قربانی ایک ایسا عمل ہے جو تا قیامت اُسی ایثار اور جذبے سے جا ری رہے گا جس کا تصور آج سے چار ہزار قبل حضرت ابراھیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ نے پیش کیا ۔ بیٹے کو خواب میں ذبح کر تے ہو ئے دیکھنا تھا کہ اس خواب کو سچ کر دکھانے میں باپ اور بیٹے نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر آزمائش پر پورا اترنے کی عملی کا روائی کی ۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراھیم ؑ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ بیٹے کی جگہ دنبہ ذبح کروا کر قیامت تک اس عظیم عمل کا حکم جا ری فرمادیا۔یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا و خوشنودی ، محبت و قربت ، ایثار اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو تا ہے ۔ ایک حدیث مبارکہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے دن بندوں کے اعمال میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل جانور کا خون بہانا ہے اور بندہ قیامت کے روز اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہو گا ، قربانی کا خون زمین پر گر نے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درجہ قبولیت حاصل کر لیتا ہے ، لہٰذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔(ترمذی )
حضرت ابو ہرہرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا : جو شخص استطاعت رکھنے، صاحب نصاب ہو نے کے باوجود قربانی نہیں کر تا وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے (ابن ماجہ ) الغرض حضرت ابراھیم ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو قربانی پیش کی تھی وہ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ اپنے عزیز ترین متاع کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر نے کی قربانی تھی ، آج ہمارے معاشرے میں بعض لوگ قربانی کو معاشی نقصان سمجھتے ہیں ، انکا خیال ہے کہ قربانی خواہ مخواہ رکھی گئی ہے ، کروڑوں روپئے خون کی شکل میں نالیوں میں بہہ جا تے ہیں ، لہٰذا قربانی پر جو رقم خرچ ہو تی ہے ، اس کو غریبوں میں تقسیم کیا جا ئے تاکہ وہ اپنی ضرورت کو پورا کر سکیں ۔ یہ پروپگینڈہ اتنی شدت سے کیا جا تا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس مسئلے میں الجھائو کا شکار نظر آتے ہیں کہ ہم قربانی کے بجائے اپنے غریب رشتہ داروں کی مدد کر دیں ، کسی فلاحی ادارے کو فنڈ نگ کردیں یا کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کر دیں تو اس میں کیا حرج ہے ؟ دوسرا اعتراض یہ کیاجا تا ہے کہ ایک ہی دن کروڑوں جانوروں کا خون بہانا ظلم ہے ، جانوروں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہو تی ہے ؟ یہ پروپگنڈہ عقل کے خلاف ہے ، معاشی بدحالی کا سبب ہے ، معاشی اعتبار سے اس کا کوئی جواب نہیں، یہ در حقیقت قربانی کے سارے فلسفے اور اس کی روح کی نفی ہے۔ کیونکہ قربانی کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ اپنی تمام تر خواہشات اور عقل کو شریعت کے تابع بنایا جا ئے ۔ آج انسانیت کی ذلت اور پستی کا ایک بڑا سبب بڑی عقل کی پیروی ہے ، استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کر نے والے پر آپ ؐ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے ، حتیٰ کہ اس کا عید گاہ کے قریب آنا بھی پسند نہیں فرمایا ۔ ہر سال قربانی کے دن آتے ہی دانشور انتہائی ہمدردی اور دل سوزی کے ساتھ یہ تجویز دینا شروع کر دیتے ہیں کہ قربانی پر جو وسائل خرچ ہو تے ہیں ان کوکسی فلاحی کام پر لگانا چاہئے ۔ بعض آزاد خیال لوگ قربانی کو جانور وں کے حقوق کی پامالی سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے ذہنوں میں عجیب و غریب شکوک پیدا کر تے ہیں ، یاد رکھیں ! قربانی ہر صاحب نصاب پر واجب ہے ، آپ رحمت العالمین ؐہیں ، انسان و حیوان ، شمس و قمر ، شجر و حجر غرض کائنات کے ذرے ذرے کے لئے رحمت ہیں ، وہ ہستی جو سراپارحمت ہے ،اس رحمت کائنات ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ قربانی کے دن جانوروں کا خون بہانے سے بہتر عمل ابن آدم کے لئے کوئی نہیں ، آپؐ نے مدینہ منور ہ کے اپنے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی کی ۔لہٰذا ! قربانی پر اعتراض کر نے والوں کو چاہئے کہ ایسے بے سر وپا سوالات اُٹھا اُٹھا کر امت مسلمہ کا ایمان خراب مت کریں تاکہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات کے مطابق زندگی گذاریں، قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اپنی بخشش کا پروانہ حاصل کریں تاکہ ہماری قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف حاصل کر سکے ۔