفعہ کلاس کے اختتام پر ان بچوں کو نیا کام سونپا گیا کہ اپنے گھروں کے اندر اپنے والدین کی کاموںمیں مددکریں ۔کلاس میں شامل سبھی بچوں نے اس Assignmentکو دئے گئے وقت کے اندر اندر پورا کیا اور بعد میں راقم کے وٹس ایپ نمبر پربچوں نے ویڈیوز بھیجے ۔ جس میں بچوں نے دکھا یا کہ وہ گھر کے کاموں میں اپنی ماں کی مدد کررہے ہیں۔ چاہے برتن مانجنا ہو، سبزی صاف کرنی ہو، اہلِ کنبہ کے لئے چائے لانی ہو، روٹی پکانا ہو، گھر کی صفائی میں حصہ لینا ہو۔ اس طرح ان چھوٹے بچوں نے دیے گئے Assignment کو پورا کیا۔ غرض اس کلاس کے دوران صرف قرآن کا سبق ہی نہیں بلکہ عملََاMoral Activities کراکے اسلام کے پیغام کواپنی زندگی میںلانے کاپیغام دیاگیا۔جوکہ فرداورمعاشرہ کے لئے سراسررحمت ہے۔
ناظرہ کلاس میں بچے اب مخارج پڑھ رہے ہیں۔ چونکہ بچوں کی عمر بہت کم ہے ، اس لیے سبق بہت آہستہ سے پڑھایا جارہا ہے۔ اس حوالے سے صرف پہلے چار حروف کے مخارج مکمل کئے اور بعد میں بچوں سے کہا گیا کہ ان مخارج کی تصاویر بنائیں جس سے معلوم ہو سکے کہ حروف کیسے پڑھیں جائیں گے۔ پانچ بچوں نے ،جن کے اسم ِ گرامی یوںہے،سید کفایت اللہ گیلانی ، محمد عابد ڈار، سعاد ت سجاد، محمد شارق اور صفانہ لون نے راقم کے وٹس ایپ نمبر پر تصاویربھیجی۔ ان پانچ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تعریفی سرٹیفکیٹ وٹس ایپ کے ذریعے ارسال کی گئی۔ راقم کی کوشش رہتی ہے کہ ہر بار نئے طریقے سے بچوں کو پڑھایا جائے تاکہ قرآن کے تئیںان بچوں کی دلچسپی بڑھتی ہی جائے۔
9906685214