محمد تسکین
بانہال //جموں سرینگر قومی شاہراہ پر واقع ضلع رامبن کا پیڑاہ علاقہ پچھلی قریب ایک صدی سے محض ایک پڑاؤ نہیں بلکہ اپنے مزیدار اور لوگوں کے پسندیدہ کھانے کے اعتبار سے اب ایک شناخت بن چکا ہے۔ پیڑاہ کی مشہور اناردانہ چٹنی، خوشبودار راجماش چاول اور خالص دیسی گھی نے پیڑاہ کے اس حصے کو قومی شاہراہ کے مسافروں کے لیے ایک لازمی منزل بنا دیا ہے اور یہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مسافر اور سیاح رک کر روایتی ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔پیڑاہ کی سب سے بڑی پہچان اس کی اناردانہ چٹنی ہے، جو مقامی انداز میں تیار کی جاتی ہے اور کھانوں کو ایک منفرد کھٹا مٹھا ذائقہ عطا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ پیش کیے جانے والے راجماش چاول اور دیسی گھی کی خوشبو دور سے ہی مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے۔ قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے بیشتر افراد کے لیے پیڑاہ پر کھانا کھانا ایک روایت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔بیرون ریاستی سیاحوں اور جموں اور کشمیر وادی کے مسافروں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طویل اور تھکا دینے والے سفر کے دوران پیراہ کا پڑاؤ نہ صرف جسمانی تھکن دور کرتا ہے بلکہ یہاں کے کھانوں کا ذائقہ سفر کی یادوں کو بھی خاص بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیڑاہ میں راجماش چاول اور انار دانہ کی چٹنی کیلئے ہی رکتے ہیں اور وہ اپنے سفر کا وقت اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ پیڑا میں لازمی قیام ہو سکے اور یہاں کے ہوٹلوں سے بغلیہار ڈیم کا بھی نظارہ کیا جا سکے۔ کشمیر میں زیر تعلیم کٹھوعہ کی ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ برسوں سے پیڑاہ کے خالص اور روایتی کھانے کے بارے میں سنتی آرہی تھیں اور آج پہلی بار یہاں راجماش چاول اور انار دانہ کی چٹنی اور دیسی گھی کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کا موقع ملا ہے اور وہ یہاں کے ذائقہ اور خوشبو دار کھانے اور صفائی ستھرائی سے متاثر ہوئی ہیں اور کھانے کا مزہ آیا ۔ اتر پردیش کے ایک سیاح نے کہا کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے سیاحت اور امرناتھ یاترا کیلئے کشمیر آرہے ہیں اور ہر بار کھانا کھانے کیلئے پیڑاہ کا ہی انتخاب کیا ہے۔ مقامی ڈھابہ مالکان کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ پیڑاہ کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ نیشنل ہائے وے کو فورلین میں تبدیل کرنے کے بعد پیڑاہ کے بیشتر ہوٹل اور ڈھابہ مالکان نے وہاں سے اٹھنا پڑا ہے اور اب تقریباً تمام افراد نے نئی جگہوں پر اپنے کاروباری شروع کر رکھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیڑاہ میں لوگ صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ خاص ذائقے کے شوق میں رکتے ہیں اور بہت سے مسافر کہتے ہیں کہ انہوں نے پورے ملک میں کہیں بھی اتنا مزیدار راجما ش چاول نہیں کھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیڑاہ کی یہ بڑھتی ہوئی مقبولیت مقامی معیشت کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے اورپیڑاہ ، ناشری ، رام بن اور بٹوت اور ان کے اطراف کے درجنوں خاندان ہوٹلوں، ڈھابوں اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہو کر روزگار حاصل کر رہے ہیں ۔